اگلے روز وزیر دفاع خواجہ آصف کا ایک ویڈیو کلپ نظر سے گزرا۔ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق سے درخواست کر رہے تھے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ویگو ڈالے کے داخلے پر پابندی لگائی جائے کیونکہ ویگو ڈالے کے سٹیرنگ پر بیٹھتے ہی چلانے والے کے دماغ کو کچھ ہو جاتا ہے اور وہ ایسے بُرے انداز سے ڈالے کو چلاتا ہے کہ خوف آتا ہے۔
خواجہ صاحب کی بات کا مفہوم یہ تھا کہ ویگو ڈالے کے سٹیرنگ پر بیٹھنے والا خود کو کوئی آسمانی مخلوق سمجھنے لگتا ہے۔ یہ بات اتنی غلط بھی نہیں کیونکہ گزشتہ چند سال کے دوران ویگو ڈالے کے کسی غیر مرئی خلائی مخلوق سے تعلق کے خوب چرچے رہے ہیں۔ شاید اسی تعلق کا اثر ہے کہ عام آدمی بھی ویگو ڈالے کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر خود کو خلائی مخلوق سمجھنے لگتا ہے۔
ویگو کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ کچھ زیادہ پرانی نہیں۔ پاکستان میں یہ گاڑی بیس بائیس سال قبل متعارف ہوئی تھی اور ایک مخصوص قسم کی سرگرمی کی وجہ سے اپنی ایک خاص شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ اسی مخصوص سرگرمی کی وجہ سے اس کی ایک عجیب سی دہشت بھی بن گئی ہے اور خاص طور پر سیاہ رنگ کے ویگو ڈالے کو دیکھ کر تو اچھے بھلے آدمی پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ویگو ڈالا نہ تو کار ہے اور نہ جیپ ہے بلکہ یہ منی ٹرک یا پک اپ کی قسم ہے لیکن اسے خریدنے والے عام طور پر دولت مند لوگ ہوتے ہیں جو اتنی مہنگی گاڑی کو ٹرک یا پک اپ کہنے میں شاید توہین محسوس کرتے ہیں، اس لیے نہ جانے انہوں نے کہاں سے ڈالا جیسا منفرد لفظ نکالا ہے جو باقاعدہ طور پر ایک ذومعنی لفظ ہے۔ شاید اسی لیے اس کے آخر میں ”الف“ کی بجائے ”ہائے مختفی“ ڈال کر ڈالہ بنا دیا جاتا ہے لیکن ”ڈالا“ کو ”ڈالہ“ لکھنا لسانی قواعد کی رو سے درست نہیں۔ بہتر ہے اس منی ٹرک یا پک اپ ہی کہا جائے۔
خواجہ آصف صاحب نے پارلیمنٹ لاجز میں ویگو ڈالے کی شکایت تو کر دی لیکن ان کا دھیان عام گلی محلوں اور سڑکوں پر دہشت پھیلانے والے موٹرسائیکلوں کے ویگو ڈالے کی طرف نہیں گیا ورنہ وہ ون ٹو فائیو نامی موٹر سائیکل کے بارے میں شاید اس سے بھی زیادہ سخت جذبات کا اظہار کرتے۔ یہ موٹر سائیکل بھی تقریباً اسی ذہنیت کے لوگ استعمال کرتے ہیں جس ذہنیت والے ویگو ڈالا پسند کرتے ہیں۔
ڈالے کے املا کا ذکر ہوا تو ہمارا دھیان یورپ کے خوب صورت ترین ملک سوئٹزرلینڈ کے اس پُرفضا مقام کی طرف بھی چلا گیا جہاں پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ اس شہر کا نام بھی گزشتہ دو روز کے دوران کئی طرح کے املا کے ساتھ سامنے آیا۔ پہلے اسے برجن سٹاک لکھا گیا، پھر یہ برگن سٹاک بنا، پھر علم برداران اردو نے اسے برگن اسٹاک بنا ڈالا اور پھر کچھ تحقیق پسندوں نے اسے برگن سٹاخ بنا دیا۔
