اسلام آباد : وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اب دشمن کو اسی کے گھر میں گھس کر بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پاک فضائیہ نے افغانستان کے 3 صوبوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کاری ضرب لگاتے ہوئے 100 سے زائد فتنہ الخوارج کو جہنم واصل کر دیا ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس کی بنیاد پر صرف دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور کیمپوں کے خلاف کی گئیں۔ کارروائی کے دوران کسی بھی سویلین کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ باجوڑ اور بنوں میں فوجی افسران و جوانوں کی شہادت کے بعد یہ ایکشن ناگزیر تھا، کیونکہ حالیہ دہشت گردی کے تمام تانے بانے افغانستان میں بیٹھے ہینڈلرز سے ملتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے سینیٹ میں انکشاف کیا کہ پاکستان نے طالبان رجیم کو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کیے تھے، مگر افغان حکومت نے دہشت گردوں کی منتقلی کے بدلے 10 ارب روپے مانگے۔ پاکستان رقم دینے کو تیار تھا لیکن طالبان حکومت نے دراندازی رکنے کی کوئی تحریری ضمانت نہیں دی۔
وفاقی وزیر نے جذباتی انداز میں کہا کہ سکیورٹی فورسز ملک کے امن کے لیے خون دے رہی ہیں اور اب ایک ایک شہید کے لہو کا حساب لیا جائے گا۔ پاکستان اب مزید دہشت گردی برداشت نہیں کرے گا۔
'اب صرف جنازے نہیں اٹھائیں گے'، طارق فضل چوہدری کا دوٹوک اعلان
07:29 PM, 23 Feb, 2026