کسی بھی عوامی حکومت کی پہچان اس کے فلاحی منصوبے، کارکردگی اور منصوبوں کی شفافیت ہوتی ہے۔ان منصوبوں سے کتنے لوگ مستفید ہوتے ہیں اور کیا ان منصوبوں کی تکمیل کے دوران شفافیت اور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے یا نہیں؟اس حوالے سے پنجاب حکومت نے فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں میں گورننس کا ایک نیا ماڈل متعارف کرایا ہے اور صوبے کو جدید تقاضوں میں ڈھالنے کے لیے ای گورننس کا جدیدنظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اسی لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے طرز حکومت اور گورننس کے ماڈل کی مثالیں دی جاتی ہیں اور ان کے ویژن کو کاپی کیا جاتا ہے۔ بطور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سب سے بڑی اچیومنٹ یہ ہے کہ ان کے منصوبوں سے دوسرے ممالک اور باقی صوبے سیکھ رہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ جب آپ محنت، ایماندار اور مخلص ہو کر لوگوں کی خدمت کرتے ہیں تو کامیابیاں آپ کا مقدر بنتی ہیں۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے منصوبے فائل ورک کی نذر نہیں ہوتے بلکہ منصوبے بنتے ہی وہی ہیں جو مکمل کیے جاتے ہیں۔سوشل میڈیا پر حکومتیں کرنے والے اور سوشل میڈیا پر کارکردگی دکھانے والوں کے ریکارڈ میں محض لنگر خانے، پناہ گاہیں، انڈے، کٹے،مرغیاں اور بھنگ پالیسیاں نکلتی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جہاں پنجاب میں الیکٹرک بسیں،گرین ٹریکٹر،سپر سیڈر، طلبہ کو لیپ ٹاپ اور سکالرشپس دی ہیں،وہاں سرکاری اداروں میں جدت اور ٹیکنالوجی کو بھی متعارف کرایا ہے۔ یہ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے سرکاری اداروں کو آئی ٹی پر منتقل کرنے کا مشن شروع کیا ہے۔ سرکاری افسران اور ملازمین کی اے سی آرز، چھٹی،ٹرانسفر اور پنشن کے عمل کو ای فاس(ای فائلنگ اینڈ آفس آٹومیشن سسٹم)سے منسلک کیا ہے۔ سرکاری محکموں میں اصلاحات، ای گورننس اور سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ای فاس اور ای پروکیورمنٹ پر کامیابی سے عمل درآمد جاری ہے۔ پیپر لیس ورکنگ سے سرکاری دفاتر میں کام کے طریقہ کار میں جدت اور شفافیت آئی ہے، روایتی فائل سسٹم ختم ہونے سے اخراجات میں کمی آئی ہے اور کام کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ حکومتی منصوبوں کی جو ٹائم لائن مقرر کی جاتی ہے ان میں ان منصوبوں کو مکمل کیا جا رہا ہے۔ تمام سرکاری محکمے ترقیاتی منصوبوں میں فنڈز کے بروقت اور شفاف استعمال کو یقینی بنا رہے ہیں جس سے ترقیاتی فنڈز کا لیپس ہونامشکل ہو چکا ہے۔ تعمیراتی کاموں میں شفافیت اور معیار کے لیے ترقیاتی سکیموں کی تھرڈ پارٹی ویلیوڈیشن لازمی کرائی جا رہی ہے۔صوبائی حکومت نے کاروباری افراد کی سہولت اور ای گورننس کے فروغ کے لیے ای بز پورٹل کا آغاز کیا ہے۔ اس پورٹل کے ذریعے کاروبار کے لیے این او سی کا حصول آن لائن ممکن بنایا گیا ہے۔کاروباری افراد کو کسی بھی مرحلے پر فزیکل فائل یا پیپر کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی ان کو دفاتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔پنجاب حکومت آئی ٹی کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں لا رہی ہے۔اس پورٹل سے سرکاری دفاتر میں رشوت اور سفارش کے کلچر کا مکمل خاتمہ ہوا ہے۔ شفاف ڈیجیٹل نظام کی وجہ سے لوگوں کا صوبائی حکومت پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے سول سیکرٹیریٹ اور سرکاری دفاتر میں کاغذی کارروائی کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا ہے جس کی بدولت کروڑوں روپے کی بچت ہو رہی ہے اور سرکاری امور میں شفافیت اور تیزی آرہی ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن سے سٹیشنری کی مد میں بھی کروڑوں روپے کی بچت ہوئی ہے اور سٹیشنری کا 80 فیصد سے زائد بجٹ ختم کر دیا گیا ہے۔ ای فاس سے کام کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے تمام فائلز کو ڈیجیٹلی ٹریک بھی کیا جاتا ہے کوئی فائل روکنے کی صورت میں چیف سیکرٹری آفس فوری الرٹ ہو جاتا ہے اور تاخیر کا تدارک کیا جاتا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن حکومت پنجاب کے گڈ گورننس کے ایجنڈے کو فروغ دینے اور عوام کی خدمت کے معیار کو بہتر بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔اس طرح ای ٹینڈرنگ یعنی سرکاری خریداری کے پورے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا گیا ہے جس میں ٹینڈر کی تشہیر سے لے کر کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے تک کے تمام مراحل شامل ہیں۔