سچ کے آئینے میں جھوٹی دنیا

09:12 AM, 23 Jul, 2025

کبھی فرصت ملے تو کسی شرابی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھئے،وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کو ہنسی میں اڑا دیتا ہے،زخموں کو ہنسی کا پیرہن پہناتا ہے اور بے نیازی ایسی کہ جیسے کل قیامت بھی نہ آنی ہو۔۔۔اس کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں بچتا،کوئی حسرت باقی نہیں رہتی اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ آپ کو چند لمحوں میں یہ باور کرا دیتا ہے کہ زندگی دراصل اتنی مشکل نہیں جتنی آپ  نے بنا لی ہے۔۔۔۔کچھ دیر کسی فقیر،سادھو یا دنیا چھوڑ دینے والے سنیاسی کے ساتھ گزاریں،دل چاہے گا کہ سب کچھ ان کے قدموں میں ڈال دیں کیونکہ وہ مال و دولت کی قید سے آزاد ہیں،وہ اپنے حال میں خوش ہیں اور ہم؟ ہم روز جیتے ہیں،روز مرتے ہیں،پھر بھی نا مکمل،پھر بھی بے چین۔۔۔ ۔کبھی کسی چرب زبان سیاست دان کے قریب بیٹھیں،آپ محسوس کریں گے کہ جو کچھ آپ  نے سچ مانا تھا،وہ محض فریب تھا۔۔۔وہ بڑے اعتماد سے جھوٹ بولے گا،ایسے جیسے یہ جھوٹ نہیں بلکہ وحی ہو۔۔۔آپ سوچیں گے کہ آپ نے زندگی بھر جو سچائیوں کا پرچار کیا،جو کتابیں پڑھیں،جو اصول اپنائے،وہ سب بیکار گئے۔۔۔کبھی کسی لائف انشورنس ایجنٹ کے دفتر میں بیٹھ جائیں،وہ اتنے حساب کتاب سے بتائے گا کہ مرنے کے بعد آپ کے بچوں کو کیا فائدہ ہو گا کہ دل چاہے گا فوری طور پر مرنے کا پلان بنا لیا جائے۔۔۔کاروباری حلقوں میں جائیں تو یوں محسوس ہو گا جیسے آپ کی محنت،آپ کی تنخواہ،آپ کا خون پسینہ صرف وقت کا ضیاع ہے کیونکہ وہ ہر جملے میں منافع کا ایسا زاویہ پیش کریں گے کہ آپ کی جمع پونجی ریت میں پانی کی طرح بہتی دکھائی دے گی۔۔۔اسی طرح اگر سائنسدانوں کی بات سنیں تو لگے گا کہ دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی اور ہم ابھی تک مٹی کو سونا بنانے  کے خواب دیکھ رہے ہیں۔۔۔ایک اچھے استاد سے ملیں تو لگتا ہے جیسے علم کا دریا اب بھی بہ رہا ہے مگر ہم پیاسے ہی مر گئے۔۔۔گویا،انسان جو عینک پہنتا ہے،دنیا اسے ویسی ہی دکھائی دیتی ہے۔۔۔اور یہی وہ المیہ ہے جو آج کے پاکستانی معاشرے کو نگل رہا ہے۔۔۔ہم  نے زمینی حقائق کی عینک اتار کر ہر شخص کے ہاتھ میں تعصب،مفاد،فرقہ پرستی اور اندھی تقلید کی عینک تھما دی ہے۔۔۔نتیجہ یہ ہے کہ ہر شخص دوسرے کو غلط دیکھ رہا ہے مگر آئینہ دیکھنے کی ہمت کسی میں نہیں۔۔۔ہم ایک ایسے ملک میں جی رہے ہیں جہاں فقر بھی دکھاوا ہے،سیاست بھی تماشا ہے،دیانت داری بھی کاروبار ہے اور مذہب بھی محض نعرہ۔۔۔۔ہر چیز کی قیمت لگ چکی ہے،یہاں تک کہ ضمیر بھی نیلام ہو رہا ہے۔۔۔۔ہمارے لیڈر وہ آئینے ہیں جو خود دھندلے ہو چکے ہیں۔۔۔انہیں نہ قوم کا حال دکھائی دیتا ہے،نہ مستقبل کی فکر۔۔۔عوام سے خطاب کرتے ہوئے وہ ایسے لہجے میں بات کرتے ہیں جیسے وہ فرشتے ہوں اور عوام گناہگار۔۔۔مگر ان کی نشستیں،ان کی زبان،ان کا لباس،ان کی دولت،ان کی جائیدادیں اور ان کے فیصلے چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اقتدار کو خدمت نہیں،کاروبار سمجھتے ہیں۔۔۔۔ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والے،دراصل ایک ہی کنویں کے مینڈک ہیں جو اپنے فائدے کے لیے عوام کو تقسیم کیے رکھتے ہیں۔۔۔۔کبھی غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ہمارے تمام سیاسی قائدین اپنے اپنے حلقوں میں قوم کے مسیحا بنے بیٹھے ہیں مگر قوم کی نبض کسی نے نہیں دیکھی۔۔۔۔تعلیم کا حال یہ ہے کہ ہم آج بھی اردو اور انگریزی میں الجھے ہوئے ہیں۔۔۔سرکاری سکولوں میں بچے چھت کے بغیر پڑھتے ہیں اور حکمرانوں کے بچے غیر ملکی یونیورسٹیوں میں ’’قوم کی خدمت‘‘ سیکھتے ہیں۔۔۔۔صحت کی حالت یہ ہے کہ ایک غریب کو پیناڈول کے لیے بھی سفارش چاہیے جبکہ خواص کے لئے ہر شہر میں وی آئی پی وارڈز قائم ہیں۔۔۔۔عجیب تماشہ ہے،جو چور ہے وہ امیر ہے،جو سچ بولتا ہے وہ جیل میں ہے،جو لٹیرے ہیں،وہ اسمبلیوں میں ہیں اور جو ایماندار ہے وہ سڑک پر دھکے کھا رہا ہے۔۔۔۔کیا یہی وہ پاکستان تھا جس کے لیے لاکھوں جانیں قربان ہوئیں؟کیا یہی وہ خواب تھا جس کی تعبیر علامہ اقبالؒ  نے دیکھی تھی؟ہمارے نوجوان بے روزگار،مایوس اور فکری انتشار کا شکار ہیں۔۔۔کسی کو یوٹیوب پر فالوورز چاہئیں،کسی کو ٹک ٹاک پر لائکس،کسی کے لیے سیاست صرف نعرے بازی ہے،کسی کے لیے مذہب محض منبر کا ہتھیار۔۔۔۔ان حالات میں ہم کہاں جا رہے ہیں؟ہم  نے سچ بولنے والوں کو دیوار سے لگا دیا،ہم  نے وہ آوازیں خاموش کر دیں جو ہمیں آئینہ دکھاتی تھیں۔۔۔۔اب ہر طرف چاپلوسی،مصلحت اور مفاد پرستی کا راج ہے۔۔۔ہم  نے قوم کو قبیلوں،لسانی گروہوں،مذہبی فرقوں اور سیاسی جماعتوں میں بانٹ دیا ہے۔۔۔ہمارے پاس سب کچھ ہے مگر شعور نہیں۔۔وسائل ہیں مگر دیانت نہیں،جذبے ہیں مگر سمت نہیں۔۔۔۔ حکومتیں بدلتی ہیں،نظام وہی رہتا ہے۔۔۔چہرے بدلتے ہیں،کردار وہی رہتے ہیں۔۔۔۔اپوزیشن ہو یا اقتدار،سب کا ہدف ایک ہی ہوتا ہے’’مفاد،اقتدار اور وسائل پر قبضہ‘‘ عوام کے لیے صرف نعرے،وعدے اور جلسے رہ جاتے ہیں۔۔۔۔کوئی ان سے پوچھے کہ پچھلے انتخابات میں جو وعدے کیے تھے،کیا وہ وفا ہوئے؟اور اگر نہیں ہوئے تو پھر آج کے وعدوں پر کون یقین کرے گا؟مگر سچ یہ ہے کہ ہم سوال کرنا بھول چکے ہیں،ہم صرف زندہ لاشوں کی طرح چلتے جا رہے ہیں۔۔۔ہم  نے اپنے معاشرتی اور اخلاقی معیار کھو دیے ہیں۔۔۔ہم نے جھوٹ کو سچ بنا لیا ہے اور سچ کو جرم۔۔۔ہمیں وہ قوم بنا دیا گیا ہے جو ہر سانحے پر دو دن روتی ہے اور تیسرے دن معمول پر آ جاتی ہے۔۔۔ہم وہ لوگ بن گئے ہیں جو قبر پر پھول بھی رکھتے ہیں اور اسی مٹی میں دفن ہونے والوں کو بھول بھی جاتے ہیں۔۔۔۔اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی عینک بدلنی ہو گی۔۔۔ہمیں دنیا کو ویسا دیکھنا ہو گا جیسا وہ ہے،نہ کہ جیسا ہمیں دکھایا جاتا ہے۔۔۔ہمیں شرابی کی ہنسی سے سبق لینا ہو گا،فقیر کی قناعت سے روشنی لینا ہو گی،استاد کی آنکھوں میں جھانک کر علم کی پیاس جگانی ہو گی اور سب سے بڑھ کر،ہمیں اپنے اندر وہ آئینہ تلاش کرنا ہو گا جو ہمیں ہمارا اصل چہرہ دکھا سکے۔۔۔۔ورنہ ہم یوں ہی خواب دیکھتے رہیں گے، وعدے سنتے رہیں گے اور زندگی گزار دیں  گے۔۔۔۔بغیر جئے۔

مزیدخبریں