میڈیائی اور سوشل میڈیائی حکما 

09:48 AM, 24 Jul, 2026

مجموعی طور پر عالمی سیاست کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت کا موجود نہ ہونا بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ مبصر کیا ہے ، تجزیہ کار کیا ہوتا ہے ، اس کے لیے کن بنیادی علوم کا جاننا ضروری ہے اور کن شعبوں میں سپشلائزیشن کے بعد کسی شخص کو کس خاص میدان میں تجزیہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے ؟ یہ نکات نہایت اہم اور توجہ طلب ہیں۔ ہماری جامعات میں قائم کردہ میڈیا سٹڈیز کے شعبوں کو ان حوالوں سے مضبوط حکمت عملی تیار کرنی چاہیے تاکہ اعلیٰ پائے کے مبصرین، تجزیہ کار اور نقاد پیدا کیے جا سکیں۔ یہی مبصرین اور تجزیہ کار ہماری پالیسی سازی کو متاثر کرتے ہیں اور قوم کا نظریہ قائم کرنے میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہر نقاد سوچ کے پیٹرن بناتے ہیں اور کسی معاملے کو پرکھنے کی کسوٹی دریافت کرتے ہیں اور اس کے مسائل کے حل ڈھونڈنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہم اس سارے عمل میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ ہم نے دھڑے بند جذباتی لوگوں کو ماہر مبصرین بنا کر میڈیا کی زینت بنائے رکھا جس کی وجہ سے جذباتیت اور اشتعال عوام کے مزاج کا حصہ بنتے چلے گئے۔ اسی بنیاد پر ہم نے معاشرہ سازی میں غلطیاں کی ہیں۔ ہمارا معاشرہ قبیلوں اور قوموں کی ذیلی تعریفوں میں تقسیم شدہ ہے۔ اسے متحد کیے بنا قومی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ جب قوم مل کر کسی عمل کا حصہ نہ بنے یا سب کے مفاد کو متحد نہ کر دیا جائے تب تلک کیسے ممکن ہے کہ پورے مادی اور انسانی وسائل سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہو۔ عارضی فائدوں اور غیر حقیقی تجزیوں نے ہماری خارجہ پالیسی کو بھی بڑی طرح متاثر کیے رکھا ہے۔ اگر آپ ماضی کے افغان جہاد سے لے کر آج کے بیانیے تک نظر دوڑائیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہمیں پالیسی سازی میں کتنی بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ جذباتی ، اشتعال انگیز اور جنونی طبقات کی پیدائش کا مطلب ملک میں ہر سطح کے فتنہ و فساد کے سہولت کار پیدا کرنا یا ہونے دینا ہے۔ ایسے افراد تاریخ کا کوئی ایک موڑ گزرنے کے بعد سلیپنگ سیل بن کر موجود رہتے ہیں اور بعد ازاں ہر شورش اور ہر فتنے میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ 
ترقی کی پہلی شرط یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمیں اپنے معاشرے کو محفوظ، پر امن اور اصول پسند بنانا چاہئے۔ اس میں پائی جانے والی دھڑے بندیوں، منافرت اور تقسیم کو ختم کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں اچھے مبصرین، ناقدین اور تجزیہ کاروں کی ضرورت ہے جو قوم کی نظریہ سازی کریں لوگوں کو سوچنے کا ہنر سکھائیں اور غیر جذباتی انداز میں کسی بھی تاریخی یا موجودہ صورت حال کا محاکمہ کرنے کی تربیت بھی دیں۔ سپیکر قلم یا سکرین کو اناڑی، شر پسند، جذباتی اور متعصب لوگوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب اس دور کی سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی سہولت نے ہر کس و ناکس کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی میدان میں اپنی ماہرانہ رائے کی بوچھاڑ شروع کر دے۔ پہلے یہ اختیار سپیکر کی شکل میں فقط مذہبی طبقات کے پاس تھا اب سوشل میڈیا کے معرض وجود میں آنے کے بعد انجینئر، ڈاکٹر، پلمبر ، مستری، حجام اور فری لانسر سب کے سب مفتی اور مبصر بن کر میدان میں کود پڑے ہیں۔ پاکستان میں خصوصاً سیاسی اور مذہبی تبصروں کے لیے ضابطے وضع کرنا ضروری ہیں۔ اس ضمن میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر تبصروں کے لیے قانون سازی کی بھی ضرورت ہے۔ 
تعلیمی اور جمہوری نقط نظر سے بہتر راستہ یہ بھی نہیں کہ ہر رائے کو قانونی طور پر محدود کیا جائے، کیونکہ اس سے آزادیِ اظہار متاثر ہو سکتی ہے۔ زیادہ مو¿ثر طریقہ یہ ہے کہ جامعات سیاسی تجزیے کے مختصر کورس متعارف کرائیں۔
میڈیا ادارے اپنے تجزیہ کاروں کے لیے پیشہ ورانہ ضابط اخلاق بنائیں۔ عوام میں میڈیا لٹریسی اور تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کو فروغ دینا چاہیے۔ ناظرین اور قارئین کو یہ سکھانا چاہیے کہ کسی تجزیے کی جانچ کن اصولوں پر کرنی ہے۔ کارل پوپر کے مطابق ایسا دعویٰ ہی علمی ہے جسے غلط ثابت کرنے کا امکان موجود ہو۔ پوپر نے نظریے کو سائنسی طور پر پیش کرنے اور اسے پرکھنے پر زور دیا۔ اس صورت میں مبصر یا تجزیہ کار کی اپنے نظریے سے جذباتی وابستگی نہیں ہوتی بلکہ وہ اسے توثیق یا تردید کے لیے پیش کرتا ہے۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ ہر سیاسی دعوے کے ساتھ کم از کم تین چیزیں لازمی ہوںمستند ماخذقابلِ تصدیق اعداد و شمارتاریخی یا قانونی پس منظر بغیر ثبوت کے کوئی بات "رائے" ہوگی، "تجزیہ" نہیں۔ اگر ہم نے سوشل میڈیائی تبصروں اور فتووں کو بے لگام چھوڑ دیا تو یہ سماج میں منافرت، انتشار اور بگاڑ پیدا کرے گا۔ اس سلسلے میں بنائے گئے قوانین کا اطلاق بھی نہایت ضروری ہے۔ اگر قانون یا ضابطے کا اطلاق نہیں ہوتا تو اس کے ثمرات قطعاً حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

مزیدخبریں