آذر بائیجان کے شہر باکو میں چند دن! (پہلی قسط)

09:23 AM, 23 Jun, 2025

چند ماہ پہلے میں جاپان میں تھی۔ آذربائیجان کی ایک یونیورسٹی سے ڈاکٹر لطیفہ کی ای۔میل موصول ہوئی۔ انہوں نے مجھے ایک علمی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ ٹھیک ایک سال پہلے بھی مجھے یہ دعوت نامہ ملا تھا۔اس وقت میں نے خوشی خوشی ویزہ لگوایا۔ دیگر تیاریاں بھی مکمل تھیں۔ تاہم آذر بائیجان کا سفر میری قسمت میں نہیں تھا۔ آخری وقت پر کوئی رکاوٹ آڑے آگئی اور میں باکو نہیں جا سکی۔ کانفرنس میں البتہ میں نے آن۔لائن شرکت کی تھی۔ کسی محفل میں آئن۔لائن شرکت سے مجھے کچھ خاص رغبت نہیں ہے۔ بہ نفس نفیس کسی جگہ پر جانا۔ اجنبی لوگوں سے ملنا۔ ان کے خیالات و نظریات کو جاننا۔ ان کے حالات زندگی سے آگہی حاصل کرنا ۔ مجھے یہ سب کچھ کہیں زیادہ دلچسپ اور معلومات افزاءلگتا ہے۔ فقط علمی و ادبی گفتگو سننا مقصود ہو تو اس کے لئے درجنوں کتابیں اور سینکڑوں آن۔لائن لیکچر مل جاتے ہیں۔ بہرحال آذر بائیجان نہ جا نے کا مجھے کچھ افسوس تھا۔ 
اس مرتبہ بغیر کسی رکاوٹ کے تمام مراحل طے ہو گئے۔ البتہ جب ویزہ لگ کر آیا تو پتہ چلا کہ اس پر غلطی سے میری صنف ”عورت “کے بجائے”مرد“درج ہو گئی ہے۔ خیال آیا کہ اس مرتبہ سفارت خانے والے میرا پروگرام خراب کرینگے۔ تاہم ایک آدھ دن کے وقفے سے مجھے نیا ویزہ جاری ہو گیا۔ یوں یہ آخری رکاوٹ بھی دور ہو گئی۔ جب طے ہو گیا کہ مجھے د و دن بعد باکو کیلئے روانہ ہونا ہے تو گھر والوں کو آگاہ کیا۔ جب بھی مجھے سفر درپیش ہوتا ہے، میری دونوں بچیوں کے قیام کیلئے گھر مخصو ص ہیں۔ حفصہ اپنی خالہ عظمیٰ کیساتھ مانوس ہے۔ جبکہ حمنہ ہمیشہ اپنی بڑی خالہ کے گھر ٹھہرتی ہے جسے وہ”اماں“کہہ کر بلاتی ہے۔ میری بچیاں چند ماہ کی عمرسے اپنی خالاو¿ں کے گھر رہنے کی عادی ہیں۔ میں نے اس روٹین پر کبھی غور نہیں کیا تھا ۔ لیکن دوست احباب کے بار بار پوچھنے ، توجہ دلانے اور حیرانگی کا اظہار کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ معمول کی صورتحال نہیں ہے۔ یہ یقینا ایک بڑی سہولت ہے جو میری بہنوں کی وجہ سے مجھے میسر ہے۔ 
 آذر بائیجان کے دارلحکومت باکو جانے کیلئے میں نے قومی ائیر لائن کا انتخاب کیا تھا۔ پی۔آئی۔ اے نے چند ماہ پہلے باکو کیلئے براہ راست پروازیں شرو ع کی ہیں۔ آپ قومی ائیر لائن کو لاکھ برا بھلا کہیں۔ اس کی سروس میں سو کیڑے نکالیں۔ تاہم اس کا فائدہ دیکھئے کہ یہ ہمیں دوسرے ملکوں کے ہوائی اڈوں پر گھنٹوں پڑاو (stop-over) کی زحمت سے بچا کر انتہائی مختصر وقت میں اپنی منزل مقصود تک پہنچا دیتی ہے۔ نہایت غنیمت ہے کہ آپ لاہور سے چلیں اور ساڑھے چار گھنٹے بعد باکو جا اتریں۔ کسی دوسرے ملک جانا ہو تو اپنی صنف کے پیش نظر ٹکٹ کنفرم کرواتے وقت میں ہمیشہ یہ احتیاط ضرور کرتی ہوں کہ فلائیٹ دن کی روشنی میں اس ملک میں اترے اور واپس چلے۔ پی۔آئی۔ اے کی باکو کی فلائیٹ کی ٹائمنگ اس ضمن میں بہت اچھی ہے۔ یہ دن کے وقت روانہ ہوتی ہے اور دن کی روشنی میں باکو اترتی ہے۔ آذربائیجان میں پاکستان کے سفیر محترم قاسم محی الدین صاحب سے باکو میں میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی دوسری ائیر لائنوں کے مقابلے میں قومی ائیر لائن کی ٹائمنگ کے اس مثبت پہلو کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ 
وقت مقررہ پر میں لاہور ائیر پورٹ پہنچی۔ چیک ان کیا۔ سامان جمع کروانے کے بعد امیگریشن کاونٹر کے سامنے لگی قطار میں کھڑی ہو گئی۔ یہاں ضرورت سے زیادہ وقت لگا۔ میری باری آئی تو آفیسر نے وہی روائتی سوالات دہرائے۔ آپ کیا کرتی ہیں؟۔ باکو کیوں جا رہی ہیں؟۔ کتنے دن قیام ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ ا س کے سوالات ختم ہوئے تو اپنی عادت کے مطابق میں نے بھی اس سے کچھ سوالات کئے۔ مثلا یہ کہ یہاں ا تنی سست رفتاری سے کام کیوں ہو رہا ہے۔ ایک مسافر کی کلیئرنس میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس بھلے آدمی نے مسافروں کے ہجوم کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ یہ سب آذر بائیجان جانے والے مسافر ہیں۔ ان کی خصوصی جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔کہنے لگا کہ آذربائیجان سے مسلسل شکایات مل رہی ہیں کہ لوگ جعلی دستاویزات پر سفر کر تے ہیں۔ بہت سوں کو دھوکہ دہی سے نوکری اور پکے ویزے کا جھانسہ دے کر بلایا جاتا ہے۔ یہ لوگ وہاں جا کر خوار ہوتے ہیں یا پھر غیر قانونی طور پر مقیم ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ہم آ ذر بائیجان جانے والوں کی کڑی پڑتال کرتے ہیں۔ اس آفیسر کی مہربانی کہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر گیا۔ میری دستاویزات کی خود تصدیق کروائی اور مجھے اندر جانے دیا۔ 
فلائیٹ وقت پر تھی۔ میرا خیال تھا کہ یہ پرواز آذربائیجان جا رہی ہے تو اس کی صورتحال بہتر ہو گی۔ تاہم یہ قیاس غلط ثابت ہوا۔ جہاز میں داخل ہوئی تو اس کی خستہ حالی عیاں تھی۔ گھسی، پٹی نشستیں تھیں۔ جو نشست مجھے ملی وہ باقاعدہ اندر کی جانب دھنسی ہوئی تھی۔ سمجھیں کہ سیٹ کے درمیان ایک چھوٹا سا گڑھا تھا۔ دوسری ائیرلائنوں سے سفر کریں تو ہمیں in flight اینٹرٹینمنٹ میں مختلف ممالک کی فلمیں دیکھنے کی سہولت ملتی ہے۔ یہاں ایسا کوئی اہتمام نہیں تھا۔ بریانی کے چند لقمے لے کر کھانا واپس رکھ دیا۔ خیال آیا کہ کسی ڈھابے کی بریانی بھی ذائقے میں اس سے بہتر ہوتی ہے۔ 
