فرانسیسی حکومت اور رافیل طیارے بنانے والی کمپنی کے انجینئرز بھارتی حکومت اور بھارتی فضائیہ کے اعلیٰ افسران کو سمجھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے فضائی معرکے میں جو رافیل طیارے مار گرائے گئے ان میں طیاروں کا کوئی قصور نہیں تھا یعنی وہ کسی بھی اعتبار سے کم تر نہیں تھے۔ فرانسیسی حکومت نے ”ایک دروازہ کھلا رکھنا“ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے بھارت کو یہ احساس نہیں دلایا کہ ان کے پائلٹ پاکستانی پائلٹوں کے مقابلے میں اچھی تربیت نہ رکھتے تھے۔ مزید برآں وہ اس مشن کو بہتر انداز میں استعمال نہ کر سکے اور نقصان کر بیٹھے۔ فرانس کی طرف سے اگر یہ سچ سامنے رکھ دیا جاتا تو پھر فرانس سے رافیل طیاروں کے سودے کے علاوہ دیگر اسلحے کی ڈیل بھی ختم ہو سکتی تھی لہٰذا بھارت کو باور کرایا گیا کہ پاکستان کو جس دفاعی نظام کی سہولت میسر آئی اس کے سبب بھارتی فضائیہ کو نقصان ہوا۔ فرانس نے بھارتیوں کو سمجھایا کہ یہ سب کچھ لنک۔16 کی وجہ سے ہوا جو پاکستان میں اس معرکے میں ایکٹو کیا جا چکا تھا۔ اس ذہن سازی کے بعد فرانس بھارت کو ایک سو چودہ رافیل طیارے فروخت کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس حوالے سے ڈیل فائنل ہو گئی۔ دونوں ملکوں نے اس معاملے کو ہمیشہ کے لئے طے کر لیا، جس کے بعد چالیس بلین ڈالر کے اس پراجیکٹ میں رافیل طیارے کا اسّی فید بھارت میں تیار کیا جائے گا۔ امریکی صدر کے لئے یہ صدمہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ ایک مہم کے ذریعے رافیل طیاروں کی مارکیٹ تباہ کرنے اور بھارت کو یہ طیارے خریدنے سے روکنے کے لئے جو کچھ کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے ایک مزاحیہ کردار اپنائے رکھا۔ وہ بات نیویارک کے میئر کی کرتے تو گفتگو کے آخری ٹکڑے میں وہ بھارت کے رافیل طیارے گرائے جانے کا ذکر کرتے۔ وہ سوئمنگ پول سے باہر نکلتے تو کہتے میں پیراکی کے دوران بھی سوچتا رہا کہ پاکستانی پائلٹوں نے کیسے بھارت کے آٹھ رافیل طیارے مار گرائے، ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ بھارت فرانس کے ساتھ رافیل طیاروں کا معاہدہ منسوخ کرے اور امریکہ کے بنائے ہوئے فینٹم35 طیارے خریدے۔ بھارت کی طرف سے رافیل طیاروں کی خریداری کا معاملہ فائنل ہونے سے امریکی صدر کو یقینا صدمہ ہوا ہے، جس کا اظہار وہ آئندہ ایک دو روز میں کہیں نہ کہیں کرتے نظر آئیں گے لیکن اس اعتبار سے بھارتی وزیراعظم کو داد دینی چاہئے کہ انہوں نے تمام تر دباﺅ اور ترغیبات کے باوجود وہ فیصلہ کیا جو انہوں نے بھارت کے لئے بہتر سمجھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ حالت صدمہ میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس پہنچے ہیں جہاں ورلڈ اکنامک فورم کا اہم اجلاس ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں دنیا بھر کے اہم اور ترقی یافتہ ممالک شریک ہیں جہاں اقتصادی معاملات کے علاوہ اور کسی اہم معاملہ پر بات ہو سکتی ہے لیکن بات وہی آگے بڑھے گی جو ڈونلڈ ٹرمپ کے مطلب کی ہو گی۔
فرانس کے صدر میکرون نے امریکی صدر کو ایک ذاتی مسیج کیا جس میں انہوں نے دوستانہ انداز میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیووس اجلاس سے فراغت پانے کے بعد میں آپ کو پیرس آنے کی دعوت دینا چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہو گی کہ وہاں روس، یوکرین اور گرین لینڈ و ڈنمارک کی بعض شخصیات کو بلا کر ہم متنازعہ امور کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں اور ہر مسئلے کا حل جنگ کو نہ سمجھیں۔ امریکی صدر کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ انہوں نے یہ ذاتی پیغام دنیا کے سامنے رکھ کر اس پر خوب تنقید کی اور کہا کہ ایسی کسی ملاقات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ امریکی صدر کو اس ذاتی پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ ہر طرف سے ایک ہی آواز اٹھ رہی ہے کہ انہوں نے فرانسیسی صدر کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ یہاں معاملہ صرف یہ نہیں کہ امریکی صدر کو یہ تجویز پسند نہیں آئی بلکہ انہوں نے فرانسیسی صدر کی طرف سے ایک اہم معاملے میں انکار کو اپنی بے عزتی سمجھا اور موقعے کی تلاش میں رہے کہ وہ کب حساب برابر کر سکتے ہیں۔
چند روز قبل امریکی صدر کی طرف سے غزہ میں قیام امن کے حوالے سے پیس بورڈ کی تشکیل کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے قریباً ساٹھ ممالک کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ اس فہرست میں پاکستان کے علاوہ بھارت، روس، یو اے، ہنگری، مراکش، بحرین، کینیڈا، اسرائیل اور فرانس کے علاوہ کئی ممالک شامل ہیں۔ فرانس نے اس پیس بورڈ میں یہ کہہ کر شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ بورڈ کے اغراض و مقاصد کو غزہ کے علاوہ اور بہت جگہوں پر اور کئی منصوبوں میں دیکھ رہے ہیں اور مناسب سمجھتے ہیں کہ فرانس کو اس میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔
اب تک بیس ممالک نے اس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے جن میں بحرین، یو اے ای، مراکش، کینیڈا اور ہنگری نے اپنی شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیل اس بورڈ کی مخالفت میں پیش پیش رہا لیکن اب اس نے بھی اپنی شمولیت کا فیصلہ سنا دیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل کا انکار دراصل امریکہ پر اپنا دباﺅ بڑھانے کے سلسلے کی ایک کڑی تھا تاکہ وہ اس منصوبے میں زیادہ سے زیادہ مفاد حاصل کر سکے۔
امریکی صدر کی خواہش اور کوشش ہے کہ ڈیووس اجلاس کے اختتام سے قبل زیادہ سے زیادہ تعداد میں ملک اس پیس بورڈ میں شامل ہو جائیں تاکہ اس اجلاس کے اختتام پر وہ فخریہ اپنی منصوبہ بندی اور اس کی کامیابی کا اعلان کر کے دنیا سے داد وصول کر سکیں۔ امریکی صدر کی خواہش ہے کہ تیس سے چالیس ممالک اگر اس میں شمولیت کا اعلان کر دیتے ہیں تو وہ اقوام متحدہ کو مزید آنکھیں دکھا سکیں گے۔ امریکی صدر عرصہ دراز سے اقوام متحدہ کو نالائق ادارہ ثابت کرتے چلے آرہے ہیں۔ ڈیووس روانگی سے قبل ڈیلاس کے ہوائی اڈے پر انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں پیس بورڈ کے حوالے سے سوال پر ایسا جواب دیا جس سے ان کے مستقبل کے عزائم کی خبر ملتی ہے۔ ایک صحافی نے پوچھا یا اسے پہلے سے یہ سوال دیا گیا کہ کیا یہ پیس بورڈ آئندہ چل کر اقوام متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے تو انہوں نے کہا ہاں کیونکہ اقوام امن کے حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کر سکا لہٰذا اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ پیس بورڈ دنیا میں جہاں ضرورت ہو رہاں امن قائم کرنے کی کوششیں کرے حالانکہ اقوام متحدہ اگر آج تک امن کے حوالے سے کوئی خاص کردار ادا کرنے سے قاصر رہا ہے تو اس کا سب سے زیادہ ذمہ دار امریکہ ہے جس نے گزشتہ برسوں میں غزہ میں امن قائم کرنے کے حوالے سے پیش کردہ قراردادوں کو متعدد مرتبہ ویٹو کیا، اسی طرح امریکی لابی میں شامل مختلف ممالک کا کردار بھی یہی رہا۔ گمان ہے امریکی صدر نے ”نیو نیٹو“کا خطرہ بھانپ لیا ہے لہٰذا وہ اس سے پہلے اپنی ذاتی اقوام متحدہ کا قیام چاہتے ہیں، ان کے صدمات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صدمات میں اضافے کا امکان
09:03 AM, 23 Jan, 2026