پگڑی کے لیے اپنی لختِ جگر کا خون

09:08 AM, 23 Jul, 2025

حضرت انسان بھی عجیب چیز ہے دانت درد پربھی بے چین ہوجانے والا اپنے جیسوں کی جان لینے کے بھی جواز پیش کرتاہے یہ انسان ظلم کرتے ہوئے درندوں کو بھی مات کردیتا ہے۔ بلوچستان میں ایک نہتی لڑکی اور لڑکے کے ساتھ جوہوا ہے وہ کم ازکم بھی غیرت و انصاف کا قتل ہے اِس واقعہ میں ملوث تمام کرداروں کوسزادینے سے ہی آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکتی ہے مگر ماہ بانو اور احسان اللہ کے خون سے ہاتھ رنگنے والے شاید تمام کردار سزا سے بچ جائیں کیونکہ ماں باپ اور بہن بھائیوں سمیت ورثا کی طرف سے مدعی بننے کا امکان کم ہے کاش ایسے واقعات کی ریاست خود مدعی بن کر مجرموں کوسزادلائے عید سے قبل یہ وقوعہ ہوا جس کی مکمل ریکارڈنگ موجود ہے مگرافسوس کسی ذمہ دار نے نوٹس تک نہ لیا سوشل میڈیا نے حکمرانوں اور منصفوں کو بیدار کیا تب جا کر کچھ گرفتاریاں ہوئیں ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ایسی اندھیرنگری کے باوجود قانون موجود ہونے اور تمام علاقوں میں ریاستی رَٹ ہونے کے دعوے پر یقین کیا سکتا ہے؟ ۔
یہ انسان بھی عجیب ہے ایک طرف اگر اپنے جیسے انسانوں کی تخلیق میں حصہ دار ہے تو پگڑی ، اَنااور نام نہادعزت  پرخونی رشتے بھی قربان کر دیتا ہے باپ کے سائے میں تو بیٹیاں خود کومحفوظ اور بھائی کے ساتھ بہنیں خود کو طاقتور خیال کرتی ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ باپ اور بھائی کی موجودگی میں کوئی اُن پر ہاتھ اُٹھانے کی جرأت نہیں کر سکتا اور ماں جیسا نرم اور شفیق رشتہ تو اپنی تخلیق کو ہر پریشانی اور دکھ سے بچانے کے لیے جان تک لڑا دینے والا تصورکیاجاتا ہے مگر بلوچستان میں مقتول جوڑے کے لیے تو تمام رشتے پتھر ثابت ہوئے باپ اور بھائی نے پگڑی اور ناموس کے لیے ایک نہتی کودرجن سے زائدنامحرم درندوں کے آگے کھڑا کر دیا کہ بھون ڈالو اِسے اپنی گولیوں سے۔ جان لے لو اِس معصوم کی۔ اِس کے خون سے مرجھاتی عزت کو سیراب کر لو۔ بھائی خود بھی فائرنگ میں پیش پیش رہاآج پورا ملک تھوک رہا ایسے درندوں پر ۔جنھوں نے پگڑی کے لیے اپنی لختِ جگر کا خون کر دیافرسودہ رسوم و رواج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اسلام تو شفقت، رحمدلی اور عفو درگزر کی تلقین کرتا ہے جانورکی بھی بے مقصدجان لینے سے منع کرتا ہے چہ جائے کہ قبائلی رسوم اور مذہب کے نام پر خون بہا کر رشتے قربان کر دیئے جائیں اسلام میں پسند کی شادی جرم نہیں بلکہ ناپسندہ شخص سے جبری شادی جرم ہے ۔
سرفراز بگٹی جیسے کچھ لوگ قتل کا جواز پیش کررہے ہیں کہ لڑکی شادی شدہ تھی جس کے غیر مرد سے تعلقات تھے ایسے لگتا ہے ایک سردار نے قتل کرایا تو دوسرا سردار بچانے کے لیے میدان میں آ گیا ہے حالانکہ قتل کافیصلہ کرنے والا سردار شیرباز عزت دار تو کیا انسان تک کہلوانے کا حقدار نہیں کسی ایک بے گناہ کو مارنا اسلام میںساری انسانیت کاقتل ہے یہاں نہتے جوڑے کو ویرانے میں لیجا کر خونی رشتوں کی موجودگی میں مار دیا گیا لیکن خاموشی کی چادر میں چھیدتک نہ ہو سکا ایک اور تلخ سچ یہ ہے کہ بلوچستان حکومت کو اِس واقعہ کا فوری علم ہو گیا تھالیکن چُپ رہی ملوث قاتلوں کی گرفتاریاں سوشل میڈیا پر لے دے ہونے پر کی گئیں اِس چالاکی کا مقصدانصاف دینا نہیں بلکہ واقعہ کی پردہ پوشی لگتاہے ویسے بھی جب کسی نے بطور گواہ شہادت دینے کی ہمت ہی نہیں کرنی تو قاتلوں کوسزا خاک ہونی ہے لگتا یہی ہے کہ معصوم جوڑے کے خون کو رزقِ خاک بنانے والوں کی پگڑیاں سلامت رہیں گی اور وہ ایسے فیصلے کرنے کے لیے آئندہ بھی انسانی جانوں کے لیے جبرو قہر ڈھاتے رہیں گے۔
