تعلیم حکومت کی ترجیح کیوں نہیں؟

09:04 AM, 23 Jun, 2025

حالیہ بجٹ سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ صحت، تعلیم، پانی، توانائی اور سماجی بہبود جیسے اہم شعبوں کے بجٹ میں کمی نے ریاست کی ترجیحات کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ خاص طور پر وفاقی بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے مختص رقم 35 ارب روپے سے کم کر کے 22 ارب روپے جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت تعلیمی منصوبوں کا بجٹ 83 ارب سے کم کر کے 63 ارب روپے کیا گیا ہے۔ اسی طرح پانی سے متعلق منصوبوں کے لیے فنڈز 135 ارب روپے سے کم ہو کر 109 ارب روپے رہ گئے ہیں۔ پانی، صحت اور تعلیم بنیادی ضروریات ہیں جن کے حصول کے لئے حکومت سنجیدہ نہیں۔ کوئی بھی ملک تعلیم پر اپنی جی ڈی پی کا کتنا حصہ خرچ کرتا ہے اس سے اس ملک کی تعلیم سے متعلق سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ عام طور پر ترقی یافتہ ممالک اپنی جی ڈی پی کا 4 سے 6 فیصد تعلیم پر خرچ کرتے ہیں جبکہ سیکنڈے نیوین ممالک میں ناروے اپنی جی ڈی پی کا 7 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ پاکستان پر نظر دوڑائیں تو شرمندگی کا سامنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں تعلیم پر جی ڈی پی کا 0.8 فیصد خرچ کیا گیا جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ ہمارے ملک میں شرح خواندگی اس وقت تقریباً 59 فیصد ہے جو کہ جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔ جہاں پر 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 26 ملین بچے اسکول سے باہر ہوں، جہاں 67 طالب علموں کو صرف ایک استاد میسر ہو، جو ملک دنیا میں پرائمری اسکول میں اساتذہ کی شدید کمی کے باعث آٹھویں نمبر پر ہو، اس ملک کا تعلیم کا بجٹ دیکھ کر انسان پریشان نہ ہو تو کیا۔ المیہ ہے کہ پرائمری ایجوکیشن کا تو جو حال ہے ہی مگر اعلیٰ تعلیم کے حصول کو ناممکن بنایا جا رہا ہے۔ ہر سال اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں اضافے کی بجائے وفاق اس میں کمی کر رہا ہے۔ گزشتہ برس اعلیٰ تعلیم کے لئے 65 ارب روپے مختص کئے گئے جسے بڑی کٹوتی کے بعد 39.5 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں سرکاری اور نجی کل ملا کر 269 یونیورسٹیاں ہیں۔ جن کا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کو اپ گریڈ کر کے ہائر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی) بنایا گیا۔ ایچ ای سی کو فنڈز بھی بے حساب دیا گیا۔ تاہم اٹھارویں ترمیم کے بعد این ایف سی ایوارڈ کے تحت تعلیم کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوا، مگر یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے تقررکی اہلیت اور نصاب کو جدید خطوط پر استوارکرنے کی ذمے داری ایچ ای سی کے پاس ہی رہی۔ ایچ ای سی کی سکالر شپ پر ہونہار طلبہ بیرون ممالک سے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر کے وطن واپس آئے اور ملک میں یونیورسٹیوں میں تعلیم اور ریسرچ کے کلچر کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ صدر زرداری کی 2008 میں حکومت آئی تو ایچ ای سی کے فنڈز پر بھاری کٹوتی کا آغاز ہوا۔ پھر آنے والی ہر حکومت نے اس کام میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ صورتحال اس نہج پر آگئی ہے کہ ہائر ایجوکیشن بری طرح زبوں حالی کا شکار ہے جس کا اثر سرکاری یونیورسٹیوں کے مالی معاملات پر بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ محدود وسائل سے اعلیٰ تعلیم کا حصول متوسط طبقہ کے لئے مشکل ہو گیا ہے۔ اب اگر صوبائی سطح پر بھی دیکھیں تو تعلیم کا بجٹ بہت زیادہ پ±رکشش نہیں ہے۔پنجاب نے مالی سال 2025-26 کے کل 5 ہزار 33 ارب روپے کے بجٹ میں سے تعلیم کے لیے 811 ارب مختص کئے ہیں جبکہ سندھ نے 3 ہزار 51 ارب کے بجٹ میں تعلیم کے لئے 523.73 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ اسی طرح خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 26-2025 کے کل 2119 ارب کے بجٹ میں سے تعلیم کے لیے 363 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ جبکہ بلوچستان نے 1028 ارب روپے حجم کے بجٹ میں سے 28ارب روپے تعلیم کے لئے رکھے ہیں۔ اب اگر آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کے تعلیمی بجٹ کا بریک ڈاو¿ن دیکھیں تو آپ حیرت زدہ ہو جائیں گے۔ پنجاب کا اعلیٰ تعلیم کا بجٹ سندھ 
اور خیبرپختونخوا سے بھی کم ہے۔ پنجاب کا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا بجٹ 39 ارب روپے جبکہ سندھ کا 42 ارب 29 کروڑ 72 لاکھ روپے اور خیبرپختونخوا کا 50 ارب روپے ہے۔ لیکن ایک بات کی داد تو بنتی ہے۔ دیگر صوبائی حکومتیں پنجاب کو تشہیر کے معاملے میں مات نہیں دے سکتیں۔ تعلیمی اسکیموں کے لئے مختص بجٹ میں سے پنجاب حکومت 30 ارب لیپ ٹاپ اور سکالرشپ کی مد میں خرچ کرے گی۔۔ چند اضلاع میں سرکاری اسکولوں میں دودھ اور کھانے کی فراہمی پر 7 ارب سکول میل پروگرام پر خرچ ہونگے۔ حکومت کی ترجیحات ملاحظہ فرمائیں کہ لیپ ٹاپ اسکیم کا بجٹ پورے صوبے کی یونیورسٹیوں کے بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر لیپ ٹاپ اور دیگر دکھاوے اور شوبازی پر اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے توجہ پرائمری سے لیکر اعلیٰ تعلیم پر دی جائے تو متوسط طبقے کو فائدہ پہنچتا۔ بات صرف یہیں نہیں رکی بلکہ ٹیکس دہندگان کے خون پسینے کی کمائی سے مریم نواز کے نام پر 2 ارب روپے سے مریم نواز انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ کوئی ہے جو جا کر یہ پوچھنے کی جرات کرے کہ بی بی عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے آپ اپنے نام سے منسوب ادراے کیسے بنا سکتی ہیں۔ ملک میں نہ جمہوریت ہے اور نہ ہی خواجہ آصف کا کہا گیا ہائبرڈ نظام۔ پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے مگر افسوس کہ ان کی تعلیم و تربیت پر خرچ کردہ بجٹ بے رحمی کی حد تک کم ہے۔ تعلیم کے شعبے میں سہولیات کا فقدان ہے جبکہ حالیہ بجٹ میں اصلاحات کی بجائے دکھاوے کو ترجیح دی گئی ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس ملک کی نوجوان نسل کے پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ ہونے پر منحصر ہے۔ تاہم بجٹ میں تجویز کردہ اعداد و شمار کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ برسرِ اقتدار ایسا کچھ نہیں چاہتے۔ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور قوم حکمرانوں کے ایوانوں کو ہلا سکتی ہے۔ اپنے حقوق اور ٹیکس کے پیسوں کے غلط استعمال پر حکومت کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہے۔ حکمران اسی شعور سے ڈرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کو ترجیح دینا ان کی سوچ میں کہیں جگہ بنا نہیں پاتا۔ ایک ان پڑھ قوم ہی اس ملک کے حکمرانوں کا سرمایہ ہے اور اس سرمائے کو وہ کسی طور گنوانے کا رسک نہیں لیں گے۔

مزیدخبریں