خوشی کا خارجی حصہ بہت کم سطح کا ہوتا حقیقت میں یہ سارا داخلی سفر ہی ہے اندر کی رونق چھن چھن کر باہر کی بے ثباتی کا مقابلہ کرتی سے ہم چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر خوشی اس لیے ہو رہے ہوتے ہیں کہ اس وقت خوشی کا بوٹا ہمارے اندر ’’پنگر‘‘ رہا ہوتا ہے لیکن جب اندر کی باڑھ پر سوکھا پڑتا ہے تو بڑی سے بڑی خوشی کو بھی غیر اہم کر دیتا ہے۔
سکون کا بہت بڑا خزانہ سینے کے اندر ہی خاص طرح کی ٹریننگ سے مطمئن رکھتا ہے اسی کے صدقے میں ہم باہر ہونے والی بے انصافیوں وعدہ خلافیوں اور ڈبل سٹینڈرڈ کو جھیلتے رہتے ہیں ۔
لحظہ لحظہ خود کو خرچ کرتے رہتے ہیں خارجی دنیا میں آپ کے لیے ہر قدم پر امتحان ،بے رحم ، نظریں ، سپاٹ چہرے اور میرٹ کی دھجیاں اڑتے اصول و ضوابط بھرے ہوتے ہیں ۔جب تک آپ کے اندر کا سکون کا ایندھن خرچ ہوتا رہتا ہے آپ اس ساری نیگٹوا پروچ کا مقابلہ کرتے رہتے ہیں بالآخر ہزاروں سال سے دھڑکتا ہوا دل آپ سے معذرت طلب کر لیتا ہے
’’و ہی دل ہے وہی صدیوں پرا ناول‘‘
منفی اپروچ ڈیلی سٹینڈوز سیاسی نعرے بازی ہزار بار کی دہرائی ہوئی تقریر جھوٹے وعدے اور حکومتی ڈکشن ورثے میں ملے مسائل اپوزیشن کے ہزاروں بار دہرائے گئے وعدے بھی اس قدر نقصان پہچانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے جس قدر اندر سے چراغ کا بجھ جانا قاتل ہو سکتا ہے۔
در اصل اندر کی یہ مایوسی نہیں بلکہ اس ایندھن کا خرچ ہو جاتا ہے۔جو محبت بھرے رشتے ہم میں بھر گئے تھے.. اب سوال یہ کہ ما یوسی بھی نہیں ایندھن کیسے خرچ ہو جاتا ہے تو اس کا سبب صدمات کی بھر مار ذہنی دھچکے وعدوں کا ٹوٹنا پل پل لرزتے بھروسے کے پل ... کافی سامان مل کر اندر سے پھوٹتی روشنی کی دولت کو دھندلا دیتے ہیں یہ ٹھیک ہے کہ ہر جگہ ہمارا رویہ بھی بہت آئیڈیل نہیں ہوتا مگر جہاں ہم انتہائی سنجیدہ اور پرخلوص ہوتے ہیں وہاں سے بھی شاکس ملتے رہتے ہیں ۔
بہت لوگوں کو میں نے دیکھا زندگی سے بھر پور جیسے انہیں کوئی نہ توڑ سکتا ہو مگر وقت کی بے وفائی اپنوں کی بے حسی نے انہیں پریدہ رنگ اور بے روح کر دیا ...
انسان جس وقت ’’میں میں‘‘کا راگ الاپ رہا ہوتا ہے اس وقت کے حساب سے طنطنہ اور بلند آہنگ ہوتا ہے جو اس پر اس وقت مہربان ہوتا ہے اسے معلوم نہیں ہوتا آواز کا زیرو بم ایسا نہیں رہے گا اور جس بل بوتے پر وہ متکبر ہے وہ’’مڈھ‘‘ ہی اکھڑ جانا ہے اس زندگی کو شاخ ناز ک پر آشیانہ ہی متصور کرنا چاہیے...
ایسے لوگوں کو بہت کم رنج سے واسطہ پڑتا ہے جو پہلے ہی اس کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں... آنے والے دلوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کبھی اقتدار اور دولت پر نازاں نہیں ہوتے اللہ کی عظمتوں پر شکر گزار ہونا برحق ہے مگر میں نے بہت سے لوگوں کو حال پوچھنے پر جس انداز سے وہ الحمد للہ کہتے ہیں اس میں انتہائی تکبر اور دوسرے کی طرفہ حقارت ہوتی ہے اسی طرح خواتین کا پردہ کر کے تمام امور زندگی کونبھانا درست اور قابل تحسین ہے مگر خود نقاب کر کے باقی ساری بے نقاب خواتین کو کمتر اور گھٹیا سمجھ لینا پر دے کے سارے خواب کو کھا جاتا ہے ۔
چلیں سیاست کا شعبہ تو بد نام ہے ہی کہ اس قدر پڑھی لکھی خواتین و مرد محض اپنے لیڈر کی سماعت اور بصارت میں ایک بار آجانے کے لیے مخالف پارٹی پر ایسے ایسے رکیک جملے رسید کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ مگر دفاتر میں بھی خوشامد کے بازار لگے رہتے ہیں پیٹھ پیچھے سب اپنے باس کو ایسے ایسے القابات سے نوازتے اور صیغہ واحد میں مخاطب کر کے کرپٹ ترین کہتے ہیں مگر سامنے فرشتہ بنا دیتے ہیں مضبوط ترین شخصیت والے افسران بھی اس دام میں آجاتے ہیں میں نے اپنی زندگی میں بہت کم مضبوط شخصیت والے مرد دیکھے ہیں اکثریت لائی لگ اور سنی سنائی کے علاوہ زندگی جیسی بے ربط چیز کو کڑی سے کڑی ملا کر کتابی منطق کی نظر میں دیکھتے ہیں فیلنگز کو (Less) کرکے بھی درست فیصلہ نہیں ہوتا ...
مخالفت میں قلابے ملائے جاتے ہیں
وہ جن کے آنے پہ تالی بجائی جاتی ہے
مضبوط مردکیسے ہوتے ہیں اس کا جواب یہ ہے نہیں کہ جو روتے نہیں جو بہادر ہوتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ غیرت کے ہر مقام پر جن کی آنکھیں بھیگتی ہیں جو عورت سے جسمانی طور پر واضح برتری رکھنے کی وجہ سے اس پر ہاتھ نہیں اٹھاتے کہ وہ جانتے ہیں یہ طاقت رب نے انہیں میدان جنگ کے لئے عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے دی ہے۔ جو بڑے سے بڑے واقع پر فوری ری ایکشن نہیں دیتے تدبر کرتے ہیں احساسات اور منطق کو ملا کرصحیح صورتحال تک پہنچتے ہیں عورت کا احترام کرتے ہیں مقابلہ نہیں اس کو زندگی کی دوڑ میں ساتھ ہم قدم چلاتے ہیں اس کا رستہ صاف کرتے ہیں رکاوٹوں کے پتھر نہیں ڈالتے وہ عورت کی لیاقت شہرت سے خائف نہیں ہوتے بلکہ اس کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں میں نے ہمیشہ عورتوں میں یہ ظرف دیکھا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے شعبے کا نا صرف احترام کرتی ہیں بلکہ اسے Own کرتی ہیں حتیٰ کہ اس کی شاعری اور شہرت بھی۔
جبکہ مرد ایسا نہیں کرتے وہ عورت کے قدرتی ٹیلنٹ کو پس دیوار پس برقع پس پردہ اور پس زنداں کر دیتے ہیں ان کی عورتوں کے لیے روشن خیالی کے اپنے ہی معیارات ہوتے ہیں جسے وہ پورے معاشرے پر نامزد Implement کرتے ہیں۔
اب کسی مرد کا کوئی مولوی استاد ہے تو کسی کا مرشد کسی اور فرقے کا کسی مرد کی سوچ وہابی ہے کسی کی سنی ایسے میں اس کی بطور مرد اپنی سوچ فرقے کی سوچ کے تابع ہو جاتی ہے اور اس کو پورا ٹبربھگتتاہے ۔ انہی گھروں سے باپ کی تربیت لیے مزید مرد معاشرے میں نکلتے ہیں جن میں اکثریت اپنی والداؤں کی درگت بنتی دیکھ کر آئی ہوتی ہے۔ جب کوئی اکاد کا واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو کہرام مچ جاتا ہے۔
اب جہاں بلوچستان کے صحراؤں میں اپنی نہتی منکوحہ بہن شتیل کو اس کے شوہر سمیت اس کے باپ بھائیوں اوربھائی بندوں نے دھوکے سے بلا کر مارا ہے تو وہ پچیس تیس سال کی سوچ کا ردعمل نہیں وہ بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کی مدعیت میں درج ہونے والے پہلا مقدمہ نہیں پیار پانچ عورتیں زندہ دفن ہوتی دیکھ چکے ہیں ان پہاڑوں نے یہ فلم پہلی بار نہیں دیکھی اس سنگلاخ خطے کی چٹانوں کے زرے زرے پر اس خود ساختہ غیرت کا نصاب لکھا گیا ہے اور جو صدیوں سے ان چٹانوں پر منقش ہے کہ بہن کو مارنے سے غیرت مند کہلاتے ہیںمعاشرے میں عزت ہوتی ہے جودوسری عورتیں ڈر جاتی ہیں ماں کی ممتا غیرت تلے سلا دی جاتی ہے وہ غیرت مند بیٹوں کوجن کر فخر محسوس کرتی ہے کہ کل کو یہ اس کی بیٹی کا گلہ دبائیں گے۔
آپ اس بوسیدہ گلی سڑی صدیوں پرانی تحریر کو ان پہاڑوں سے کیسے مٹائیں گے .....
دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
09:10 AM, 23 Jul, 2025