ڈھاکہ : بنگلادیش میں حالیہ عام انتخابات کے بعد جہاں سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوا ہے، وہیں ملک کی عسکری قیادت میں بھی اہم تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ وزیراعظم طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی کی نئی حکومت نے فوج کے کلیدی عہدوں پر نئے افسران تعینات کر دیے ہیں۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق انٹیلی جنس اور آپریشنل کمانڈ میں درج ذیل تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد معین الرحمٰن: نئے چیف آف جنرل سٹاف (CGS) مقرر۔ میجر جنرل قیصر رشید چوہدری ڈائریکٹر جنرل آف فورسز انٹیلی جنس (DGFI) کے سربراہ تعینات کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل میر مشفق الرحمٰن آرمڈ فورسز ڈویژن کے پرنسپل اسٹاف آفیسر (PSO) کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ حالیہ ردوبدل میں چند سینیئر فوجی افسران کو سفارتی محاذ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ سابق پی ایس او لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن کی خدمات وزارتِ خارجہ کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ میجر جنرل محمد جہانگیر عالم کو وزارتِ خارجہ میں بطور سفیر تعینات کیا گیا ہے۔یہ عسکری تبدیلیاں 12 فروری کے تاریخی انتخابات کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں، جہاں بی این پی (BNP) نے 209 نشستوں کے ساتھ بھاری اکثریت حاصل کی۔ جماعت اسلامی نے 77 نشستیں حاصل کیں اور امیرِ جماعت اسلامی اب اپوزیشن لیڈر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد نئی حکومت اور عسکری اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، خاص طور پر انٹیلی جنس ادارے (DGFI) کی قیادت میں تبدیلی کو ملک کی اندرونی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
بنگلادیش میں نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی عسکری قیادت میں بڑا ردوبدل
05:19 PM, 23 Feb, 2026