کسی بھی شخص چیز یا جگہ کے لیے اس کی شناخت اس کے وجود کا حصہ ہوا کرتی ہے۔ آپ شناخت چھین لیں وجود فنا ہو جائے گا۔ فوراً نہ سہی رفتہ رفتہ چند برسوں میں سہی لیکن زوال آئے گا ضرور اور بڑا تکلیف دہ زوال آئے گا۔ اس کی آسان ترین مثال اگر میں دوں تو اپنے وقتوں کے شاندار فنکار، گلوکار اور اداکار بھلا اپنے آخری وقتوں میں کسمپرسی میں تنہائی میں کیوں گھٹ گھٹ کر مرتے ہیں؟ کیونکہ انہیں کام ملنا بند ہو جاتا ہے، جب کام ملنا بند ہو جائے تو شناخت مٹنے لگتی ہے۔ آپ سب نے گزشتہ برس خبروں میں پی ٹی وی کی اپنے دور کی ایک شاندار اداکارہ کی فلیٹ سے برآمد ہونے والی بوسیدہ لاش کے بارے میں سن رکھا ہو گا۔ میری ناقص رائے میں اس کا کارن identity crisis ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں نصاب میں مغلوں کے بارے میں بس یہی پڑھایا گیا کہ وہ شراب و کباب کی محفلوں میں بدمست رہے، اور جام پکڑے “ہنوز دہلی دور است” کہتے کہتے رنگون کی جیلوں میں جا پہنچے۔ ہمیں کسی نے آج تلک بتایا ہی نہیں کہ باغ کے نام پہ آم امرود اگانے والے اس خطے کو باغ کا تصور ہی مغل بادشاہ بابر نے دیا ، بہشت کی تصویر کشی کرتے ہوئے رنگ برنگے پھول اگائے گئے، نہریں نکالی گئیں ، فوارے لگائے گئے، اور پھر جا کر امیر خسرو کا یہ شعر باغ کے داخلی دروازے پہ لکھا گیا کہ
اگر فردوس بروئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
لاہور کسی زمانے میں باغوں کا شہر تھا، آج کنکریٹ کا جنگل ہے، نتیجہ؟ سموگ۔۔۔!! Infrastructure development اہم ہے، بہت اہم ہے، ترقی کا دارومدار ہو گا اس پر، لیکن کیا یہ اتنا اہم ہے کہ ہر شخص کی اوسط عمر پانچ دس سال کم کر دی جائے۔ اس کے پھیپھڑوں کا ستیاناس مار دیا جائے؟ پشاور پھولوں کا شہر تھا اسے bad governance اور انکروچمنٹ نے امر بیل اگانے جوگا نہیں چھوڑا۔ اور بات اگر گوورننس پر آ ہی گئی ہے تو خیبر پختونخوا گزشتہ سیلاب میں جیسے قبرستان بنتے بنتے بچا تھا وہ آپ سب جانتے ہیں۔
اور بات اگر گورننس پر آ ہی گئی ہے تو تقابلی جائزے کے لیے گزارش ہے کہ پنجاب میں اس وقت کرائم کنٹرول مثالی ہے، قانون کی بالا دستی بے نظیر ہے، PERA اور CCD کی شاندار کار کردگی کے چرچے زبان زدِ عام ہیں، اور اب تو سڑکوں پر چارجنگ پول تک نصب کر دیئے گئے ہیں، سڑکوں پر گرین بسز دوڑتی پھرتی ہیں۔۔۔ اوہو یاد آیا کہ ہم بات کر رہے تھے شناخت کی۔۔۔
شہرِ اقتدار کی شناخت روزِ اول سے اس کا سبزہ اور سکون تھا۔ آنکھوں کو تازگی بخشتی ہریالی، یا پھر سردیوں میں سڑکوں پر دور دور تک بکھرے خشک سنہرے اور زرد پتے کہ جن پر پاﺅں پڑے تو ایک دلکش آواز سے چ±ر مرا جائیں، آج وہ پتے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔
