گزشتہ روز سوشل میڈیا پر بلوچی لڑکی شیتل اور اس کے شوہر کو غیرت کے نام پر قتل کی خبر چھائی رہی۔ واقعہ کے مطابق دونوں نے ڈیڑھ سال قبل محبت کی شادی کی اور ہمارے معاشرے میں ایسی ایک نہیں ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ خاص کر پنجاب میں تو اب ایسی شادیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ بلوچستان میں یوں ہی لاقانونیت کا بول بالا ہے۔ آئے روز جو وحشیانہ انداز سے پنجابیوں کا قتل عام ہو رہا ہے اسی طرح آج میاں بیوی کو غیرت کا نام دے کر قتل کر دیا گیا۔۔۔ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل پر سرکاری ایوانوں سے لے کر سیاستدانوں اور سول سوسائٹی بھرپور طریقے سے سراپا احتجاج ہے۔ فوٹو شوٹس احتجاج دو چار دن چلیں گے، سوشل میڈیا پر بے لگام لوگ جھوٹے قلم الاپ کر شوروغل کرنے کے بعد کسی دوسرے ہونے والے واقعات تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کب تک ہوتے رہیں گے ، کب تک شیتل جیسی معصوم بچیوں کو اناکی بھینٹ چڑھایا جاتا رہے گا ، کب تک ان غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کو آزاد چھوڑا جائے گا، سوالات اٹھتے رہیں گے جب بھی غیرت کے نام پر مزید قتل سامنے آئیں گے۔
چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری
لوگوں کا کیا، سمجھانے دو، ان کی اپنی مجبوری
پتھروں کے زمانے کے واقعات ہم کتابوں، کہانیوں اور داستانوں میں پڑھتے چلے آرہے ہیں۔ کئی زمانے کئی نسلیں بدل گئیں، زمانے نے کئی زمانوں کو بدل دیا اور ہم آج بھی زمانہ جاہلیت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آزاد معاشرے کے نام پر محکوم ذہنوں کے مالک۔۔۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ قتل غیرت ہے کیا؟ کیا پسند کی شادی کرنا جرم ہے؟ اور کیا اس جرم کی سزا قتل ہے؟ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے گویا پوری انسانیت کا قتل کیا اور ہمارے ہاں تو قتل غیرت کے نام سے قتل کے اوپر قتل کئے جا رہے ہیں مگر قانون خاموش ہے۔ پاکستان میں قانون کی عمل داری کی کیفیت سے کسی کو اطمینان نہیں اور ہم ایک ایسی صورت حال سے دوچار ہیں جس میں طاقتور اور کمزور کے درمیان یک طرفہ دوڑ لگی ہوئی ہے۔ طاقتور سب کچھ ہتھیانے کے لئے دوڑ لگا رہا ہے اور کمزور خود کو بچانا چاہتا ہے اور دونوں کے علم میں ہے کہ جو ہو رہا ہے غلط۔۔۔ اس سے تو ہماری معاشرتی اقدار کو شکست ہو رہی ہے، ہماری رواداری ، تحمل، قوت برداشت سب کچھ دائو پر، یعنی وجوہات کئی، نتیجہ ایک اور وہ ہے قتل۔۔۔ ان وجوہات کا اصل نکتہ کیا ہے؟ قابل غور بات یہ ہے کہ جرم غیرت کے ہر پہلو پر بات ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے یہ قتل کون کرتا ہے، انتقامی، حاسدین یا بے جا غیرت مندی کا مظاہرہ؟ یہ قتل کس کے خلاف کون کر رہا ہے، ان ہونے والے جرائم میں ریاست کا کردار کیا ہے؟ پولیس، عدلیہ اور قانون ان قتلوں کے اوپر سزا کیوں نہیں دیتا؟
