کوئٹہ : سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں دہشت گرد سلیم بلوچ کی ہلاکت نے "لاپتہ افراد" کے بیانیے کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سلیم بلوچ کو گزشتہ ماہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملوں میں ملوث پایا گیا تھا اور وہ اس فہرست میں شامل تھا جسے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بعض انسانی حقوق کی تنظیمیں "لاپتہ" قرار دیتی رہی ہیں۔
فتنہ الہندوستان اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سلیم بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ سکیورٹی فورسز سے لڑتے ہوئے مارا گیا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دیگر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے "لاپتہ" قرار دے کر اس کی ہلاکت پر پروپیگنڈا کیا، حالانکہ وہ دہشت گرد تنظیموں سے جڑا ہوا تھا۔
یہ پہلی بار نہیں ہے جب ایسی تنظیمیں دہشت گردوں کو لاپتہ افراد کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ ماضی میں بھی فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد جیسے برہان بلوچ، حفیظ بلوچ اور عبدالحمید بلوچ کو لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے، حالانکہ وہ دہشت گردی میں ملوث تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا مقصد بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرنا ہے تاکہ وہ فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں میں کھیل کر دہشت گردی اور مسلح بغاوت کا حصہ بنیں۔ ان تنظیموں کے ذریعے دہشت گردوں کے بارے میں جھوٹے بیانیے کو پھیلایا جاتا ہے تاکہ ان کی دہشت گرد کارروائیوں کو جواز مل سکے۔
سلیم بلوچ اور دیگر دہشت گردوں کی ہلاکتوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پروپیگنڈے کو کھول کر رکھ دیا ہے اور اس کے جھوٹے دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