رمضان المبارک کا مہینہ اپنے پورے جلال اور جمال کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔ مسجدوںکی رونقیں بڑھ چکی ہیں، نمازیوں کی صفیں ہی نہیں گھروں ، محلوںاور شادی ہالوںمیں دسترخوان بھی پھیل چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر افطار پارٹیوں کی سیلفیاں باقاعدگی سے اپ لوڈ ہونا شروع ہوگئی ہیں۔جس کا سب سے روح پرور منظر وہ ہوتا ہے جب سال بھر مہنگے داموں آٹا، چینی اور گھی بیچ کرغریب اور لاچار گاہکوں کو چونا لگانے والے سفید شلوار قمیض پہنے بڑی بڑی تجوریوں اور توندوں والے تاجر بھائی خوشبو لگا کر اپنے جیسے بھائی بندوں کے لئے سموسے،پکوڑوں،دہی بھلوں،فروٹ چاٹ، کباب، بریانی، مٹن قورمہ اور مختلف انواع کے پھلوں اور مشروبات سے سجائی پُرتکلف افطار پارٹی میں کرائے کے مولوی صاحب سے رقت بھری آواز میں یہ دعا کرواتے ہیں’’یااللہ ہم سب کو شیطان کی چالوں سے محفوظ رکھ کر ہمیں رزق حلال عطا فرما‘‘۔حالانکہ یہ بات عام ہے کہ ماہ رمضان میں شیطان کو قید کردیا جاتا ہے۔ قید سے یا د آیا کہ آجکل اپنے ہینڈ سم بانی پی ٹی آئی بھی تو قید میں ہیں ۔لہذا اس سے پہلے کہ اُن کے چاہنے والے بلکہ اُن کو بُری طرح چاہنے والے ہمیشہ کی طرح بغیر سوچے سمجھے رمضان،شیطان اور قید کے ایک ساتھ تذکرے سے میری بات کا خوامخواہ کوئی غلط مطلب اخذ کرکے مجھے آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیں۔میں یہ وضاحت کردوں کہ میرا اشارہ قطعی طور پرخان صاحب یا اُن کی قید سے نہیں ہے۔ رمضان، شیطان اور قید سے اُن کی مماثلت محض اتفاقیہ ہے جس کے لئے راقم الحروف اور ادارہ ہرگز ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس کے باوجود بھی اگر اس اتفاقیہ مماثلت سے خان صاحب کے کسی چاہنے والے کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں اس کے لئے بھی تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔حالانکہ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ میری اس وضاحت اور معذرت کے باوجود خان صاحب کے چاہنے والوں نے میری بات کا اُلٹا مطلب نکالنا ہی نکالنا ہے۔یہ بات میں اتنے وثوق سے اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ میرا اب تک کا تجربہ ہے کہ جب جب بھی میں نے اپنے کالم میں کسی کتے،بلے،گدھے ،سور ،چول یا شیطان کا ذکرکیا ہے میں نے اکثر لوگوں کو خود سے بدگمان ہی پایا ہے۔افسوسناک پہلو اس بات کا یہ ہے کہ ان بدگمانوں میں چند ایک میرے اپنے جاننے والے بھی شامل ہیں۔سو اب میں کالم لکھتے ہوئے تو ایک طرف عام گفتگو میں بھی کسی قسم کے جانور اور شیطان کا تذکرہ کرنے سے حتیٰ الامکان پرہیز کرتا ہوں۔مگر کیا ہے کہ انسان غلطی کا پُتلا ہے اپنی ساری احتیاط اور تدبیر کے باوجود میری زبان یا قلم پر کہیں نہ کہیں کسی شیطان یا جانور کا ذکر آہی جاتا ہے۔ ان دنوں میں ’’بقلم خود‘‘ بھی رمضان کے روزے رکھنے لئے ایک ماہ کی چھٹی پر اسلام آباد سے لاہور آیا ہوا ہوں۔رمضان میں اس سے پہلے بھی مجھے ایک دو بار چھٹیاں لینے کا اتفاق ہوا ہے مگر پتا نہیں کیا وجہ ہے کہ جب سے میں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد شفٹ ہوا ہوں اپنے بھی خفا مجھ سے بیگانے بھی ناخوش حالانکہ میں کونسا کسی حکومت کا حصہ ہوں۔ یار لوگ رمضان میں میری ایک ماہ کی چھٹی کو لے کر ڈھکے چھپے لفظوں میں اسے بھی رمضان،شیطان اور قید سے جوڑ رہے ہیں۔ حالانکہ میرے وہ دوست جو مجھے عرصہ دراز سے جانتے ہیں وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ میں باوجود شدید خواہش کے ابھی تک میں شیطان کی پوسٹ کے لئے کسی بھی طرح اہل نہیں ہوں۔ اس حوالے سے مجھے اپنے کئی ایک سیاستدانوں، صحافیوں، اعلیٰ افسران اور مولوی حضرات پر رشک آتا ہے جو ناصرف شیطان کی ’’گڈ بُک‘‘ میں شامل ہیں بلکہ ان میں سے کئی ایک تو اپنی محنت اور لگن سے ترقی کرکے اب خود شیطان کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں ۔اس حوالے سے جب میں اپنی ناکامی کو دیکھتا ہوں تو کئی بار مجھے یہ خیال آتا ہے کہ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میرے سسٹم میں وہ مطلوبہ سہولت سرے سے دستیاب ہی نہ جو کسی بھی قسم کی شیطانی کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اب آپ اسی بات کو لیجے کہ گذشتہ دنوں میں اسلام آبادکے ایک پرسکون اور پوش ایریا میں تیسرے فلور پر واقع ایک ایسے فلیٹ میں تن تنہا رہ رہا تھا جہاں سے رات کو بالکونی سے نیچے پہاڑوں میں بکھری رنگا رنگ روشنیوں کو دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے ستارے زمین پر آ بسے ہوں ۔ ایسی رومانوی فضا جہاں میرے جیسے شاعر مزاج بندے کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے ساتھ کسی قسم کی روک ٹوک اور خوف وخطرے کے بغیر چوبیس گھنٹے وائی فائی، فرصت اور پرائیویسی کی سہولت بھی میسر ہو تو بڑے بڑے نیک اور پارسا بھی بہک جاتے ہیں۔مگر خدا جانے اس نامراد شیطان کو مجھ سے ایسی کیا خار ہے کہ اس نے اس آئیڈیل ماحول میں بھی کہ جس کے لئے دنیا ترستی ہے مجھے بالکل بھی لفٹ نہیں کرائی۔ اس کا مطلب ہے میرے حصے کا شیطان یا تومجھے بھی اپنی طرح نیک نہیں سمجھتا یا پھر وہ بھی کسی سرکاری ملازم کی طرح اول درجے کا ہڈ حرام ہے۔دونوں صورتوں میں شیطان کے لئے یہ انتہائی شرم اور میرے لئے انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ اس بات کا مجھے اس لئے زیادہ قلق ہے کیونکہ میرے حصے کا نیکی کا فرشتہ دل میں میری ساری ہیر پھیریوں کے باوجود کسی ایک لمحے کے لئے میری طرف سے غافل نہیں ہوتا۔ دوسری طرف میرا یہ کام چور شیطان ہے کہ جس نے کبھی اس بات کا فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش نہیں کی کہ میری تاریخ پیدائش یعنی سالگرہ کا دن عین ویلنٹائن ڈے یعنی 14فروری ہے۔ شیطان کی ہڈ حرامی کی وجہ سے جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے لڑکپن سے جوانی اور جوانی سے اب نیم بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں مگر حرام ہے جو محبت کے اس عالمی دن پر یا اس سے ہٹ کر کسی موقع پر میں نے کسی کو پھول دئیے ہوں یا مجھے کسی نے پھول دئیے ہوں۔ مجھے لگتا تھا شاید اس حوالے سے لاہور میں کسی حاسد نے کالے یا گورے علم کے زور پر میرے خلاف کسی قسم کی کوئی بندش کروا رکھی ہے ۔میں یہ سوچ کر اسلام آباد آیا تھا کہ شاید یہاں آکر میرے حالات کچھ بدلیں گے مگر یہاں آکر اندازہ ہوا ہے کہ کسی سیانے نے سچ ہی کہا تھا’’ جیہڑے لاہور بھیڑے اوہ ایتھے وی بھیڑے‘‘ یعنی جو لاہور میں نکمے ہیںوہ دنیا کے کسی بھی حصے میںکہیں بھی چلے جائیں وہ نکمے ہی رہیں گے۔ اسلا م آباد تو لاہور سے ویسے بھی کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔
رمضان،شیطان اور میں
09:03 AM, 23 Feb, 2026