مسٹر ٹرنک سے ملاقات

09:03 AM, 23 Jun, 2025

وہ میرا زمانہ طالب علمی کا دوست ہے، ہم کبھی ایک کلاس یا ایک سکول کالج میں نہیں پڑھے کیونکہ وہ مجھ سے عمر میں دوگنا ہے۔ مجھے جس سکول کی نرسری میں داخل کرایا گیا وہاں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے درجن بھر غیر ملکی بچے بھی تھے۔ دو چار برس بعد ہم اس قابل ہو گئے کہ خود چل کر سکول جا سکیں یوں قریب قریب رہنے والے بچے ایک چھوٹی سی ٹولی کی شکل میں آتے جاتے نظر آتے۔ سکول کے راستے میں ایک ماڈرن کھوکھا تھا جسے آج کل مارٹ کہا جاتا ہے۔ ہم کبھی کبھار وہاں رک کر چاکلیٹ ، آئس کریم اور ایسی ہی اپنی پسندیدہ چیزیں خریدتے کچھ عرص بعد مالکان نے مارٹ ختم کر دی اور اسے ایک برگر پوائنٹ بنا دیا۔ اس برگر پوائنٹ پر کیش کے لین دین کیلئے ایک لمبا تڑنگا گورا چٹا امریکن لڑکا نظر آتا جو ہر آنے جانے والے سے قدرے بدتمیزی سے پیش آتا۔ اس دور میں ہمارے بچگانہ گروپ کا دل پسند مشغلہ ایسے لوگوں کے نام رکھنا تھا پس اس حوالے سے ایک بچے کے گھر خصوصی اجلاس ہوا جس میں مختلف لوگوں کے مختلف نام رکھے گئے۔ برگر والے شخص کا نام رکھنے کی باری آئی تو میں نے اس کا نام ”بغلول“ تجویز کیا۔ سب بچوں نے پوچھا اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ میں نے ان کے علم میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس لفظ کا تعلق برصغیر کے کلچر سے ہے یہاں بغلول اور چول بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہ دکھائے جا سکتے ہیں لیکن سمجھائے نہیں جا سکتے۔ اس پر امریکی، فرانسیسی، جاپانی، چینی، عربی اور افریقی بچوں نے اعتراض کیا کہ یہ نام بین الاقوامی دنیا میں مبہم رہے گا بیشتر کو اس کا مطلب سمجھ نہیں آئے گا نام جو بھی رکھا جائے وہ معنی خیز ہونے کے ساتھ ساتھ عام فہم بھی ہونا چاہئے پھر اتفاق رائے سے اس شخص کا نام ”ٹرنک“ رکھا گیا۔ یہ ٹرنک اردو پنجابی والا یعنی بکسا نہیں بلکہ انگریزی والا یعنی ”سونڈ“ کے معنوں میں ہے کیونکہ جس شخص کیلئے یہ نام تجویز ہوا تھا اس کے ہاتھ اس کے قد کے مطابق بہت لمبے تھے، وہ اپنے کرسی پر بیٹھے بیٹھے دور پڑی ہوئی چیزیں یوں اٹھا لیتا تھا جیسے ہاتھی اپنی سونڈ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں قریب گھسیٹ لیتا ہے۔ اجلاس ختم ہونے کے بعد جس شخص کا جو نام رکھا گیا تھا اس سے علاقے کے ہر گھر کو مطلع کر دیا گیا۔ چند برسوں میں ٹرنک فیملی کے کاروبار نے خوب ترقی کر لی۔ آج یہ امریکہ کی ایک مشہور برگر چین ہے۔ اس خاندان کے لوگ رئیل سٹیٹ بزنس میں آگئے، انہوں نے خوب فراڈ کئے اور بہت دولت مند بن گئے پھر وہ امریکہ کی سیاست میں آگئے، آج میرے دوست ٹرنک کا امریکی سیاست میں اہم مقام ہے۔ اس میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں۔ اب وہ پہلے سے زیادہ بدتمیز، منہ پھٹ اور مطلب پرست بن چکا ہے۔ ہم میں سے بیشتر دوست اس سے دور ہو گئے۔ گزشتہ ماہ میں نے اپنے ایک بدترین اور طاقتور مخالف کو جوڈو کراٹے مقابلے میں شرمناک شکست دے کر بلیک بیلٹ جیتی تو میری شہرت دنیا کے کونے کونے تک جا پہنچی۔ میرے دوستوں نے اس کامیابی کے بعد مجھے میرے نام کی بجائے چیف صاحب کہہ کر پکارنا شروع کر دیا ہے۔ میں بھی اپنا یہ نیا نام سن کر بہت خوش ہوتا ہوں۔ اب میری چال ڈھال میرے اطوار میرے انداز چیفانہ ہیں۔ میرے دوست مجھے مارشل بھی کہتے ہیں۔ میرے چرچے بڑھے تو میرے بچپن کے دوست ”ٹرنک“ نے مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے ڈھونڈ نکالا اور امریکہ آنے کی دعوت دی۔ میں نے اس میں زیادہ دلچسپی نہ لی لیکن ہمارے گروپ کے ایک رکن نے اصرار کیا کہ وہ اتنے پیار سے بلا رہا ہے تو ہمیں ملنے کیلئے جانا چاہئے، اس پر میں نے حامی بھر لی۔ اپنے ایک ہم نام کے علاوہ میں نے رفیق دیرینہ اور رشتہ دار کھٹمل شاہ کو بھی ساتھ چلنے کو کہا۔ کھٹمل شاہ کا اصل نام تو کچھ اور ہے لیکن اسے بچپن سے ہی خون نکالنے خون بہانے اور خون چوسنے کا شوق ہے لہٰذا میں نے اس کا نام کھٹمل شاہ رکھ دیا، وہ بھی اس نام پر خوش ہوتا ہے۔ میں نے اپنے دوستوں کو یاد کرایا کہ ٹرنک بچپن ہی سے بدتمیز اور بدچلن ہے لہٰذا ذہنی طور پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کیلئے تیار رہیں۔
ہم دعوتی پروگرام کے مطابق واشنگٹن ڈی سی ٹرنک کے گھر پہنچے تو بدتمیزی کا آغاز ہو گیا۔ گھر کا گیٹ نمبر 1 بند تھا، ہمیں گیٹ نمبر ٹو سے بلایا گیا، ہماری گاڑی دو ر پارک کرائی گئی پھر ہمیں پیدل چل کر کافی دور تک جانا پڑا، وہ کم بخت گھر کے صدر دروازے پر ہمارے استقبال کیلئے بھی موجود نہ تھا، مجھے غصہ آنے لگا، ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا گیا، میں نے اس کے ملازم سے پوچھا ٹرنک صاحب کہاں ہیں تو اس نے جواب دیا صاحب کافی دیر سے واش روم میں ہیں، انہیں گرین موشن آرہے ہیں اور وہ کافی دنوں سے اسی کیفیت میں ہیں، میں نے پوچھا کب سے تو اس نے بتایا کہ جس دن اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا، اس دن تک تو وہ ٹھیک تھے لیکن اگلے روز ان کی طبیعت بگڑنا شروع ہوئی اور ہر آنے والے دن کے ساتھ بگڑتی ہی جا رہی ہے، میں نے پوچھا کسی اچھے ڈاکٹر کو نہیں دکھایا۔ یہ معاملہ تو ایک دو روز میں ٹھیک ہو جانا چاہئے، ہمارے غیر ترقی یافتہ ملک میں کسی ایسے گھر میں یہ معاملہ ہو جائے تو بغیر کوئی دوا کھائے، صرف تین ٹائم دہی استعمال کر لیا جائے تو پیٹ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ میری بات سن کر ملازم نے جواب دیا سر ”ٹرنک صاحب“ کا جو فیملی ڈاکٹر ہے، وہ دنیا کا مشہور ترین ڈاکٹر ہے، اس کا نام ہے ڈاکٹر ”یاھو“ ہم ٹرنک صاحب کو اس کے پاس لے کر گئے تو معلوم ہوا ڈاکٹر یاھو صاحب کا تو ٹرنک صاحب سے زیادہ برا حال ہے۔ ٹرنک صاحب تو ہر دو گھنٹے بعد واش روم جاتے ہیں، ڈاکٹر صاحب کو ہرآدھ گھنٹے بعد واش روم جانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگر وہ وہاں پہنچنے میں کچھ تاخیر کر دیں تو پتلون خواب ہونے کے ساتھ ساتھ صوفہ یا بیڈ بھی خراب ہو جاتا ہے۔ اب تو نوبت یہ آگئی ہے کہ ہم نے پتلونیں، صوفہ اور بیڈ کی چادریں بدلنے کیلئے اضافی سٹاف رکھ لیا ہے۔ مجھے یہ سب جان کر بہت تشویش ہوئی ، میں نے ملازم سے کہا کیا دنیا میں صرف ڈاکٹر یاھو ہی ایک ڈاکٹر رہ گیا ہے۔ (جاری ہے)
 ڈاکٹر صاحب کو کسی اور بڑے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہئے بلکہ ٹرنک صاحب کو اپنے ساتھ لے جا کر کسی اور ڈاکٹر کو دکھانا چاہئے۔ ملازم کہنے لگا سر آپ کی بات تو ٹھیک ہے لیکن یہ باتیں ٹرنک صاحب کی کھوپڑی میں اس وقت تک نہیںآتیں جب تک وہ خود کوئی تجربہ نہ کر لیں اور اپنے تجربے کے نتیجے میں اپنا اور دوسروں کا کوئی بڑا نقصان نہ کر لیں۔ ملازم نے بتایا کہ ٹرنک صاحب فون پر کسی کو کہہ رہے تھے کہ کسی روسی یا چینی ڈاکٹر سے بات کی جائے تاکہ مسئلہ حل ہو سکے، میں نے کہا ٹھیک ہے یہ بھی کر دیکھیں پھر میں نے ملازم سے کہا کہ جاﺅ دیکھو ٹرنک صاحب واش روم سے باہر آگئے ہیں تو انہیں ہماری اطلاع کرو، ملازم جانے کیلئے پلٹا تو رک کر کہنے لگا سر ٹرینک صاحب کو یہ نہ بتائیے گا کہ میں نے آپ کو ان کی بیماری کے بارے میں بتایا ہے۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں