غربت دنیا کے بدترین مسائل میں سے ایک ہے۔ غربت کے خاتمے کے لئے آج دنیا بھر میں بے شمار کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن اس کے باوجود اس میں تشویشناک حد تک اضافہ ہی ہوا ہے۔ غربت انسانوں کو معاشی اور سماجی دونوں ہی طرےقوں سے متاثر کرتی ہے۔ غربت ہی کی وجہ سے معصوم بچے تعلےم اور سکولوں سے دور ہو رہے ہےں۔ غربت ہی کی وجہ سے ملک کا ترقی کرنا تقرےباً ناممکن ہے۔ پاکستان میں غربت کو صرف آمدنی یا غذا کی کمی کے حوالے سے دےکھنامناسب نہےں ہے۔ ےہ بھی اہم ہے کہ بےمارےوں سے تحفظ کے معاملے مےں ہم کہاں پر کھڑے ہےں۔ حفظانِ صحت کے حوالے سے ہمارے ذرائع کس قدر جدید ہیں، ےعنی ہم کہہ سکتے ہےں کہ غربت کثےر الجہت ہوتی ہے۔ ےہ آمدنی کے علاوہ حفظانِ صحت، سےاسی شراکت، ہماری تہذےب و تمدن اور سماجی تنظےموں کی ترقی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ہمارے اربابِ اختےار کے غربت مٹاو¿ کے نعرے لگانے کے باوجود پاکستان مےں جس انداز مےں غربت، بھوک، بےروزگاری مےں اضافہ ہو رہا ہے وہ فکر انگیز ہے۔ غربت کے کئی اسباب ہےں جن مےں بد عنوانی، آبادی مےں اضافہ، امےر و غرےب کے درمےان بڑھتے فاصلے، پرانے رسم و رواج، جہالت اور بے روزگاری شامل ہےں۔ پاکستان مےں بے انتہا غربت کی کئی وجوہات مےں سے اےک موزوں معاشی نشو نما کا فقدان ہے۔
لےکن زرعی اصلاحات کا نفاذ نہ ہونے اور زرعی و صنعتی نشونما میں روزگار کے نئے مواقع پےدا نہ ہونے کی وجہ سے بھی ملک کی مجموعی غربت مےں کمی نہ ہو سکی۔ ہمارے ہاں حکومت کی جاری کی جانے والی پالےسےوں کی وجہ سے غرےبوں کو فائدہ پہنچنے کی بجائے امےروں کو فائدہ ہوتا رہا ہے ےعنی معاشی عدم توازن بڑھتا رہا ہے۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ غرےب روٹی تلاش کرتا ہے جب کہ امیر بھوک۔ہمارے ملک مےں آبادی کا اےک بڑا حصہ زراعت سے منسلک ہے جس مےں کام کرنے والوں کو دےگر شعبوں مےں کام کرنے والے افراد سے نسبتاً کم معاوضہ ملتا ہے۔ ےہ بھی اےک وجہ ہے غربت مےں اضافے کی۔ کسی بھی شخص کی زندگی مےں روٹی، کپڑا اور مکان کی بنےادی ضرورےات تصور کی جاتی ہےں۔ لیکن ملک مےں آبادی مےں تےزی سے ہونے والے اضافے کی وجہ سے ان بنےادی ضرورےات کی تکمےل کرنا بھی مشکل ہو گےا ہے۔ ےہ صرف ملک کی ہی نہےں بلکہ پوری دنےا کی تلخ سچائی ہے کہ جو غرےب ہے وہ مزےد غرےب ہوتا جا رہا ہے اور جو امےر ہے وہ روز بروز مزےد امےر ہوتا جا رہا ہے۔ زرعی مزدوروں مےں زےادہ تر چھوٹے زمیندار ہےں جن کے پاس زمےن ان کی گزر بسر کے مقابلے مےں کم ہے اور پھر اےسے ہےں جن کے پاس اپنی کوئی زمےن نہےں ہے ۔ انہےں اور بھی کوئی کام نہےں ملتا ہے اور وہ سال کے بےشتر دنوں مےں بےروزگار رہتے ہےں ےا بہت کم اجرت کے عوض اپنی خدمات فراہم کرنے کے لئے تےار رہتے ہےں۔ اس لئے اس میں کوئی حےرت کی بات نہےں ہے کہ ےہ زرعی مزدور اور چھوٹے کسان غرےب کے غرےب ہی رہ جائےں۔ کئی ماہرےن معاشےات نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ جن برسوں میں زرعی پےداوار مےں اضافہ ہوتا ہے، غربت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ پاکستان جےسے زرعی ملک مےں زرعی شعبے مےں اچھی کارکردگی کے نتےجے مےں روزگار کے مزےد مواقع دستےاب ہوتے ہےں لےکن ےہ اسی وقت ممکن ہے جب موسمی حالات سازگار رہیں اور اچھی فصلےں ہوں۔
ملک مےں غربت کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ زراعت کے شعبے مےں کام کرنے والے مزدوروں کو مناسب سہولےات فراہم کرنا ہوں گی تاکہ کسانوں کو اچھا منافع مل سکے اور وہ روزگار کی تلاش مےں شہروں کا رخ نہ کرےں۔ غےر تعلےم ےافتہ لوگوں کو مناسب تربےت دےنا ضروری ہے تا کہ وہ غربت مےں زندگی بسر کرنے کی بجائے اےک بہتر زندگی جی سکےں۔ بےورو آف سٹےٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق ہمارے ملک مےں بے روزگاری کی شرح12 فےصد ہے ۔عالمی بےنک کی اےک رپورٹ کے مطابق جی ڈی پی کی گروتھ کے اعداد و شمار کے مطابق 194 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 142 ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے معاشرے کے سب سے کمزور طبقے کے لئے شروع کئے گئے مختلف منصوبوں سے غرےب عوام کو فائدہ پہنچتا ہے لےکن جب تک تعلےم ، حفظانِ صحت اور روزگار کے بنےادی ڈھانچے پر منظم طرےقے سے کام نہےں ہو گا، ملک سے غربت کا خاتمہ ممکن نہےں ہے۔ ہمارے ملک میں بد عنوانی ہمےشہ سے ہی موضوعِ بحث رہی ہے۔ قائد ِ ملت لےاقت علی خان کی وفات کے بعد سے بد عنوانی کا اثر ملک کے ہر شعبے مےں دکھائی دےنے لگا تھا۔ ملک مےں بڑھتی بد عنوانی غربت کے خاتمے کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔پاکستان مےں کرسی اور تجارت کے درمےان تعلق جتنا آلودہ اور بد عنوان ہو گےا ہے، اتنا دنیا کے کسی اور حصے مےں نہےں ہوا ہے۔ اس وقت صورتحال ےہ ہے کہ موجودہ سےاسی تناظر مےں اگر ملکی حالات کا مشاہدہ کےا جائے تو بد عنوانی مےں کوئی کمی بالکل نہےں ہوئی ہے۔
آج صرف بد عنوانی کی وجہ سے غرےب اور امےر کے درمےان خلےج بڑھتی جا رہی ہے۔ جس ملک مےں تقرےباً آدھی آبادی غربت کی لکےر ست نےچے بد ترےن زندگی گزارنے پر مجبور ہو وہ جمہورےت، آ مرےت، آئےنی ترامےم، انسانی حقوق اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے لئے کہاں فکر مند ہو سکتی ہے۔ عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستانےوں کی اکثرےت کے لئے صحت کا نظام بد ترےن ہے۔ آبادی مےں سے صرف نصف کی رسائی علاج کے کسی عالمی معےار تک ہے۔ اےسا نہےں ہے کہ غربت ہی صرف پاکستان کا مسئلہ ہے، لےکن ہمارے ہاں اسے حل کرنے کے لئے کام سے زیادہ دعوے ہوتے ہےں۔ہم محسوس کرتے ہےں کہ وہ طاقتور پاکستانی جو حالات بدلنے کی استطاعت رکھتے ہےں اور جن کی ےہ ذمہ داری بھی ہے ان کی ترجےحات کچھ اور ہےں۔ ہمارے حکمران اونچی ہواو¿ں مےں اڑتے ہےں، اس زمےن پر اتر کر زمےنی حقائق کا اعتراف نہےں کرتے۔ حکمرانوں کی ترجےحات منطق اور تارےخ سے بہت دور رہتی ہےں۔ غربت انسان سے، قوموں سے کےسے کےسے احساسات چھےن لےتی ہے۔ غربت تعلےم، صحت، زراعت، ٹےکنالوجی، تجارت، اخلاقےات سب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ عالمی بےنک 2026ءکے لئے پاکستان کے 45 فےصد کو غربت کی لکےر سے نےچے دےکھ رہا ہے اور پورا سال 40 فےصد کے اوسط درجہ رہنے کی توقع ظاہر کر رہا ہے۔عالمی بےنک کا ےہ بھی کہنا ہے کہ غربت کو اچھی تعلےمی پالےسےوں اور بہتر صحت کے اقدامات سے کم کےا جا سکتا ہے۔ غربت کے خاتمے کے لئے سب سے زےادہ ضروری اقدام افرادی قوت کی بہبود ہے۔
غربت عذابِ جان
09:02 AM, 23 Jan, 2026