غزہ امن بورڈ اور ہم

09:05 AM, 24 Jan, 2026

غزہ میں دو سالہ اسرائیلی جارحیت کے دوران 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں بچے، عورتیں اور عمر رسیدہ افراد سب شامل تھے جبکہ پورے ملک کا ڈھانچا بھی تباہ ہو گیا لیکن دنیا کا کوئی ملک غزہ کی تباہی روکنے کے لیے عملی طور پر کچھ نہ کر سکا۔ وجہ صرف ایک تھی کہ اسرائیل کو امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ امریکہ نے اسرائیل پر حماس کے اکتوبر 2023 میں طوفان الاقصیٰ نامی حملے کے اگلے دن ہی اپنا بحری بیڑہ بحیرہ روم میں لاکھڑا کیا اور پوری دنیا کو دھمکی لگا دی کہ خبردار جو کوئی فلسطین یا حماس کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔ اس دھمکی کا دنیا پر وہ رعب پڑا کہ کوئی ملک اسرائیلی غنڈہ گردی کو روکنے کے لیے آگے نہ بڑھ سکا۔ یہ غنڈہ گردی مسلسل دو سال بغیر کسی روکاوٹ کے جاری رہی اور اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کرتا رہا۔ اس کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے بھی ہوتے رہے، عالمی عدالت میں مقدمات بھی دائر ہوئے، اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی منظور ہوئیں لیکن غزہ پر اسرائیلی ظلم اور بربریت نہ روکی جا سکی۔
 ایک طرف امریکہ ڈٹ کر اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور دوسری طرف جس ملک نے بھی غزہ کی حمایت میں آگے بڑھنے کی کوشش کی وہ خود بھی اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن گیا۔ اس جارحیت میں امریکہ اسرائیل کی بھرپور مدد کرتا رہا، اسے اسلحہ فراہم کرتا رہا اور اس کے مخالفین کو دھمکیاں دیتا رہا۔ دوسری طرف غزہ مسلسل کھنڈر میں تبدیل ہوتا رہا اور اس کے شہری روزانہ درجنوں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں شہید ہوتے رہے۔ کوئی گھر بچا نہ ہسپتال، سکول محفوظ رہا نہ مسجد۔ جو لوگ زندہ بچ گئے وہ خیمہ بستیوں میں بھوکے پیاسے رہنے پر مجبور ہو گئے کہ اسرائیل نے خوراک اور امدادی سامان کے غزہ داخلے کا راستہ بھی بند کر رکھا تھا۔
 جنوری 2025 میں امریکی صدر ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد اسرائیل میں امن کے حوالے سے پیش رفت کا آغاز ہوا اور اکتوبر 2025 میں پورے دو سال بعد اسرائیل اور غزہ میں جنگ بندی ہوئی لیکن یہ جنگ بندی بھی اسرائیل اور امریکہ کی شرائط پر تھی۔ اس دوران ابراہم اکارڈ کا تذکرہ بھی ہوا، غزہ میں امن فوج تعینات کرنے کی بات بھی ہوئی۔ فلسطینیوں کو غزہ سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کا شوشہ بھی چھوڑا گیا اور بالآخر غزہ بورڈ آف پیس کا قیام عمل میں آ گیا۔ جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری رہا بلکہ تین ماہ گزرنے کے باوجود اب تک بھی جاری ہے۔ جس روز غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط ہوئے اس روز بھی اسرائیل کے غزہ میں خان یونس اور بوریج کیمپوں پر فضائی حملے اور فائرنگ سے تین صحافیوں اور دو بچوں سمیت سولہ افراد مارے گئے۔ صدر ٹرمپ کی اسرائیل کو روکنے کی یقین دہانیوں کے باوجود غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔
اس صورت حال میں غزہ امن بورڈ کا قیام اور اس میں شرکت کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں کو دعوت اگرچہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے لیکن دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے اس پر شکوک و شبہات کا اظہار بھی بے جا نہیں۔ غزہ امن بورڈ یقینی طور پرغزہ میں امن کے لیے ہے لیکن امریکہ اور اسرائیل یقینا یہ امن اسی طرح اپنی منشا اور مفادات کے مطابق قائم کرنا چاہیں گے جیسا کہ وہ اب تک کرتے چلے آئے ہیں۔ شاید اسی لیے صدر ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ کو اقوام متحدہ کے متبادل ادارے کے طور پر سامنے لانے کا بھی عندیہ دیا ہے جس کے پیش نظر چین، فرانس، برطانیہ، اٹلی، ناروے اور یوکرین سمیت متعدد ملکوں نے اسی بنیاد پر غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے انکار کیا ہے۔
غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے معاہدے پر اب تک پاکستان سمیت 35 ممالک دستخط کر چکے ہیں جن میں متعدد مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ ان ممالک میں سے سعودی عرب، مصر، اردن اور ترکیے تو غزہ یا اسرائیل کے قریبی ہمسائے ہیں اور متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین مشرق وسطیٰ کے خطے سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ پاکستان، مراکش، آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان اور انڈونیشیا ایسے ممالک ہیں جو جغرافیائی طور پر متاثرہ خطے کے ملک نہیں لیکن مسلمان ہونے کے ناتے غزہ سے گہری ہمدردی رکھتے ہیں۔ مسلمان ملکوں کے علاوہ ہنگری، ارجنٹائن، پیراگوئے، آرمینیا، بیلاروس اور کوسوو جیسے غیر مسلم ملک بھی اس معاہدے کا حصہ بننے والوں میں شامل ہیں۔
معاہدے کا حصہ بننے اور نہ بننے والے ملکوں کا نقطہ نظر اپنی اپنی جگہ درست ہے۔ جو ملک اس معاہدے کا حصہ بنے ہیں وہ بھی ہر صورت خطے میں پائیدار امن چاہتے ہیں اور جو نہیں بنے وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ امریکہ اس بات کی مکمل یقین دہانی کرائے کہ بورڈ آف پیس واقعی اسرائیل اور غزہ کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔ معاہدے میں شامل ہونے والے کسی ملک کی نیت پر تو کوئی شک نہیں لیکن معاہدے میں شامل نہ ہونے والوں کو امریکہ کی نیت پر ضرور شک ہے۔
پاکستان کی طرف سے معاہدے میں شمولیت کے فیصلے پر مختلف حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے تو دوسری جانب سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بھی فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا کہ ان کی تنقید یا تحفظات کا اظہار کس حد تک درست تھا لیکن یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان نے غزہ اسرائیل تنازع کے آغاز سے اختتام تک اس کے حل کے لیے اپنا مقدور بھر کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر بھی عرب ملکوں کے سربراہوں کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کی تھی جس کے بعد امن معاہدہ طے پایا۔ 
اس تناظر میں ہمیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی غزہ بورڈ آف پیس میں شرکت غزہ میں پائیدار امن ہی کے لیے ہے اور پاکستان اپنے اصولی موقف سے نہیں ہٹے گا۔ اس بات کی وضاحت تو دفتر خارجہ نے بھی کر دی ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے، بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔ پاکستان آزاد، خودمختارفلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، پاکستان کامو¿قف ہے کہ1967سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
پاکستان غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کرنے والا اکیلا ملک نہیں ہے۔ متعدد مسلمان ملکوں کا معاہدے کا حصہ بننا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل غزہ کے حوالے سے زیادہ من مانی نہیں کر سکیں گے۔ اگرچہ امریکہ سے کچھ بھی بعید نہیں لیکن غزہ امن بورڈ کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ بھی ابھی قبل از وقت ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شامل پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک آئندہ غزہ کو اسرائیلی جارحیت سے بچانے اور اہل غزہ کو امن و سلامتی کے ساتھ زندہ رہنے کے قابل بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ 
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اس وقت اپنی تاریخ کے بہترین دور سے گزر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا وزیر اعظم پاکستان کو معاہدے میں شرکت کی دعوت دینا اور ڈیووس میں معاہدے پر دستخط کے موقع پر شہباز شریف کے ساتھ خوش گپیاں لگانا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف دیکھ کر مسکرانا اس بات کی دلیل ہے کہ امریکہ کی نظر میں پاکستان دنیا کا ایک اہم ملک بن چکا ہے۔ امریکی صدر گزشتہ سال مئی میں ہونے والے معرکہئ حق کے بعد سے پاکستان کے گرویدہ نظر آتے ہیں۔ وہ بارہا وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کر چکے ہیں اور پاکستان کی طرف سے بھارت کے آٹھ جہاز گرائے جانے کا بھی ذکر کرتے رہتے ہیں۔ یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ پاکستان کا کسی عالمی معاہدے میں شامل ہونا کوئی معمولی بات نہیں اور اس کے بہت دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزیدخبریں