پاکستان کے ساتھ ساتھ پنجاب نے گزشتہ چار برس میں جو شاندار ترقی کی ہے اس کی روشن دلیلیں تو ہر طلوع ہوتے سورج کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہیں لیکن موسم برسات جو کہانی سناتا ہے اس کا متبادل کچھ نہیں۔ تمام تر ترقی کے باوجود اگر کوئی سمجھتا ہے کہ برسات کی جھڑی لگ جائے، نشیبی علاقوں میں جھیلیں نہ بن جائیں، انڈر پاسز میں کندھوں تک پانی نہ جمع ہو، پانی سڑکوں سے گلیوں اور گلیوں سے سفر کرتا گھروں میں نہ داخل ہو، بجلی کا نظام درہم برہم نہ ہو، بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ نہ آئے، ان سے چمٹ کر بھینس اور بھینسوں کے مالک نہ مریں، گٹر نہ ابلیں، ان کے ڈھکن غائب ہونے سے بچے، بوڑھے مرد اور خواتین ان میں گر کر نہ مریں، گھروں کی چھتیں نہ گریں۔ روزمرہ زندگی کی ضرورتوں کی چیزوں کی قیمتوں کو پر نہ لگیں۔ زندگی غیر معمولی حالات سے دوچار نہ ہو اور معمول کے مطابق رینگتی رہے تو اس کا مطلب ہے ایسے پاکستانی ایسی سوچ رکھنے والی نسل ترقی کے مفہوم سے نہ آشنا ہے۔
ہر موسم برسات نئی کہانیاں نئی تباہ کاریاں لے کر آتا ہے، کچھ بھی پرانا نہیں ہوتا لیکن پرانی باتیں پرانے لوگ اور ان کی پرفارمنس یاد آتی ہے۔ آج پاکستان میں پرانا وزیراعظم نہیں ہے، اسی طرح پنجاب میں پرانا وزیراعلیٰ بھی نہیں ہے۔ دونوں منصب نئی شخصیات نے سنبھال رکھے ہیں لیکن دونوں ہمارے آپ کے لئے نئے نہیں ہیں مگر دونوں نیک دل ہیں۔ پنجاب اور خصوصاً لاہور میں ہونے والی طوفانی بارش کے بعد کوئی پرانا وزیراعلیٰ ہوتا تو سفید کاٹن کا سوٹ پہن کے کالے رنگ کے اپنی لینڈ کروزر نکالتا، مختلف سڑکوں کا جائزہ لیتے لیتے ایک بس سٹاپ پر رُکتا، گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے بارش میں بھیگتی سیاہ برقعے میںملبوس خواتین سے پوچھتا آپ اس گھنی بارش میں بھیگ رہی ہیں، مجھ سے یہ دیکھا نہیں جا رہا۔ آپ نے جہاں جانا ہے میں آپ کو آپ کی منزل تک پہنچا دیتا ہوں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق دونوں برقع پوش چھلانگ لگا کر گول مٹول وزیراعلیٰ پنجاب کی لینڈ کروزر میں بیٹھ جاتیں۔ وزیراعلیٰ کے سٹاف اس منظر کی کوریج کرنے والی میڈیا ٹیم کو خبر تک ہوتی کہ برقعے کے اندر دو خواتین نہیں تھیں بلکہ دو نئے ہٹے کٹے مرد تھے۔ دونوں برقع پوش کہاں ڈراپ ہوتے ہیں، کیمرہ یہ منظر نہیں دکھاتا۔
پنجاب میں اگر کوئی سپیڈو سپیڈ وزیراعلیٰ ہوتا تو فل بوٹ چڑھائے سر پر چھتری تانے کیمیکل کلر کی شرٹ پہنے اور سفید پتلون کے پائنچے چڑھائے تیز تیز انگلی ہلاتے پانی کو حکم دیتا کہ وہ شام سے پہلے نشیبی علاقوں سے نکل جائے پھر وہ اپنے سٹاف کو ہدایت کرتا کہ اگر کمر سے اونچا پانی بندے کا پتر نہ بنے تو انہیں اس امر سے آگاہ کیا جائے بلکہ فوری کارروائی کرتے ہوئے پانی کو معطل کر دیا جائے۔ آج پنجاب میں گول مٹول وزیراعلیٰ ہے۔ نہ سپیڈو سپیڈ وزیراعلیٰ بلکہ ایک خاتون وزیراعلیٰ ہیں، ان کی مجبوری ہے وہ لینڈ کروزر میں بیٹھ کر خود ڈرائیو کرتے ہوئے کسی بس سٹاپ پر رک کر کسی نوجوان سے یہ نہیں کہہ سکتیں وہ یہ بھی آفر نہیں کر سکتیں کہ آئیے میں آپ کو وہاں ڈراپ کر دوں جہاں آپ کو پہنچنا ہے۔ مادام وزیراعلیٰ کی ایک اور مجبوری یہ ہے کہ وہ پائنچے چڑھا کر گہرے پانیوں میں بذات خود اتر کر پانی کا مزاج پوچھیں اور پانی نہ اترنے پر اسے معطل کرنے کی دھمکی دیں۔ آج کل شلوار کے چھوٹے اور تنگ پائنچوں کا رواج ہے۔ پائنچے کا سائز چوری دار پاجامے سے ذرا سا بڑا ہے لہٰذا انہیں اوپر چڑھانا ممکن نہیںہوتا پھر بھی اگر کوئی خاتون انہیں اونچا چڑھانا چاہے تو کس قدر اونچا کر سکتی ہے البتہ آستینیں چڑھانے میں کسی کو کل مشکل تھی نہ آج مشکل ہے۔ نوجوان نسل کے مرد و زن میں ایک قدر مشترک ہے۔ مردوں کی جینز اور خواتین کے پائنچے ایک ہی سائز کے نظر آتے ہیں۔ دونوں لباس چوڑی دار پاجامے کے فرسٹ کزن لگتے ہیں۔ فرسٹ کزن سے یاد آیا۔ سرکار کے ایک اہم فرسٹ کزن اپنے کزنوں کے سبب دنیا بھر کے اخبارات کی شہ سرخیوں اور ٹی وی ٹاک شوز کا موضوع رہے پھر اچانک سبب کچھ منظر سے غائب ہو گیا۔ پہلے اس واقعے پر امریکہ اسرائیل ایران جنگ نے پردہ ڈالا۔ اب سب کچھ برسات کی جھڑی اور قدرتی جھیلوں میں گم ہو جائے گا پھر کسی کو یاد بھی نہ رہے گا کہ کون کس کی ریڈ لائن تھا بھی یا نہیں۔ سب کچھ سبز بلکہ سرسز ہو جائے گا۔
سپیڈو سپیڈ ترقی کرتے پاکستان میں کبھی زندگی کی گاڑی رواں دواں رکھنے کیلئے پٹرول کی قیمتیں ایک ماہ کیلئے مقرر کی جاتی تھیں۔ ترقی کی ایک منزل طے ہوئی تو پندرہ روز شیڈول سامنے آیا۔ اب یہ قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کی جائیں گی۔ اس فیصلے سے اندازہ کیا جا سکتا کہ پندرہ روزہ یا ایک ماہ کیلئے شاک برداشت کرنے کی طاقت کم ہوکر بس ایک روز پر آرکی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ٹرانسپورٹر پٹرول پمپ مالکان کے ساتھ ساتھ عام آدمی بھی ہے، ان کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ فیصلہ واپس لینا پڑے گا، اس کے بغیر گزارا نہیں ہو گا۔
چار برس میں یوں تو درجنوں بریکنگ نیوز سامنے آئی ہیں لیکن بڑی خبر کو پہلے خطے کی جنگ اور پھر برساتی پانی میں غرق کرنے کی کوشش کی گئی۔ خبر یہ ہے کہ پاکستان کو ایک ”ارجنٹ پیس آف ورک“ کیلئے دس ارب ڈالر کی ضرورت پیش آتی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے اپنے سب سے قریبی دوست امریکہ سے اس رقم کا تقاضا کیا ہے۔ اتنا بڑا قرض تو ٹرمپ کسی اٹھارہ سالہ مس یونیورس کو نہ دے ہم تو خیر سے سترے بہترے ہو چکے ہیں۔ اس قرض یا مدد مانگنے کا ایک فائدہ یہ ہو گا کہ نہ ملنے کی صورت میں ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے ادھار مانگا ، امریکہ نے نہ دیا۔ بس اب ہم اس سے ناراض ہو رہے ہیں کیونکہ جو دوست مشکل وقت میں ادھار یا نقد امداد نہ دے اس کی دوستی کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکہ ہم سے ناراض ہونے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔
ناراض ہونے کے بہانے
09:41 AM, 24 Jul, 2026