تھانہ کلچر میں مثبت تبدیلی،ذمہ دار حکومت

09:06 AM, 23 Feb, 2026

جب کسی معاشرے میں عام آدمی خود کو بے بس محسوس کرنے لگے تو ریاستی اداروں پر اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے لیکن اگر اقتدار کے ایوانوں سے یہ پیغام جائے کہ انصاف میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، تو ماتحت افسران بھی اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب اعلیٰ حکام خود میدان میں اترے اور دو ہفتوں کے اندر ایک مظلوم بیوہ کو انصاف دلانے میں نمایاں کردار ادا کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت آئی جی پنجاب عبدالکریم کی جانب سے کمیونٹی پولیسنگ کو عملی شکل دینے کی کوششیں نمایاں ہوتی جا رہی ہیں۔مقصد عام آدمی کو فوری اور بلاامتیاز انصاف کی فراہمی ہے تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو اور تھانہ کلچر میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔
حال ہی میں ضلع جہلم میں اس ویژن کی ایک واضح مثال سامنے آئی، جہاں ایک بیوہ خاتون کی 12 مرلے اراضی پر پانچ سال سے قابض گروہ سے زمین واگزار کروائی گئی۔ ڈی پی او طارق عزیر نے معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے قانونی تقاضے پورے کیے۔ اے سی کی رپورٹ اور متعلقہ تھانوں کی شفاف تفتیش کے نتیجے میں حقائق سامنے آئے اور زمین اصل مالکہ بیوہ خاتون کے حوالے کر دی گئی۔
یہ واقعہ صرف ایک زمین کے تنازعے کا حل نہیں بلکہ ایک سوچ کی تبدیلی کی علامت ہے۔ اگر انصاف کی فراہمی میں تیزی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تو نہ صرف تھانہ کلچر بدلے گا بلکہ عوام میں پولیس کا مثبت پہلو بھی اجاگر ہوگا۔ جب سائل کو بروقت ریلیف ملے گا تو اس کے دل میں پولیس کے لیے اعتماد اور احترام پیدا ہوگا اور یہی اعتماد کسی بھی معاشرے میں امن و امان کی بنیاد بنتا ہے۔
بیوہ خاتون کی دعائیں اور اطمینان دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاستی ادارے اگر خلوص نیت سے کام کریں تو عام آدمی کو انصاف مل سکتا ہے۔ کمیونٹی پولیسنگ کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں، شکایات کا بروقت ازالہ ہو اور قانون سب کے لیے برابر نظر آئے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اقدامات وقتی نہ ہوں بلکہ ایک مستقل پالیسی کا حصہ بنیں۔
تاہم اس واقعے کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔جن عناصر نے مبینہ طور پر ریکارڈ میں رد و بدل کر کے بیوہ خاتون کی اراضی پر قبضہ کرنے کی سازش کی ان کیخلاف بھی سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ صرف زمین واگزار کروانا کافی نہیں، بلکہ اس سازش کے پیچھے موجود تمام نجی اور سرکاری کرداروں کا احتساب ضروری ہے۔ اگر ریکارڈ میں تبدیلی ممکن ہوئی تو اس کا مطلب ہے کہ نظام میں کہیں نہ کہیں کمزوری موجود تھی۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ایسے عناصر کو بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بااثر گروہ کسی کمزور شہری کی زمین یا حق پر ڈاکہ ڈالنے کی جرات نہ کرے۔ نجی اور سرکاری عملے کی شفاف نگرانی، سخت احتساب اور مؤثر اصلاحات کے بغیر دیرپا تبدیلی ممکن نہیں۔اگر فوری انصاف کے ساتھ ساتھ ذمہ داران کا بے لاگ احتساب بھی یقینی بنایا جائے تو نہ صرف تھانہ کلچر بدلے گا بلکہ معصوم اور شریف شہریوں کے جان و مال کو حقیقی تحفظ ملے گا۔
یہ اقدام بلاشبہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جب قیادت نیک نیتی اور عوامی فلاح کے جذبے کے ساتھ عملی میدان میں اترتی ہے تو نظام میں جمود کی جگہ حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ 
حالیہ دنوں مریم نواز کی جانب سے پولیس کو جوابدہ بنانے اور ایک بیوہ خاتون کو انصاف کی فراہمی کے لیے واضح ہدایات جاری کرنا اسی مثبت طرز حکمرانی کی ایک مثال ہے،یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ہمارے ہاں اکثر معاملات فائلوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب آئی جی پنجاب عبدالکریم کی طرف سے صوبے کی پولیس واضح پیغام ملے کہ عوامی مسائل کا فوری حل اولین ترجیح ہے، تو سرکاری مشینری کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ اس عمل نے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور نگرانی مؤثر ہو تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
جب فوری انصاف نظام کا معمول بن جائے گا تو یقیناً پنجاب میں پولیس کا تشخص مزید بہتر ہوگا اور تھانہ کلچر حقیقی معنوں میں تبدیل ہوتا دکھائی دے گا۔عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب عام شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی فریاد سنی جائے گی اور اسے بروقت انصاف ملے گا۔ بیوہ خاتون کے کیس میں پیش رفت نے نہ صرف ایک خاندان کو ریلیف دیا بلکہ معاشرے کو یہ امید بھی دی کہ نظام میں بہتری ممکن ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ عوامی مفاد میں مثبت اقدامات کیے گئے ہوں، مگر ہر بار جب ایسے اقدامات نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں تو ایک نئی مثال قائم ہوتی ہے۔ اگر یہی طرزِ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو یقیناً عوام میں بھی مثبت تبدیلی آئے گی، قانون کی پاسداری بڑھے گی اور ریاستی اداروں پر اعتماد مستحکم ہوگا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ احتساب، شفافیت اور خدمت خلق کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی پالیسی بنایا جائے۔ کیونکہ جب حکمران اور ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں گے تو معاشرہ خود بخود بہتری کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔

مزیدخبریں