افواہوں کے طوفان میں چھپا سچ سامنے آگیا، یاروں نے کیا کیا ڈرامے رچائے، چھپن چھپائی آنکھ مچولی، تین بہنوں کا شور، اتنے ہی بیرسٹروں کی بھاگ دوڑ، آنکھ کارڈ پانچ چھ دن سے زیادہ نہ چل سکا،شور شرابہ، میڈیا ٹاکس، دبائو کی پالیسیاں، دھمکیاں، کیا حاصل ہوا، پارلیمنٹ ہائوس کے اندر باہر اور خیبر پختونخوا میں موٹر وے بند کرنے سے12 افراد کی جان گئی، سارے اپنے تھے، اسد قیصر نے مبینہ طور پر یہ کہہ کر سفاکی کا ثبوت دیا کہ جانیں جانے کا افسوس ہے مگر خان کی آنکھ اولین ترجیح، ایمبولینسوں کو راستہ نہ دینے پر اموات ہوئیں، لواحقین کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں اموات کا سبب بننے والے کارکنوں نے پہنے ہوئے تھے دستانے۔ شاہد خٹک نے بڑھک ماری کہ کسی کا باپ بھی موٹر وے نہیں کھلوا سکتا لیکن دو تین دن بعد ’’باپوں‘‘ کی آمد کی خبر سنتے ہی بھاگ گئے۔ وزیر اعلیٰ کے روبوٹ کی طرح بے تکان بولنے والے معاون خصوصی شفیع جان کی ہر روز کی گفتگو بھی لاحاصل رہی، ملاقاتیں پھر بند، خان خیریت سے اڈیالہ جیل کی الاٹ شدہ بیرک تک محدود، جائیں تو جائیں کہاں، آنکھ کارڈ کا شور ختم، پردے کے پیچھے سے گھنٹی بجاتے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر نے اعلان کیا۔ ’’بھائیوں منڈوا ختم انشا جی چلو اب کوچ کرو‘‘ سیریز کے دوسرے ڈرامہ کی ریہرسل، بلڈ کارڈ کی پہلی قسط آن ایئر، بہن عظمیٰ خان نے پرانی ملاقات کے حوالے سے خان کا قول دہرایا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے بچا سکو تو بچا لو، دوسری بہن نے مطالبہ کردیا ہمارے بھائی کا بلڈ ٹیسٹ کرایا جائے اب اس پر سیاست ہوگی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے جھوٹ کی ملاقات بھانت بھانت کی بولیاں، لیکن اس سے پہلے ڈیل اور ڈھیل کی من گھڑت کہانیاں۔ رانا صاحب ڈیل کا جھانسہ دیتے ہوئے بڑوں کو ناراض کر بیٹھے، ڈیل ہوگئی؟ نہیں، ہوتے ہوتے رہ گئی، یعنی راستے میں ختم یعنی ٹٹ گئی تڑک کر کے، راجہ جی نے کہا ’’گرینڈ پلان تیار، این آر او مانگنے سے پہلے دے دیا گیا‘‘ چوہدری صاحب بولے ’’خیالی گھوڑے دوڑائو‘‘ خان اس وقت کہاں ہیں (حاضرین و ناظرین کی دلچسپی بڑھ گئی) لمبی چھوڑنے میں پرانے میر صاحب سب سے آگے سب سے عمدہ، ہم بھی وہیں موجود تھے ہم بھی سبھی دیکھا کئے (ڈیل کے مذاکرات کا آنکھوں دیکھا حال) خان کی خفیہ رہائی ہوچکی، راجہ جی نے مداخلت کی۔ ’’سامان بندھ گیا خان کی روانگی فائنل ’’پہلی قسط ختم‘‘ لائٹس آف ہوتے ہی لیجنڈ آف مولا جٹ نے شکل و شباہت لیے دراز زلف ویلن اپنی مرضی سے بڑھنے والی مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے نمودار ہوئے اور چھپے راز کھولنے لگے۔ آنکھ کارڈ کی عجب غضب کہانی 8 دسمبر کی ملاقات میں بینائی کا کوئی ذکر نہیں تھا تین ماہ بعد 15 فیصد رہ گئی گویا دنیا اندھیر ہوگئی آنکھوں سے مسلسل پانی بہتا رہا۔ مخالفین نے گرہ لگائی۔ ’’خان ڈٹ کے نہیں ڈر کے کھڑا ہے اپنے وکیل کو سامنے پا کر ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے آنکھوں سے دو چشمے جاری ہوگئے۔ ’’ہم رونے پر آجائیں تو دریا ہی بہا دیں، شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا‘‘ پمز کے ڈاکٹر کے علاج کے بعد چشمے خشک ہوگئے بینائی 65 فیصد بحال، شفا ٹرسٹ آئی اسپتال کے ڈاکٹروں کی موجودگی میں اعتراف کیا کہ گھڑی کی دونوں سوئیاں نظر آنے لگی ہیں۔ اللہ ہمارے خان صاحب کو آنے والی گھڑی سے بچائے، بینائی بحال ہو رہی ہے، 25 فروری کے انجکشن کے بعد مکمل بحال ہوجائے گی۔ ’’شور تھا ہر طرف رہائی کا، بات پہنچی تیری دوائی تک‘‘ 74 سال کی عمر میں ساری بیماریاں قدرتی نظام کا حصہ ہیں موجودہ سیاسی نظام کا کیا دوش، علیمہ خان کو ہر ہفتہ سازش نظر آتی ہے مشال یوسفزئی کے مطابق خان صاحب نے علیمہ باجی کو اس قسم کی باتیں کرنے سے منع کیا ہے لیکن وہ یہ باتیں کیوں کر رہی ہیں۔ پارٹی پر قبضے کی جنگ ہے وقت گزرنے کے ساتھ پارٹی 6دھڑوں میں بٹ گئی۔ علیمہ خان بالا دست، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نقوی کو بھی بے اختیار قرار دے کر دھرنے ختم پر ناراضی کا اظہار کیا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو ڈانٹ پلائی چرب زبان اپنے کرتب دکھا رہے ہیں۔ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں موٹر وے بند کرنے کا فیصلہ حماقت نہیں تھی تو پھر اور کیا تھا۔ پی ٹی آئی نے اپنے صوبہ میں دھرنے دے کر اپنی قبر کھودی خبر ہے کہ 30 ارکان پارٹی سے مستعفی ہونے کا سوچ رہے ہیں۔ ڈیل کے دروازے بند، قریب بیٹھے دوست نے ٹوکا، دروازے کھلے کب تھے۔ دھرنے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟ ختم ہونے پر علیمہ خان نے سب سے زیادہ برہمی کا اظہار کیا؟ بہنیں بنی گالہ پہنچ گئیں، پریس کانفرنس کے دوران لائیو بد تمیزی، گالم گلوچ لیکن اچکزئی نے شانے سے اترتی شال کو سنبھالتے ہوئے کہا ہمیں جو بہتر لگا وہ کیا کوئی نہیں مانتا تو ہم خاموش ہوجاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں روپوش شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ اپنے ہی صوبہ میں دھرنے دینے کا فائدہ، آنے جانے والی ہزاروں گاڑیاں رک گئیں۔ آٹا چینی سمیت اشیائے خور و نوش ناپید ہوگئیں۔ عوام نے مردہ باد کے نعرے لگا دیے۔ مقبولیت کا جنازہ نکل گیا۔ وزیر اعلیٰ کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔ بدنامی جھولی میں آن پڑی، معاون بولے بدنام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے گنڈا پور کے حشر کو یاد کرتے ہوئے فورا رہائی فورس کے قیام کا اعلان کردیا۔ رمضان المبارک میں بھرتیاں ہوں گی عید بعد حلف اٹھائیں گے۔ ہاتھوں میں ڈنڈے جیبوں میں پستول نہیں ہوں گے عبداللہ طارق سہیل نے فورس کو خواجہ سرا فورس کا نام دے دیا۔ جو تالیاں بجاتے ہوئے جیل کی دیواریں توڑ کر خان کو چھڑا لے جائیں گے۔ آخر کسی نے کہا کہ آخری عشرے میں بھرتی ہونے والوں کے نام ذمہ داروں کے حوالے کردیے جائیں گے سب ما شاء اللہ جیل کا ایندھن بنیں گے اور اپنے ایکس اکائونٹ پر سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کی طرح آہ و زاری کریں گے کہ میں 14 دنوں سے قید میں ہوں لیکن پی ٹی آئی کے کسی لیڈر یا کارکن نے مجھ سے ملاقات کی زحمت گوارا نہیں کی۔ رہائی فورس کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی پی ٹی آئی اختلاف رائے کا شکار ہوگئی۔ شیخ وقاص اکرم کے مطابق سیکرٹری جنرل اور سیاسی کمیٹی کی منظور ی کے بغیر ایسی کسی تجویز پر عملدرآمد ممکن نہیں جبکہ کوما فل اسٹاپ کے بغیر بولنے والے شفیع جان کا کہنا ہے کہ اعلان کی توثیق کی ضرورت نہیں ہے۔
قصہ مختصر خان کے بارے میں فیصلہ کرلیا گیا اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے خان صاحب نے بھی دیوار پر لکھی عبارت پڑھ لی ہے شاید اسی لیے انہوں نے بڑے باپو کو ’لو لیٹر‘ لکھا ہے جس میں نظر کرم کی استدعا کی گئی ہے۔ خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لیں،حالات اچھے نہیں ملک میں غربت کی شرح 28.9 ہوگئی۔ سات ماہ قبل 22 فیصد تھی۔ 9 کروڑ 97 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں وائٹ کالر غریبوں کی تعداد پانچ چھ کروڑ سے کم نہیں، سوا سو سے زیادہ فیکٹریاں اور کارخانے مبینہ طور پر بند ہوگئے ہیں، سرمایہ بیرونی ممالک میں منتقل کیا جا رہا ہے وہ کون سا خفیہ ہاتھ ہے جو گیس، بجلی، پیٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر معیشت مستحکم کرنے کے نعرے لگا رہا ہے۔ عوام ابھی تک موجودہ حکومت سے اچھے کی امید لگائے بیٹھے ہیں وزیر اعظم شہباز شریف کی شہرت اچھے سفارتکار کی بجائے خادم عوام کی ہے دوروں سے نظریں ہٹا کر عوام کی خدمت کریں تاکہ پھر ووٹ لے سکیں جہاں تک قومی حکومت کا تعلق ہے ہنوز دلی دوراست یعنی کوس کڑے ہیں۔
ڈیل، ڈرامہ، بلڈ کارڈ، رہائی فورس
09:02 AM, 23 Feb, 2026