یہ نظام معیاری طریقہ کار، محفوظ ڈیٹا ہینڈلنگ اور پرو کیورمنٹ رولز کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔ اس نظام کو انسانی مداخلت سے محفوظ کرکے مکمل طورپر شفاف بنایا گیا ہے۔ای پروکیورمنٹ کے ذریعے عوامی سطح پر منصفانہ مقابلے کو فروغ ملا ہے۔ اس طرح مالیاتی شفافیت اوربچت ممکن ہوئی ہے۔پنجاب بھر میں 6 ہزار 641 سرکاری اداروں کے 14216 افسران اور اہلکاروں کو ای پروکیورمنٹ کی تربیت دی گئی ہے۔واضح رہے کہ ای پروکیورمنٹ سسٹم پر 23302 سپلائرز رجسٹرڈ ہیں۔صوبہ پنجاب میں اب تک 8 لاکھ 43739 پروکیورمنٹ سرگرمیاں کامیابی سے انجام دی جا چکی ہیں۔دوسری جانب ایوان وزیراعلیٰ میں چیف منسٹر ڈیش بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔اس ڈیجیٹل ڈیش بورڈ سے حکومتی منصوبوں اور اقدامات کی رئیل ٹائم نگرانی کی جاتی ہے۔ جس کے ذریعے فیصلہ سازی اور احتساب کے عمل کو تقویت ملی ہے۔ اس سے منصوبوں پر پیشرفت کی وموثر نگرانی جاری رہتی ہے۔منصوبوں کی شفافیت پر نظر رکھی جاتی ہے اور رئیل ٹائم ڈیٹا نظر آتا ہے۔ اس کے ساتھ پنجاب حکومت نے مریم کی دستک کے نام سے ایک اہم ڈیجیٹل سروس شروع کی ہے جس کے تحت موبائل ایپ کے ذریعے 76 سے زائد سرکاری خدمات شہریوں کو ان کی دہلیز پر فراہم کی جاتی ہے۔ مریم کی دستک ایپ کے تحت گھر بیٹھے شہریوں کو سرکاری خدمات باآسانی فراہم کی جاتی ہیں جن میں مختلف سر ٹیفکیٹ اور دستاویزات کی تیز پراسیسنگ عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے 27 لاکھ 47 ہزار 828 کے ٹارگٹ کے مقابلے میں اب تک 22 لاکھ 72 ہزار 357کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں سرکاری اداروں کی اپنی ویب سائٹ بنانے کاعمل بھی تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے اب تک متعدد سرکاری اداروں کی ویب سائٹ بنا لی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ شکایت سیل بھی24/7گھنٹے شہریوں کی شکایات کے اندراج، نگرانی اورمتعلقہ سرکاری محکموں کے ذریعے انکا حل ممکن بنا رہا ہے۔ اس سے شہریوں کے مسائل بلاتاخیر حل کیے جا رہے ہیں۔ اب تک وزیراعلیٰ شکایت سیل میں 6لاکھ 47ہزار 652شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں 6لاکھ 26 ہزار 690 شکایات کو حل کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ پنجاب حکومت نے تقریبا 25 ہزار موضع جات کی ای رجسٹریشن بھی مکمل کی ہے۔ اب تک پنجاب میں مجموعی طور پر 77 فیصد موضع جات کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کر لی گئی ہے جبکہ صوبے میں لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کرنے کا ہدف اگست 2026 مقرر کیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں سرکاری محکموں میں تمام ترتقرریاں اور تبادلے میرٹ کی بنیاد پر ہو رہے ہیں۔روایتی سفارشی کلچر کا خاتمہ کر دیا گیا اوروزیر اعلیٰ مریم نواز شریف سرکاری افسران کو ٹاسک دینے سے قبل ان کے انٹرویو کرتی ہیں اورپھران کو نئی اسائنمنٹ دی جاتی ہے تاکہ وہ بہترین کارکردگی دکھائیں۔ مزیدبراں پولیس کی سطح پر بھی افسران و ملازمین کی تعیناتیاں سو فیصد میرٹ پر کی جاتی ہیں جس سے محکمہ پولیس میں بہتری آئی ہے۔پنجاب حکومت کے ان اقدامات سے اداروں میں شفافیت اورمحنت سے کام کرنے کا جذبہ اجاگرہوا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سرکاری افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے کے پی آئیز بھی متعارف کرائے ہیں جس کی بنیاد پر مختلف محکموں کے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اچھا کام کرنے والے افسران کو شاباش دی جاتی ہے جس سے لائق اور محنتی افسران کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ پنجاب میں جدید تقاضوں کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات کو تیزی سے متعارف کرا رہا ہے جس کے نتیجے میں کرپشن جیسے ناسور پر قابو پا لیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعدد بار کہا ہے کرپشن ان کی ریڈ لائن ہے، اس کو یقینی بنانے کے لیے وہ تمام ضروری اقدامات کر رہی ہیں جس سے صوبہ پنجاب گڈگورننس، شفافیت اور پرفارمنس کے حوالے سے جنوبی ایشیا میں مثال بن کر ابھرا ہے۔
پنجاب کا ماڈل: ای گورننس بیسڈ اور کرپشن سے پاک
09:04 AM, 23 Jan, 2026