کیا خاندان ٹوٹ رہے ہیں۔ گھٹن اورشک کے منفی رویے جو بہت مضبوطی پکڑ رہے ہیں اس لئے کہ ان کو پتہ ہے کہ قانون اگر پکڑے گا بھی ضمانت ہو جائے گی اور مقدمہ سالہا سال چلتا رہے گا۔ یہ سب کچھ اس لئے بھی ہو رہا ہے کہ سوشل میڈیا کی کہانیوں میں ایک عنصر یہ بھی شامل ہو گیا ہے کہ ہم نے اپنی بیٹی، بہن، بیوی اور بہو کے کردار کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اس صورت حال میں وہ جو اعتبار تھا اٹھ گیا ہے اور اسی اٹھے اعتبار نے بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دے رکھا ہے، آج کی عورت کو ایک ایسے گھٹن زدہ ماحول میں رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے باپ اور بھائی سے بھی خوفزدہ ہے۔ ایسے حالات میں فرد کی آزادی پر بے دریغ اور غیر حکیمانہ زور دینے والوں نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ ہر ایک نے انتقام کی آڑ میں ’’غیرت‘‘ کو ہتھیار بنا کر معاشرے میں ایک الگ خوف کی علامت کھڑی کر دی ہے۔ اب آپ اس کو جہالت، درندگی یا وحشت کا نام دیں یہ بات طے ہے کہ اگر اس ملک کے آئین بنانے والوں نے ایسے قوانین بھی بنا دیئے کہ ان جہالت، درندگی اور وحشت پھیلانے والوں کا قانونی سدباب کیا جا سکا تو ہی امن ممکن ہے ورنہ جس معاشرے میں قانون کی گرفت کمزور ہو گی وہاں غیرت کے نام پر انتقام کو ہوا دی جاتی رہے گی۔
اور آخری بات۔۔۔
گزشتہ روز مجھے سینئر صحافی اور میرے لاڈلے دوست اویس حمید نے اس المناک واقعہ کے بعد احمد فرہاد کی ایک نظم بھیجی ہے۔۔۔
آدمی کے فرزندو۔۔ عورتوں سے خطرہ ہے۔۔۔ زندگی بھی عورت ہے۔۔۔ آگہی بھی عورت ہے۔۔۔ روشنی بھی عورت ہے۔۔۔ چاشنی بھی عورت ہے۔۔۔ شاعری بھی عورت ہے۔۔۔ راگنی بھی عورت ہے۔۔۔ آتشی بھی عورت ہے۔۔۔ بندگی کے ہرکارو۔۔۔ بندگی بھی عورت ہے۔۔۔ آدمی کے فرزندو۔۔۔ عورتوں سے خطرہ ہے۔۔۔ یہ ہوا بھی عورت ہے۔۔۔ یہ دعا بھی عورت ہے۔۔۔ یہ صدا بھی عورت ہے۔۔۔ یہ وفا بھی عورت ہے۔۔۔ یہ حیا بھی عورت ہے۔۔۔ آدمی کے فرزندو۔۔۔ عورتوں سے ڈرتے ہو۔۔۔ خوشبوئوں سے ڈرتے ہو۔۔۔ چلمنوں سے ڈرتے ہو۔۔۔ قہقہوں سے ڈرتے ہو۔۔۔ تم عجیب راہی ہو۔۔۔ راستوں سے ڈرتے ہو۔۔۔ آدمی کے فرزندو۔۔۔ لاکھ رستے کاٹو۔۔۔ پانیوں نے بہنا ہے۔۔۔ پانیوں کو بہنے دو۔۔۔ باغ کی ہوائوں میں۔۔۔ تتلیوں نے رہنا ہے۔۔۔ تتلیوں کو رہنے دو۔۔۔ ان لبوں پہ سسکی ہے۔۔۔ ان لبوں نے کہنا ہے۔۔۔ ان لبوں کو کہنے دو۔۔۔ روٹھی آتمائوں کو۔۔۔ نفرتوں کی بیڑی نہیں۔۔۔ عزتوں کو گہنے دو۔۔۔ آدمی کے فرزندو۔۔۔ اب یہ گلنار سہنے دو۔۔۔ عورتوں کو جینے دو۔۔۔
قتل غیرت…عورتوں کو جینے دو
09:11 AM, 23 Jul, 2025