انقلابی دعوے ٹھس ‘ روایتی سیاست کی جیت

09:08 AM, 23 Jul, 2025

دو روز قبل ہونیوالے سینیٹ الیکشن کے نتائج ہمارے ہاں مروجہ روایتی سیاست کی جیت تصور کیے جا رہے ہیں ۔ صوبہ خیبر پختونخوا سمبلی میں ایوانِ بالا کے گیارہ سینیٹرز کے انتخاب کیلئے پولنگ کا عمل مکمل ہواتونتائج توقعات کے عین مطابق رہے۔ہمارے یہاں انقلاب کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں لیکن جب عملی مظاہرہ کا وقت آتا ہے تو یہ دعوے محض زبانی ثابت ہوتے ہیں ۔ یہی کچھ ہمیں سینیٹ کے حالیہ انتخاب اور قبل ازیں امیدواروں کے چنائو میں دیکھنے کو ملا۔ تحریک انصاف جو انقلابی سیاست کی دعویدار ہے لیکن اس نے بھی پارٹی کے دیرینہ اور وفادار کارکنان کی بجائے سرمایہ داروں کوٹکٹ دینے میں ترجیح دی۔ خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات سے قبل صوبہ کی حکمران جماعت کے امیدواروں کے انتخاب کیلئے اختلافات سامنے آئے۔ پارٹی کے پرانے اور نظریاتی کارکنان و عہدیداران انتخابات میں نظر انداز کیے جانے پر سراپا احتجاج تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ پارٹی کے وفادار کارکنان عرفان سلیم، وقاص اورکزئی اور خرم ذیشان کو سینیٹ کے امیدواروں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ خیبرپختونخوا وہ صوبہ ہے جہاں گزشتہ 12 برس سے تحریک انصاف کی حکومت ہے‘ اختلافات شدت اختیار کر گئے تو اعلیٰ قیادت میدان میں آئی اور ناراض امیدواروں کو دستبردار ہونے کیلئے کہا گیا ۔ آپ میں سے کسی نے ان پارٹی عہدیداران کی پریس کانفرنس دیکھی ہو جس میں وہ دستبرداری کا اعلان کر رہے ہیں تو یہ انقلابی دعویداروں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ تھا۔ عرفان سلیم کی آنکھوں میںجب پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی کے 23برس کی خدمات کا تذکرہ اور ٹکٹ نہ ملنے پر نمی آ گئی تو نظریاتی کارکنان کی امیدوں پر بھی پانی پھر گیا کیونکہ ایک مڈل کلاس کارکن کے مقابلہ میں پیسہ کو ترجیح دی گئی تھی اور ارب پتیوں کو ٹکٹ تھما دیا گیا۔ انتخابات سے قبل حکمران جماعت پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے درمیان جو معاہدہ ہوا تمام نتائج اس کے مطابق ہی آئے۔ 
 خیبر پختونخوا سے سینٹ کی11نشستوں کیلئے مجموعی طورپر26 امیدوار مدمقابل تھے تاہم پولنگ سے قبل بیشتر امیدوار دستبردار ہوگئے۔7جنرل نشستوں کیلئے 8امیدواروں میںمقابلہ ہوا۔خیبر پختونخوا اسمبلی کے145ارکان میں سے144نے ووٹ کاسٹ کئے اور نتائج کے مطابق جنرل سیٹوں پر تحریک انصاف کے مراد سعید نے26، فیصل جاوید نے22، مرزا خان آفریدی نے21 اور نور الحق قادری نے21ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ مسلم لیگ ن کے نیاز محمد18، جے یو آئی کے مولانا عطاء الحق درویش18 اور پیپلز پارٹی کے طلحہ محمود17 ووٹ لیکرجنرل نشست پر ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر تحریک انصاف کے اعظم سواتی89 اور جے یو آئی کے دلاور خان54 ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے‘ انہیں 2 حکومتی ووٹ زیادہ پڑے۔ خواتین کی نشست پر تحریک انصاف کی روبینہ ناز89اور پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد نے52ووٹ حاصل کئے ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے93ووٹوں پر 6 جبکہ اپوزیشن کے52 ووٹوں پر5سینیٹرز کوکامیابی ملی جبکہ پیپلزپارٹی نے صرف 10 ووٹوں پر اپنے2سینیٹرز منتخب کرالئے۔