ایک بار حج کے موقع پر ایک صحابی نبی پاک کی خدمت میں پیش ہوئے اور عرض کی کہ آج میں نے کندھوں پر اٹھا کر اپنی والدہ کو حج کروایا ہے اس وقت صحابی کے چہرے پر خوشی کی جھلک بہت نمایاں تھی تو نبی پاک نے اس موقع پر فرمایا :تم ایک حج کی بات کرتے ہو تم تو ماں کے ۔۔۔اپنے ہاتھوں سے ایک رات دی اس کا حساب زندگی بھر نہیں دے سکتے ۔ حج کی سعادت تو بہت دور کی بات ہے۔ جبکہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ماں باپ کی اس طرح خدمت کرو جس طرح انہوں نے بچپن میں تمہاری خدمت کی تھی اور ان کو اف تک نہ کہو۔ آج ہم درندگی سفاکی، بے ایمانی اور حیوانگی کے دور سے گزررہے ہیں یہاں دولت، گھربار ،جائیداد نے گھروں کو تقسیم کرکے رکھ دیا وہاں ماں باپ جیسے نازک رشتوں کو بھی پامال کرکے رکھ دیا ہے آئے روز ہم سفاک اولادوں کے کردار کے بارے سوشل میڈیا آئے روز ان دردناک واقعات کی بوچھاڑ ہورہی ہے کہ جائیداد کی خاطر فلاں نے ماں باپ کو قتل کردیا۔ آپ ان اداروں میں جائیں جہاں نافرمان اولادوں نے اپنے والدین کو گھربدرکردیا جو ان کو اپنا تن من دے کر اس سطح تک لے کر آئے کہ وہ دنیا میں کوئی مقام حاصل کرلیں تو انہوں نے ماں باپ کے بل بوتے پر حاصل کرلیا شدید بختی یہ کہ جائیداد نے ان کی آنکھوں کے آگے پٹی باندھ دی اور وہ انہی کو قتل کرتے ہیں جن کی وجہ سے اس دنیا میں آئے روزانہ کتنی سفاک اولادیں جنہوں نے گھناو¿نے قدم اٹھائے ہیں دنیا میں جہنم کی زندگی اپنے نام کرڈالی۔ماں باپ اپنے تئیں اپنی اولادوں کیلئے تمام نوجہاں قربان کردیتے ہیں ان کو کیاخبر کہ یہی بدبخت بدلا دیں ان کی آخرت رول دیں گی۔
گزشتہ دنوں ہماری مشہور زمانہ اداکارہ اپنے کرائے کے گھر میں مردہ پائیں گئیں اس افسوسناک خبر کے پیچھے کیا کہانی ہے اس بارے مختصر بتاتاچلوں کہ عائشہ آپا جو کہ لیجنڈ اداکارہ تھیں وہ چھ دن سے اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں تھیں اور کسی کو علم ہی نہ ہوسکا کہ ہم ایک بڑی اداکارہ سے محروم ہو گئے۔ کہانی کچھ یوں ہے جو عینی شاہدوں نے بتائی کہ....
اچھا ہوا عائشہ آپا مر گئی ان کاایک بیٹا کراچی ڈیفنس۔ دوسرا اسلام آباد کے بڑے فارم ہاو¿س میں رہتا ہے ۔
ہے ناں بڑی عجیب بات۔۔۔۔بھلا کسی کے مرنے پے کوئی اس طرح کہتا ہے۔۔۔۔؟لیکن عائشہ آپا کو تو مرے ہوئے کئی برس گزر گئے تھے۔ بس ہوا یہ ہے ان کی ” ڈیڈ باڈی “ گزشتہ دنوں ملی ہے۔ ایک فلیٹ میں جہاں وہ کئی برسوں سے بھوت بن کر رہ رہی تھیں لیکن یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ زمانوں سے یہ ہورہا ہے ان کا ایک بیٹا اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ کراچی ڈیفنس خیابان بحریہ میں چار کنال کے وسیع محل نما گھر میں خوش وخرم زندگی گزار رہا ہے جبکہ دوسرا بیٹا اسلام آباد میں جس کا چک شہزاد میں آٹھ کنال کافارم ہاو¿س اور بحریہ میں لگژری کوٹھی اور کراچی میں کروڑوں روپے مالیت کی پراپرٹی اور دونوں بیٹوں کی ماں۔۔۔۔۔۔ کا یہ حال.... عائشہ آپا۔۔۔۔ ہمیشہ سے ایسی نہیں تھیں۔ یہی کوئی دس پندرہ برسوں پہلے نہ جانے ا±ن کے من میں کیا سمائی سب بچوں کو کال کرکے بلایا، اپنی ساری جائیداد بچوں کے نام کردی۔ اس کے بعد وہی ہوا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا اور ان جیسوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔۔۔ آخر کیوں نہیں ایسے ماں باپ کو عقل آتی۔۔۔۔؟کس کس کا نام لوں۔۔۔۔؟عائشہ آپا کی اولادجائیداد لے کرصرف چند مہینوں میں ہی ان سے ا±کتا گئی۔ عائشہ آپا ایک دن طلعت حسین (مرحوم) کے آگے پھٹ پڑیں۔ زار و قطار روتے ہوئے کہنے لگیں کہ دن میں کئی کئی بار سارے بچوں کو فون کرتی ہوں لیکن وہ کال اٹینڈ ہی نہیں کرتے ،کبھی کبھار اٹھا بھی لیتے۔۔۔ تو کہتے۔۔۔ دو منٹ ٹھہریں ابھی کال کرتا ہوں اور وہ دو منٹ پہلے گھنٹوں پھر دنوں پھر ہفتوں مہینوں پر محیط ہوجاتے ہیںعائشہ آپا۔۔۔۔ فون ہاتھ میں پکڑے انتظار کرتی رہ جاتیں۔ کبھی کبھی تو ساری رات انتظار کرتے گزر جاتی لیکن کسی ایک. کا بھی فون نہیں آتا.... ابھی کوئی پندرہ برس پہلے ہی کی تو بات ہے جب عائشہ آپا نے بے حد شوق سے پراڈو TZ گاڑی لی۔ شوق سے خود چلاتی ہوئیں طلعت حسین کے گھر آئیں، کیک اور مٹھائی لانا نہ بھولیں پھر وہ ہوتیں اور کراچی کی سڑکیں، اپنے غریب حلقہ احباب اور رشتے داروں کو کبھی نہیں بھولیں۔ چند برس پہلے۔۔۔ جب تک انہوں نے اپنی جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم نہیں کی تھی۔ ڈائری پر ترتیب سے دنوں کی تقسیم یعنی باقاعدہ شیڈول بنا رکھا تھا۔ روزانہ کسی نہ کسی غریب اور نادار کے گھر جانا، ان کے لئے راشن اور نقدی، بچوں کے سکولوں کی فیسیں، نہ جانے کتنے نادار خاندانوں کے تو باقاعدہ وظیفے لگے ہوئے تھے پھر ایک دن۔۔۔۔۔ سب کچھ بدل گیا۔ اپنی جائیداد اپنے بچوں کے نام کر دی پھر۔۔۔ اس کے بعد۔ اس لئے ہی کہہ رہا ہوں کہ اچھا ہوا سانس کی ڈوری ٹوٹی تو انہیں یقیناً سکون مِل گیا ہوگا کیونکہ وہ جس طرح ساری ساری رات اپنے فلیٹ کے باہر بے چینی سے ٹہلتی رہتیں ب±ڑبڑاتی رہتیں۔۔۔ تھک کے چ±ور ہو جاتیں تو نیچے بیٹھ جاتیں۔۔۔ پھر ان سے ا±ٹھا نہیں جاتا تھا۔ اب تو وہ اچانک چیخیں مار کر رونے لگ جاتیں۔ جب انہیں اپنی اس حالت کا خود احساس ہوتا ایک دم سے چ±پ کر جاتیں۔ پڑوسی بیچارے ان کے قریب آتے تو یہ انہیں زور سے ڈانٹنا شروع ہو جاتیں لیکن گزشہ کافی دنوں سے وہ اس احساس سے بھی عاری ہوتی جا رہی تھیں۔ کچھ ہفتوں سے انہوں نے رات کو بھی فلیٹ سے باہر آنا چھوڑ دیا، کبھی کبھار چند منٹوں کے لئے دکھائی دیتیں پھر پاو¿ں فریکچر کروا بیٹھیں ۔۔۔ پھر خاموشی۔ اس بار جب خاموشی خاصی طویل ہو گئی اور پھر جب فلیٹ سے عجیب سی بدبو بھی آنے لگی۔۔۔! عائشہ آپا کو تنہائی نے مار دیا۔ سبق سیکھنا چاہئے جب تک آپ کے ہاتھ پاو¿ں ٹھیک کام کر رہے ہیں، جائیداد بچوں کے نام نہ کیجئے۔ چاہے وہ کتنے ہی ترلے کریں۔ جس دن جائیداد نام کی، سمجھیں آپ نے ہاتھ پاو¿ں کٹوا لئے۔ اب سوکھی عزت بھی نہیں ملنی، وقت تو چھوڑ ہی دیں۔
اور آخری بات....
ان بدبخت اولادوں کے نام ایک ہی بات کرتا چلوں کہ مت جائیداد اور دولت کی خاطر عائشہ آپا کو مارو....دنیا میں ہرقیمت پر ہرچیز خریدی جاسکتی ہے مگر ماں باپ کاکوئی مول نہیں تم نے دنیا تو کمالی مگر آخرت میں کس منہ سے والدین کا حساب کتاب دو گے تم نے اپنی عائشہ آپا کو نہیں مارو تم نے ایک ماں کا قتل کیا ہے ماں جو سب کی ماں ہوتی ہے ....اللہ تعالیٰ عائشہ آپا کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے (آمین)
بدبخت اولاد نے آپا عائشہ کو ماردیا
09:11 AM, 23 Jun, 2025