کسی بھی انسان کی سب سے بڑی خواہش اْس کا اپنا گھر ہوتا ہے۔ وہ اِس کے حصول کے لیے دِن رات محنت کرتا ہے۔ خوش نصیب افراد ہی اپنی زندگیوں میں اپنے گھر کا حصول ممکن بنا پاتے ہیں۔ زمینوں اور تعمیراتی سامان کی مسلسل بڑہتی ہوئی قیمتوں کے باعث صوبہ پنجاب میں عوام کی ایک بڑی تعداد کے لیے اپنے گھر کا حصول صرف ایک خواب بن کر رہا گیا تھا بلکہ یوں کہیے کہ ایک نسل اپنی جمع پونجی سے پلاٹ خریدنے کے قابل ہوتی ہے تو دوسری یا تیسری نسل اْس پلاٹ پر گھر بنانے کے قابل ہوتی ہے مگر اَب وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز صوبہ پنجاب میں عوام کی ایک بڑی تعداد کی قسمت بدل رہی ہے۔ اْنہوں نے صوبہ پنجاب کے لوگوں کو گھروں کی فراہمی کے لیے "اپنی چھت اپنا گھر" کے نام سے اپنی نوعیت کا ایک ایسا منفرد منصوبہ شروع کر رکھا ہے جو پہلے کبھی دیکھنے سننے میں نہیں آیا۔ ماضی میں لوگوں کو گھر دینے کے لیے ملک میں مختلف ادوار میں مختلف سکیمیں شروع کی گئیں جن میں سے بیشتر شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو گئیں، ادھوری رہ گئیں یا کرپشن کی نظر ہو گئیں، مگر اِس بار مریم نواز کے عزم کے آگے کوئی بھی چیز رکاوٹ نہیں بن پا رہی۔ اِس بار کرائے سے ملکیت تک، اپنی چھت اپنا گھر نے لوگوں کی زندگیاں بدل دی ہیں۔ مریم نواز کے منصوبہ " اپنی چھت اپنا گھر" کے تحت محکمہ ہائونسگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ پنجاب گھر بنانے کے لیے 15 لاکھ روپے تک کا بلا سود قرضہ دے رہا ہے، جس کے تحت درخواست گزار خود اپنے گھر کی تعمیر کرتا ہے۔ اْسے یہ قرضہ نو سالوں میں واپس کرنا ہو گا۔ یہ سکیم کم آمدن والے افراد کے لیے ہے۔ یہ قرضہ صرف گھر بنانے کے لیے دیا جاتا ہے اور قرض کے تحت ملنے والی رقوم کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔ گھر بنانے کے لیے درخواست گزار کا صوبہ پنجاب کا رہائشی ہونا لازمی ہے۔ اپنی چھت اپنا گھر سکیم کے تحت حکومتِ پنجاب بغیر کسی مذہبی، سیاسی اور عقیدہ کی تفریق کے بغیر قرضے دے رہی ہے۔ جس میں کسی رکنِ قومی و صوبائی اسمبلی یا کسی افسر کی سفارش کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی چھت اپنا گھر منصوبہ کے تحت اگر کسی درخواست گزار کے پاس شہری علاقوں میں پانچ مرلے اوردیہی علاقوں میں دس مرلے تک زمین ہے تو اسے یہ قرضہ دیا جا رہا ہے۔ اِس سکیم کے تحت درخواست گزار آسان کوائف کیساتھ درخواست جمع کراتے ہیں، درخواست کی جانچ پڑتال کے بعد درخواست گزار کو ساڑھے سات لاکھ روپے کی دو اقساط کے بغیر کسی سود کے دے دی جاتی ہیں۔ سکیم میں بینکوں کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ مائیکرو فنانس کے اداروں کے ذریعے یہ رقم دی جا رہی ہے۔مریم نواز کے منصوبہ اپنی چھت اپنا گھر کے تحت مورخہ اکیس دسمبر سنہ دو ہزار پچیس تک محکمہ ہائوسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ ایک لاکھ اکیس ہزار سے زائد افراد کو ایک سو پچپن بلین روپے سے زائد کی رقوم فراہم کر چکا ہے۔ جس کے تحت صوبہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں پچاس ہزار سے زائد گھر مکمل ہو چکے ہیں اور اْن میں لوگ آباد ہو چکے ہیں جبکہ ستر ہزار سے زائد گھر زیرِ تعمیر ہیں۔ پنجاب حکومت پانچ سالوں میں پانچ لاکھ گھروں کی تعمیر کو یقینی بنائے گی جبکہ محکمہ ہائوسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ اگلے مالی سال جون تک مزید ایک لاکھ افراد کو گھروں کی تعمیر کے لیے بلاسود قرضے فراہم کریگا۔ منصوبے کے تحت اَب تک ستاون فیصد شہری جبکہ تینتالیس فیصد دیہی علاقوں میں لوگوں کو گھروں کی تعمیر کے لیے رقوم دی جا چکی ہیں۔ منصوبہ کے تحت کاروباری افراد، ملازمت پیشہ افراد، بیوائیں، یتیم، خواجہ سرا اور خدمات فراہم کرانے والے افراد سمیت زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے مرد وخواتین اِس سکیم سے فائدہ اْٹھا رہے ہیں۔ جن میں مریم نواز کے اِس منفرد منصوبہ میں ہر مالک اپنا گھر خود تعمیر کرتا ہے اور اْس کے معیار کو یقنی بناتا ہے۔ حکومت یا محکمہ کی جانب سے کوئی ٹھیکہ دار، کوئی سرکاری اہلکار یا کوئی بھی فرد اِس کام میں آڑے نہیں آتا۔ ہر فرد اپنی مرضی کے ڈیزائن سے اپنے گھر کی تعمیر مکمل کر رہا ہے۔ حکومت کو اِس سلسلے میں جتنی زیادہ درخواستیں موصول ہونگی اْتنے ہی زیادہ گھر بنیں گیں، گھروں کی تعمیر کے لیے قرض لینے والے افراد کو پہلے تین ماہ کوئی قسط نہیں دینی تا ہم بعد میں قرض کی واپسی کے لیے ماہانہ کم وبیش چودہ ہزار روہے ماہانہ کے حساب سے رقم واپسی کرنا ہے۔ مریم نواز کے منصوبہ اپنی چھت اپنا گھر کی نظیر اِس سے پہلے پنجاب کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اِس منصوبہ کی شفافیت اور کامیابی کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) اِس پر اپنی اپنی آزادانہ اور تحقیقاتی رپورٹس بھی جمع کرا چکی ہیں۔ مریم نواز کے اِس اچھوتے منصوبے " اپنی چھت اپنا گھر" سے جہاں صوبہ بھر میں گھروں کی قلت پوری ہو رہی وہیں دوسری جانب لوگوں کو روزگار بھی مل رہا ہے۔ صوبہ بھر میں کاروباری اور معاشی سرگرمیاں بہتر ہو رہی ہیں۔ ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کو روزگار مل رہا ہے، جس سے نہ صرف صوبائی سطح پر بلکہ ملکی سطح پر بھی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی بہتر ہو رہی ہے۔ وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز اَب تک ہزاروں یتیموں، بیوائوں، کم آمدنی والے افراد، شہداء ، ٹرانس جینڈر اور دیگر افراد کو گھروں کی تعمیر مکمل کروا چکی ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں 23 لاکھ گھروں کی قلت ہے۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 2047ء تک یہ قلت ایک کروڑ سے زائد ہو سکتی ہے۔ اِسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں موجود نصف گھروں میں گنجائش سے زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں اور اْنہیں بنیادی سہولتوں کی بھی کمی کا سامنا ہے۔ اپنی چھت اپنا گھر سکیم کے تحت صوبہ پنجاب میں نہ صرف لوگوں کو اپنے گھر مل رہے ہیں بلکہ اْن کا معیارِ زندگی بھی بہتر ہو رہا ہے۔کسی کو گھر جیسی نعمت دینا اْس کو روزگار دینے سے بھی زیادہ اہم ہے۔ صوبہ پنجاب میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کرایہ کے گھروں سے نجات پا رہی ہے اور دعائیں مریم نواز اور اْن کے والد میاں نواز شریف کو دے رہی ہے۔ اِس سے قبل تین بار وزیراعظم منتخب ہونے والے میاں نواز شریف نے بھی پاکستان ہائوسنگ سکیم متعارف کرائی تھی۔ مریم نواز اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتی ہوئی لوگوں کے دِلوں میں گھر بنا رہی ہیں اور دِلوں کی وزیراعلٰی بن رہی ہیں۔ اْنہوں نے وزیراعلٰی بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ہی لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ لوگوں کو گھر دینگی۔ وہ اپنا وعدہ نہیں بھولیں اور لوگوں کو گھر دے کر تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے لکھوا رہی ہیں۔ اِس وقت پنجاب بھر میں کوئی بھی ایک ایسا ضلع نہیں ہے جہاں " اپنی چھت اپنا گھر" سکیم کے تحت گھر نہ بن رہے ہوں۔ مریم نواز حقیقی معنوں میں نیا پاکستان بنا رہی ہیں۔ جن کا ایک خواب، ہزاروں چھتوں میں بدل رہا ہے۔ گھر، عزت اور تحفظ مریم نواز نے قوم کو اپنی چھت دے کر ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔
پنجاب میں گھروں کا انقلاب، مریم نواز کا تاریخی ہائوسنگ مشن
09:09 AM, 23 Dec, 2025