جب بھی پی۔ آئی۔ اے میں سفر کریں تو خیال آتا ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ سارے ایشیا میں ہماری قومی ائیر لائن کا ڈنکا بجا کرتا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے پی۔آئی ۔اے سے دو طیارے لیز پر لے کر ایمریٹس ائیر لائن کا آغاز کیا تھا۔ ہمارے پائلٹوں اور انجینئروں نے ایمریٹس کے پائلٹوں اور تکنیکی عملے کی تربیت کی اور انہیں تکنیکی معاونت فراہم کی تھی۔ آج ایمریٹس ائیر لائن آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ عمدہ معیار اور سروس کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ جبکہ پی۔آئی۔اے قرضے اور خسارے کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہے۔ افسوس کہ اس کی نجکاری کی بات چلی تو کسی نے اس کی خریداری میں دلچسپی تک ظاہر نہیں کی۔اس سارے قصے میں پی۔ آئی۔ اے کے پائلٹوں کی تعریف ہونی چاہیے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ یہ نہایت عمدگی سے جہاز کو ٹیک آف اور لینڈ کرتے ہیں۔ وقت پر (اور اکثر و بیشتر وقت سے پہلے)مسافروں کو منزل مقصود پر پہنچا دیتے ہیں۔ باکو جاتے ہوئے ہمارے جہاز کو موسم کی خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاز نے اسقدر تیز جھٹکے لئے کہ مجھے محسوس ہوا کہ یہ میرا آخری سفر ہے۔ عادت میری یہ ہے کہ سفر پر جانے سے پہلے میں احتیاطا ًاپنی چیک بک کے کچھ خالی صفحات پر دستخط کر کے رکھ آتی ہوں۔ ایک پرچے پر بنک اکاو¿نٹ کی کچھ تفصیلات وغیرہ بھی درج کر آ تی ہوں۔ خیال آتا ہے کہ زندگی موت کی کوئی خبر نہیں۔ اس مرتبہ بھی میں نے ایسا ہی کیا تھا۔ تاہم پرواز کی ناہمواری کے دوران میرا ذہن کسی اور طرف نہیں گیا، مجھے صرف اپنے بچوں کا خیال آیا ۔ بہرحال کچھ دیر بعد فلائیٹ ہموار ہو ئی تو میں نے جان بچنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ 
باکو ائیر پورٹ پر اتری تو مجھے خیال آیا کہ اپنی ماں کو اپنے پہنچنے کی اطلاع دے دوں۔ برسوں سے میرا یہی معمول رہا ہے۔ پھر اچانک مجھے یاد آیا کہ میری ماں کو تو اس دنیا سے رخصت ہوئے چار سال ہوگئے ہیں۔ اسکے بعد نیم دلی سے گھر پر اپنے پہنچنے کی اطلاع دی اور امیگریشن ائیریا کی طرف بڑھی ۔امیگریشن کاو¿نٹروں پر مسافروں کی طویل قطاریں لگی تھیں۔ میں بھی ایک قطار میں لگ کر کھڑی ہوگئی۔ اتنے میں آذر بائیجان میں پاکستانی سفارت خانے کے کونصلراتاشی عمر فاروق صاحب کی کال موصول ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ وہ ہوائی اڈے پر پہنچ چکے تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ امیگریشن ائیریا میں موجود تھے۔ وہ مجھے وی۔ آئی۔ پی۔ کاو¿نٹر پر لے گئے۔ خاتون امیگریشن آفیسر نے میرے دورے سے متعلق دو تین سوالات کئے اور پاسپورٹ پر ٹھپا لگادیا۔ ہم سامان لے کر باکو کے حیدر علییو انٹر نیشنل ائیر پورٹ سے باہر آئے تو باکو شہر اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ سامنے تھا۔ موسم بے حد حسین تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ہم گاڑی میں بیٹھے اور ہوٹل کی سمت روانہ ہو گئے۔  (جاری ہے)

مزیدخبریں