کولمبیا یونیورسٹی نے فلسطین کے حق میں مظاہرے کرنے والے طلبہ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر دیا

02:53 PM, 23 Jul, 2025

واشنگٹن : امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی نے ان طلبہ کے خلاف سخت تادیبی اقدامات کا اعلان کیا ہے جو فلسطین کی حمایت میں مظاہروں میں شامل تھے۔ تقریباً 80 طلبہ کو ایک سے تین سال تک معطل کرنے یا یونیورسٹی سے نکالنے کے نوٹس دیے گئے ہیں، جبکہ بعض کی ڈگریاں بھی منسوخ کی جا رہی ہیں۔

یہ کارروائی ایسے وقت کی گئی ہے جب یونیورسٹی اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان 400 ملین ڈالر کی وفاقی فنڈنگ کی بحالی پر بات چیت ہو رہی ہے۔ ٹرمپ حکومت نے اس فنڈنگ کو روک دیا تھا کیونکہ وہ ان مظاہروں کو مسئلہ سمجھتی تھی۔

یونیورسٹی نے کہا ہے کہ تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے اور کمیونٹی کے لیے احترام قائم رکھنے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سب کو ادارے کے قوانین اور اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔

کولمبیا یونیورسٹی میں گزشتہ سال اپریل میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاج ہوئے تھے، جو ملک کی کئی یونیورسٹیوں میں بھی پھیل گئے تھے۔ اس دوران طلبہ نے کیمپس میں احتجاجی کیمپ بھی لگائے تھے۔

ایک سابق طالب علم اور سماجی کارکن محمود خلیل کو بھی فلسطین حمایت کے مظاہروں کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا، جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کی ہے۔

ٹرمپ دور میں کئی امریکی یونیورسٹیوں کی فنڈنگ میں کمی کی گئی ہے، خاص طور پر ان اداروں کی جنہیں سام دشمنی یا دیگر حساس معاملات کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

مزیدخبریں