کابل : افغانستان میں چینی سرمایہ کاروں اور مزدوروں پر شدت پسند گروہوں کے بڑھتے ہوئے حملوں نے طالبان انتظامیہ کے سکیورٹی سے متعلق تمام بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ ستمبر 2024 سے فروری 2026 کے آغاز تک کا ڈیٹا طالبان رجیم کی سکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران چینی اہداف پر ہونے والے 7 منظم حملوں نے کابل سے بیجنگ تک تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان حملوں کے ہولناک نتائج درج ذیل ہیں۔ حملوں میں اب تک 9 چینی شہری ہلاک اور 10 زخمی ہو چکے ہیں۔
شدت پسند گروہوں نے ان چینی ماہرین اور مزدوروں کو نشانہ بنایا جو افغانستان کی تعمیرِ نو اور کان کنی کے منصوبوں سے وابستہ تھے۔
افغان طالبان نے چینی حکومت کے ساتھ متعدد معاہدوں میں اس بات کی ضمانت دی تھی کہ چینی سرمایہ کاری اور افرادی قوت کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی، جس کے عوض طالبان کو بھاری معاشی مراعات اور منافع حاصل ہو رہا ہے۔ تاہم، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ طالبان غیر ملکیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ شدت پسند گروہ طالبان کی ناک کے نیچے چینی کیمپوں اور کام کی جگہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
سفارتی حلقوں کے مطابق، چینی حکام نے ان حملوں پر کابل انتظامیہ سے شدید احتجاج کیا ہے۔ چینی منصوبوں پر منڈلاتے خطرات نے بیجنگ کو اپنی 'بیلٹ اینڈ روڈ' پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو افغانستان میں ہونے والی اربوں ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری رک سکتی ہے۔
افغانستان: چینی شہریوں پر حملوں میں اضافہ، طالبان کے 'سکیورٹی قلعے' کے دعوے ریت کی دیوار ثابت
03:39 PM, 23 Feb, 2026