اتنے نام سامنے آنے کے بعد ہمیں بھی اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی کہ دیکھا جائے درست لفظ کیا ہے کیونکہ پاکستان کی میزبانی میں ایران امریکہ معاہدہ ایک بہت بڑی تاریخی پیش رفت ہے اور آنے والے وقت میں یہ نام تاریخ اور نصاب کی کتابوں کا حصہ بنے گا اور ہمیں بار بار یہ نام استعمال کرنا پڑے گا۔ جہاں بھی اسلام آباد معاہدے کا ذکر ہو گا، وہیں اس شہر کا نام بھی آئے گا چنانچہ ہم نے گوگل کے ذریعے اس کے صوتی تلفظ کا کھوج لگانے کی کوشش کی تو کھلا کہ اوپر بیان کیے گئے ناموں میں سے ایک بھی درست نہیں۔
برگن سٹاک چونکہ سویٹزرلینڈ کا شہر ہے اس لیے اس کا اصل تلفظ تو وہی مانا جائے گا جو سویٹزرلینڈ میں بولا جاتا ہے اور وہ تلفظ ہے ”بِیر کِن شٹاک“ لیکن چونکہ ہم تک یہ لفظ انگریزی زبان کے ذریعے پہنچا ہے تو ہم اس کے انگریزی تلفظ کو ترجیح دیں گے اور وہ ہے ”برکنسٹاک“۔ اس لفظ میں انگریزی حرف ”جی“ کو اردو کے ”ک“ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ برگن سٹاک چونکہ مفرد لفظ ہے، دو الگ الگ لفظ نہیں ہیں، اس لیے اس میں ”س“ سے قبل ”الف“ گھسیڑنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔ اس لفظ کا املا ”برکن سٹاک“ نہیں بلکہ ”برکنسٹاک“ ہونا چاہیے۔
بات چل نکلی ہے لفظوں کی تو لگے ہاتھوں ایک اور لفظ پر بھی بات ہو جائے جو آج کل ہماری روزمرہ بول چال میں شامل ہونے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے اور وہ لفظ ہے ”خوارجین“۔ یہ لفظ خوارج کی ”جدید ترین“ شکل ہے اور مملکت خداداد پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کو تقریباً دوسال قبل فتنہ الخوارج قرار دیئے جانے کے بعد وجود میں آئی ہے۔ تاریخی طور پر خوارج باغیوں کو کہا جاتا ہے اور یہ لفظ خارجی کی جمع ہے جو اسم خارج سے مشتق ہے۔
اگر کوئی اوپر بیان کی گئی تفصیل کو سمجھ لے تو اسے کبھی خوارجین جیسے نئے الفاظ گھڑنے کی ضرورت پیش نہ آئے لیکن اپنے یہاں چونکہ پرانی تفصیلات پر توجہ دینے کا رواج نہیں رہا اور نئے راگ کے مطابق ساز بدلنے کا چلن عام ہے، اس لیے یار لوگوں نے خوارج کو واحد فرض کر لیا اور اس کی جمع خوارجین بنا لی۔ بات یہیں تک رہتی تو بھی ٹھیک تھا لیکن کچھ زیادہ پڑھے لکھوں نے خوارج کو جمع جانتے ہوئے اس کی واحد خوارجی بنا لی اور جمع کے طور پر ”خوارجیوں“ کا استعمال بھی شروع کر دیا۔ کچھ نے ان کی دیکھا دیکھی خارجی کو واحد مانتے ہوئے اس کی جمع خارجین بنا لی۔
اب اگر کسی کو یہ بتایا جائے کہ خارجی واحد ہے اور اس کی جمع خوارج ہے اور اردو میں کسی کسی جگہ خارجیوں بھی بطور جمع استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ باقی تمام الفاظ غلط ہیں چاہے وہ خارجین ہو، خوارجین ہو، خارجین ہو یا خوارجی ہو تو سامنے والا آپ کو چیٹ جی پی ٹی اور اے آئی کی مدد سے یہ سارے لفظ درست ثابت کر کے دکھا دے گا۔ اب آپ ہی بتائیے کہ ایسے میں آدمی کرے تو کیا؟۔
ویگوڈالا، برکنسٹاک اور خوارجین
09:05 AM, 23 Jun, 2026