آپ اندازہ کریں کہ الیکشن میں حصہ لینے والے تحریک انصاف کے ناراض امیدوار خرم ذیشان نے کوئی ووٹ حاصل نہیں کیا۔ ان نتائج پر نظر ڈالیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف با آسانی اپنا ایک اور امیدوار یہاں سے کامیاب کروا سکتی تھی کیونکہ مراد سعید کو مطلوبہ ووٹوں سے 8‘ فیصل جاوید کو 4جبکہ مرزا آفریدی اور نورالحق قادری کو 3ووٹ زیادہ ملے اگر یہی18 ووٹ ملا لیں تو ایک مزید سینیٹر منتخب ہو سکتا تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔ یہ انتخاب ایوان زیریں کے بعد ایوانِ بالا میں حکمران اتحاد کو دوتہائی اکثریت ملنے کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا اور ایک زائد ممبر کا انتخاب بھی بڑا قیمتی تھا ۔
بات کریںپنجاب کی‘ تو یہاں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے سینٹ کیلئے ٹیکنوکریٹ کی نشست دو تہائی اکثریت سے جیت لی۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حافظ عبدالکریم 243 ووٹ لیکر سینیٹر منتخب ہوگئے ان کے مدمقابل اپوزیشن کے امیدوار مہر عبدالستار 99 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پولنگ کے دوران 345 ووٹ کاسٹ ہوئے لیکن 3 ووٹ مسترد ہوگئے۔ پنجاب اسمبلی میں کل نشستوں کی تعداد 371 ہے جبکہ دو نشستیں خالی ہیں، الیکشن کیلئے کل ووٹوں کی تعداد 369 تھی۔ اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ووٹوں کی تعداد 229، پیپلز پارٹی کی 16، مسلم لیگ (ق) کے ووٹوں کی تعداد 11 جبکہ مسلم لیگ ضیاء کا ایک ووٹ ہے۔ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ووٹوں کی تعداد 27 ، سنی اتحاد کونسل کے 76 ووٹ جبکہ تحریک لبیک پاکستان اور مجلس وحدت مسلمین کا ایک ایک ووٹ ہے، استحکام پاکستان پارٹی کے بھی 7  ممبران ہیں۔ کسی بھی امیدوار کو کامیابی کیلئے 185 ووٹ درکار تھے، حکومتی امیدوار کو 261 جبکہ اپوزیشن کو 108 ووٹوں کی حمایت حاصل تھی‘ کئی ممبران بیرون ملک ہونے کے باعث ووٹ کاسٹ نہ کر سکے۔
حالیہ سینیٹ انتخابات کے بعد ایوان بالا میں پیپلزپارٹی نشستوں کے اعتبار سے سب سے بڑی پارٹی بن گئی اس کے سینیٹرز کی تعداد 26ہوگئی اور حکمراں اتحاد سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے قریب ہے۔ایوان بالا میں حکمراں اتحاد کے سینیٹرز کی تعداد 61جبکہ اپوزیشن کے سینیٹرز کی تعداد 34ہوگئی۔ تحریک انصاف کو 16 سینیٹرز کے علاوہ 6 آزاد سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل ہے‘ مسلم لیگ ن 20 سینیٹرز کے ساتھ تیسری بڑی جماعت ہے۔ ایوان بالا میں جے یو آئی سینیٹرز کی تعداد 7 جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 ‘ ایم کیو ایم اور اے این پی کے 3،3 سینیٹرز ہیں۔ 96 رکنی ایوان میں دو تہائی اکثریت کیلئے 64 ارکان کی حمایت درکار ہے اور حکومتی اتحاد کے پاس فی الحال 60 ارکان کی حمایت ہے جبکہ اپوزیشن کو 35 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ جے یو آئی (ف) کی حمایت کے بغیر حکومتی اتحاد دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکتا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے اور وہ قانون سازی کر سکتے ہیں یعنی ضرورت پڑنے پردیگر جماعتوں کے سینیٹرز کو ساتھ ملا کر آئینی و قانونی بل منظور اورآئینی ترامیم کیلئے دوتہائی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں۔ان انتخابی نتائج کو دیکھ کر تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک بار پھر روایتی سیاست کی جیت ہوئی ہے۔

مزیدخبریں