اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کی اصلاحات کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نظام کی بہتری خوش آئند ہے، لیکن اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات کے اہداف کے حصول کے لیے اقدامات کی تکمیل وقت پر ہونی چاہیے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرا اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایف بی آر کی اصلاحات، ان کے نتائج اور گزشتہ مالی سال کے اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کی جدید اصلاحات کی بدولت ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں 2024 کے مقابلے میں 1.5 فیصد کا تاریخی اضافہ ہوا۔ مزید برآں، ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد 45 لاکھ سے بڑھ کر 72 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
ایف بی آر کے فیس لیس کسٹمز کلیئرنس سسٹم کے تحت نہ صرف ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوا بلکہ آئندہ تین ماہ میں کلیئرنس کا وقت 52 گھنٹے سے کم ہو کر 12 گھنٹے رہ جائے گا۔ اسی طرح، ریٹیل سیکٹر سے بھی اضافی 455 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اصلاحات کی کامیابیوں کو سراہا اور ایف بی آر کے حکام کو مزید اقدامات کرنے کی ہدایت دی تاکہ اصلاحات کا عمل تسلسل سے جاری رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ غیر رسمی معیشت کے خاتمے کے لیے انفورسمنٹ میں مزید اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیکس نظام کی اصلاحات کا مقصد نہ صرف ملکی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے بلکہ عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا بھی ہماری اولین ترجیح ہے۔