بازیچہ اطفال 

09:40 AM, 24 Jul, 2026

محترمہ نورین نیازی کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جو ہے تو پرانی لیکن پھیل اب رہی ہے جس میں انہوں نے مئی 2025 کی جنگ اور معرکہ حق کے حوالے سے بیان دیا کہ یہ مودی اور افواجِ پاکستان کا رچایا ایک ڈرامہ تھا، بھارت خود رک گیا ورنہ مودی دو دن میں پاکستان کو فکس کر سکتا تھا۔ اور کہا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کے قریب تھا، پھر اسی ویڈیو میں انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کا ذاتی خیال ہے۔ یہ سب انہیں کسی نے بتایا نہیں ہے یہ ان کی اپنی عقل ہے۔ آئیے اب ذرا اس بیان کا تفصیلی اور تنقیدی جائزہ لے لیتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جو باتیں محترمہ نے کیں وہ اگر کسی انٹیلی جنس سورس سے حاصل کردہ ہوتیں تو ان کی کوئی ت±ک بھی بنتی اب چونکہ یہ محترمہ کی اپنی سوچ ہے جو سراسر بے بنیاد اور من گھڑت خام خیالی پر مبنی ہے اس لیے اس کا ردی کی ٹوکری میں جانا بنتا ہے کیونکہ پوری دنیا اس بیان کے برعکس کھڑی ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ جنگ میں کس کا پلڑا بھاری رہا اور کس نے کس کو کتنا ”فکس“ کیا۔ (اربابِ اختیار کو اب کچھ لوگوں کو فکس کرنے کی شدت سے ضرورت ہے) محترمہ نے اپنے اندرونی خلفشار اور فرسٹریشن کو نکالنے کے لیے اعتراض برائے اعتراض کرتے ہوئے بنیان مرصوص میں افواجِ پاکستان کی شاندار کامیابی کی نہ صرف ہتک کی بلکہ اپنی ملک دشمنی کو بھی عیاں کیا۔ اب آئیے ذرا محترمہ کے دعوے کو دلائل سے غلط ثابت کرتے ہیں۔ 
Us china economic and security review 2025 کی رپورٹ نے مئی کے معرکے پر اپنا تجزیہ پیش کیا، جو اخباروں میں بھی چھپا اور بھارتی چینلز پر پراوین سانی بھی اس کا حوالہ دیا کرتا ہے۔ رپورٹ کے من و عن الفاظ کچھ اس طرح سے ہیں کہ چار روزہ جنگ میں پاکستان کی فوجی برتری اورچینی ہتھیاروں کی کامیابی ظاہر ہے۔ 
پاکستان نے جو بھارتی جہاز گرائے اس کی تصدیق CNN نے کی۔ بھارتی چینل PTC پنجابی نے خبر نشر کی، بٹھنڈا میں گرے ہوئے جہاز کی لوگوں کی بنائی ہوئی ویڈیوز موجود ہیں، کشمیر میں گرے ہوئے جہاز کی خبر ABP نیوز کے رپورٹر نے موقع پر موجود ہو کر نشر کی۔ جلے بھنے جہاز کی لاش کے پاس کھڑے رپورٹر کی کوریج غالباً موصوفہ کی نظر سے گزری نہیں۔
نو مئی کو رائٹرز اور واشنگٹن پوسٹ نے بھارتی رافیل گرنے کی خبر کی تصدیق کی۔ اور یہ دونوں غیر ملکی خبر رساں ادارے نہ کبھی غیر مصدقہ خبر نشر کرتے ہیں نہ ہی متعصبانہ رائے رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ تو ہر لحاظ سے مصدقہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کے کس بل نکال دیے تھے۔ پھر اس جنگ کے بعد رونما ہونے والے واقعات بھی قابل غور ہیں۔ پاکستان کی جیسے جیو پولیٹیکل پروفائیل بہتر ہوئی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ جو امریکہ ہمیشہ پاکستان کے ساتھ “کیرٹ اینڈ سٹک پالیسی ”پہ چلتا رہا آج اسی امریکہ کا صدر ببانگِ دہل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو میرا پسندیدہ فوجی کمانڈر کہتا ہے۔ (کیرٹ اینڈ اسٹک پالیسی کہتی ہے کہ خود سے کمزور ملک کو گاجر دکھاو¿ اور خاطر تواضع ڈنڈے سے کرو، صدر جانسن اور روزولٹ کے نادر خیالات کتابوں میں موجود ہیں آپ چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں) پھر جب دنیا عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی تو پاکستان وہاں ثالث بنا اور بھارت کو کسی نے گھاس تک نہیں ڈالا۔ اور اب پاکستان لیبیا کے 2011 سے جاری سیاسی بدامنی اور انتشار کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ قرآن کہتا ہے وتعزو من تشاو و تزل من تشاو۔ اور یہ بھی کہتا ہے اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اب پوری دنیا کچھ اور کہہ رہی ہے اور آپ کی عقل کچھ اور کہہ رہی ہے ایسے میں میرا مزید کچھ کہنا بے سود ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ پاکستان کو ہی فاتح لکھا جائے گا۔ اب چاہے کسی کی عقل تسلیم کرے یا نہ کرے حقیقت یہی ہے کہ پاکستان نے خود سے بڑے ملک کو شاندار شکست سے دوچار کیا اور دنیا اس کی گواہ ہے۔ 
اقوام کے لیے دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے لیے ان کی عزت اور آبرو سب سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے، ملک مر کٹ جاتے ہیں نظریات سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹتے لیکن آپ کے نزدیک بھارت اپنی ازلی دشمنی کو بھلا کر عالمی ذلت کا ڈھول گلے میں ڈال کر صرف ایک ڈرامہ رچانے کی خاطر پیٹتا رہا؟ اور آپ بنا کسی ثبوت کے بلاجواز من گھڑت ارشادات فرما رہی ہیں محترمہ ایسی بھڑاس ٹی وی لاو¿نج میں نکالا کرتے ہیں ٹی وی پر آ کے نہیں۔ مانا آپ کے لیے ایک قیدی بہت اہم ہے لیکن وہ اتنا اہم نہیں کہ بھارت 288 ملین ڈالر کا فی کس طیارہ ڈرامہ رچانے اور دنیا کے سٹیج پہ اپنی تضحیک کروانے کے لیے گروا لے۔ ذاتی رائے اور دشمنی اور شے ہوا کرتی ہیں اور حقائق اور شے۔۔۔۔ ایسے زہر آلود بیان دینے سے صرف آپ کا اندرونی خلفشار چھلکے گا اور کچھ نہیں ہونے کا۔
آپ اداروں پہ بے بنیاز من گھڑت الزامات لگانے کی بجائے اپنی ناقص عقل اپنی جماعت کی سول سرچنگ پہ لگائیں کہ آپ سے کیا غلطیاں ہوئیں کہ آج آپ اس نہج پہ کھڑے ہیں۔

مزیدخبریں