سچ تو یہ ہے کہ اسلام آباد سبز پتوں سے ڈھکے درختوں کا پرسکون جنگل لگے، یا زرد سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں گیلی سڑک پر بکھرے خشک پتوں کی آماجگاہ لگے ، اس کے سوا کچھ اور لگے تو وہ اسلام آباد نہ لگے۔ اب اس سے اس کی شناخت چھینی جا رہی ہے اس بات کا احساس مجھے اگلے روز مارگلہ روڈ پر ایف ٹین کے باہر سے گزرتے ہوئے اچانک ہوا۔ وہاں ایک قدرتی گہری کھائی کو مٹی سے بھرا جا رہا ہے اور درخت گرائے جا رہے ہیں۔ مارگلہ کے ہرے بھرے پہاڑ اب گنجے ہو رہے ہیں، لوگ کہتے ہیں کسی ٹھیکیدار نے پولن الرجی کے علاج کے طور پہ شہ توت کاٹنا شروع کیے پھر اسے مزہ آنے لگا تو اس نے ساتھ دوسرے بھی کاٹنا شروع کر دیئے۔ عقل کہتی ہے کہ جو لکڑی کٹ رہی ہے وہ کہیں بک بھی رہی ہے اور کسی کی جیب میں پیسہ بھی جا رہا ہے۔ کوئی parallel ecosystem چل رہا ہے شاید، کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر یہاں کاٹ رہے ہیں تو کہیں اور اگا دیں، اب ان ہوشیار چند کو کون سمجھائے کہ سو سالہ درخت کا کٹنا اور ہوتا ہے اور پنیری فری بانٹ کر پودوں کے بچے اگانا اور ہوتا ہے، اور کیا گارنٹی ہے کہ وہ اگ کر تناور درخت بنے گا ہی بنے گا؟ آپ اس بوٹے کے بیس سال بعد جا کر درخت بننے کی امید میں موجودہ درخت کاٹ رہے ہیں۔ اربابِ اختیار کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام آباد اگر سر سبز نہیں رہے گا تو وہ اسلام آباد نہیں رہے گا۔ ہم نے ترقی کے نام پر پہاڑ کاٹ کاٹ کر درخت نوچ کر پہلے ایران ایوینیو نکالا، پھر ای سیون نکالا، پھر شاہین چوک جناح ایوینیو فلائی اوور نکالا اب اللہ جانے ایف ٹین کی بغل میں کیا نکلنے جا رہا ہے، لیکن یہ جو اسلام آباد کی لاہورائزیشن ہو رہی ہے یہ خطرناک ہے۔ اور سی ڈی اے جو لندن کے بعد دوسرے خوبصورت ترین دارالحکومت کا دعویٰ کرتا ہے وہ چند سال میں مخدوش ہو جائے گا۔ شہرِ اقتدار کے پرانے باسی گواہ ہیں کہ دس بارہ برس قبل اس شہر میں موسمی شدت کا یہ عنصر نہیں تھا، جس شہر میں بادل پانیوں سے بھرے برسنے کو بے تاب رہتے تھے اس نے پچھلی سردیوں میں ایک بارش تک نہیں دیکھی۔ پھر سید پور، شکر پڑیاں ، جیسمین گارڈن میں نہ وہ ہریالی رہی نہ تازگی جو روزِ اول سے اس شہر کی خاصیت تھی۔ کہیں نہ کہیں شہرِ اقتدار شناخت کی جنگ لڑ رہا ہے اور کہیں نہ کہیں آپ میں ہم سب خاموش تماشائی بنے دیکھ رہے ہیں، مجھے ڈر ہے آنے والے برسوں میں کہیں یہ بے انتہا حسین شہر ہم سے یہ نہ کہہ دے کہ
میں ڈوب کے ابھرا تو بس اتنا ہی دیکھا
اوروں کی طرح تو بھی ساحلِ دریا پہ کھڑا تھا
شناخت کی جنگ اور شہرِ اقتدار
09:04 AM, 24 Jan, 2026