احسان اللہ زرک اورماہ  بانو کوجرگہ سردار نے دونوں کو جان بخشی کا قول دینے کے باوجودقتل کرایاشایدسردارہر صورت احسان اللہ زرک کو مجرم ثابت کرناچاہتا تھا مگر جب شواہد نہ ہونے کی بنا پر مقامی عالمِ دین نے تائید سے صاف انکار کردیاتواسی لیے پھر مقتولہ لڑکی سے مطالبہ کیا گیا کہ لڑکے پر ورغلانے اور بلیک میل کا الزام لگا کراپنی جان بچا لے لیکن جب وہ بھی بہتان لگانے سے انکار کردیتی ہے تو آخرکارسابقہ شوہر کے ساتھ رہنے کی صورت میں لڑکی کو زندہ رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی مگر مقتولہ رضامند نہ ہوئی جس پر قتل کرنے کافیصلہ سنا دیا گیا کوئی مرداپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر محرم کو اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لے توبھی اسلام فیصلے کے لیے چار شہادتوں کوتوضروری قراردیتا ہے لیکن قتل جیسے انتہائی اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔ کیا کسی بیٹی نے اپنے باپ یا بہن نے اپنے بھائی کو کبھی غیرت کے نام پر قتل کیا ہے؟اور کیا غیرت صرف مردوں کے لیے وقف ہے دراصل یہ عورت کو بے بس رکھنے کاحربہ ہے شایداسی لیے مقتولہ نے قاتل ہیجڑوں سے معافی طلب نہیں کی رحم کی بھیک نہیں مانگی منت سماجت اورگڑگڑانے سے گریز کیا کہ اپنے خاندان کے لوگ ہی جب سفاکی میں غیروں کے ہمرکاب ہوں توموت کوگلے لگانے کے سواکوئی راستہ نہیں رہتا اِن حالات میںصرف گولی سے مارنے کا حق دینا ہی بنتاہے حالانکہ قاتلوں سے قرآن سے کوئی ایک ایسی آیت پڑھ کر سنانے کا مطالبہ جائز تھا جس میں کسی کو ناحق قتل کرنے کا حکم دیا گیاہو۔  
 1825یعنی دو سوبرس قبل بلوچستان کے علاقے کوہلومیں لعل ہان نامی ایک نوجوان نے داستانِ محبت رقم کی جس نے طوفانی بارش سے بچنے کے لیے ایک گھر میں پناہ لی جہاں ایک نوبیاہتا دلہن سمو کے سواکوئی نہیں ہوتا جو اپنے خیمے کو بچانے کی جدوجہد میں دوپٹے سے محروم ہوتی ہے تویہ منظردیکھ کر لعل ہان کو عشق ہو جاتا ہے وہ جذباتی شاعری میں بے دھڑک خود کو سموبیلی یعنی سموکا دوست کہتاہے پھربھی قبائلی معاشرے کی غیرت محفوظ رہتی ہے بلکہ لعل ہان کو حضرت مست توکلی کہہ کر قبر کو مرجع خلائق کہاجاتاہے آج بھی بلوچ معاشرے میں ہزاروں لڑکیوں کے نام سمی ہیں ۔چودہ سوبرس قبل مکہ میں کاروباری طور پر خود مختار شرم وحیا کی پیکر ایک خاتون اپنا سامانِ تجارت دیکر ایک مہربان ،ایمانداراورسچے نوجوان کوملک شام روانہ کرتی ہے اورپھر حسن اخلاق ،ایمان داری اور سچائی سے متاثر ہو کراپنے غلام کے ذریعے نکاح کا پیغام بھجوادیتی ہیں یہی اصل اسلام ہے اسلام میں نکاح کی ترغیب دی جاتی اورزنا سے روکا جاتا ہے جو بلوچستان میں عنقاہے اسلام میں پسند کی شادی عورت کا حق ہے بغاوت نہیں ماہ بانو کے بھی توآخری الفاظ یہی تھے کہ نکاح کیاہے زنا نہیں۔ اپنے اور بیگانے19مردوں نے ایک نہتے جوڑے کو مارکر اسلام یا بلوچ معاشرے کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ ایسی کالک لگالی ہے جسے چند گرفتاریوں سے دھویا نہیں جا سکتاالبتہ تمام ملوث لوگوں کو عبرت کا نشان بناکر مستقبل میں ایسے قاتل فیصلوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔

مزیدخبریں