عرفان صدیقی صاحب … یادیں اور باتیں!

09:06 AM, 23 Dec, 2025

برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے بارے میں گزشتہ صدی کے ساٹھ کے عشرے کے برسوں کے حوالے سے کچھ یادوں اور باتوں کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ۱۹۶۳ء کے موسم خزاں میں ہماری شنا سائی بتدریج دوستی اور گہری قربت کا رُوپ دھارنا شروع ہوئی۔ ہم کینٹ بورڈ کے دو الگ الگ پرائمری سکولوں میں تعینات تھے اور گاہے گاہے ہماری ملاقاتیں ہو جاتی تھیں۔ اسی دوران ہم نے ایف اے پرائیویٹ امتحان کی تیاری شروع کی تو ان ملاقاتوں میں تسلسل اور اضافہ ہو گیا۔ ۱۹۶۴ء میں ہم نے سرگودھا تعلیمی بورڈ  (ابھی راولپنڈی تعلیمی بورڈ کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا) سے اچھے نمبروں میں ایف اے کا امتحان پاس کیا تو ہماری اگلی منزل پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کرنا تھا۔ ۱۹۶۶ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا داخلہ بھجوایا تو بی اے کے امتحان کی تیاری میرے لیے ایک مشکل مرحلہ اور چیلنج تھا تاہم عرفان صاحب مرحوم و مغفور کی رہنمائی اور دست گیری میرے لیے بڑی معاون اور مدد گار ثابت ہوئی۔ ہم نے بی اے میں انگلش لازمی اور پولیٹیکل سائنس اور اردو اختیاری مضامین کے ساتھ اسلامیات آپشنل یا اضافی اختیاری کے مضمون کا چناؤ کر رکھا تھا۔ 
دسمبر ۲۰۲۵ء میں یہ سطور لکھتے ہوئے میں تقریباً چھ دہائیاں قبل کے زمانے کو یاد کرتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ کیا مزے کا اور یادگار زمانہ تھا ۔ لالہ سرور مرحوم و مغفور جو نارمل سکول لالہ موسیٰ میں عرفان صاحب کے جے وی کے کلاس فیلو تھے، راولپنڈی کینٹ بورڈ کے ایک اور سکول میں ہماری طرح تعینات تھے ۔ ان کا پورا نام محمد سرور تھا اور ہم سے بڑے ہونے کی وجہ سے ہم انہیں لالہ سرور کہہ کر پکارتے تھے۔ میری بھی عرفان صاحب کی وساطت سے ان سے شناسائی اور دوستی ہوئی اور یہ دوستی بعد میں اتنی مستحکم رہی کہ بہت عرصہ تک ہماری جان پہچان کے حلقوں میںیہ دوستی ایک مثلث کے استعارہ کے طور پر معروف رہی۔ لالہ سرور ہوں، لالہ صدیق ہوں، راجہ اشتیاق ہوں، ہیڈ ماسٹر محمد فضل ہوں، ان مرحومین یا ہمارے ایک اور مہربان محمد افضل فردوسی جو راولپنڈی کینٹ بورڈ میںبطور ایجوکیشن سپرنٹنڈنٹ تعینات تھے اور بعد میں امریکہ منتقل ہو گئے کے بارے میں بھی ان شاء اللہ ضرور لکھوں گا کہ ان کے تذکرے کے 
بغیر عرفان صاحب کے بارے میں یادوں اور باتوں کا سلسلہ مکمل نہیں ہو سکتا۔
خیر میں پچھلی صدی کے عشرے کے وسط کے برسوں کی طرف آتا ہوں۔ جیسے میں نے لکھا ہے یہ بڑا یادگار اور نہ بھولنے والا زمانہ تھا۔ ہم (عرفان صاحب اور میں ) بی اے کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے تو کبھی کبھار اکٹھے فلمیں بھی دیکھ لیا کرتے تھے۔ ان برسوں میں ہم نے کتنی ہی خوبصورت اور یادگار فلمیں دیکھیں۔ ان میں سے کچھ کے نام بھولنے والے نہیںہیں۔ جولائی ۱۹۶۶ء کا کوئی دن تھا ۔ بی اے کا ہمارا پیپر تھا اور اُس دن شام کو ہم نے راولپنڈی سٹی صدر روڈ پر تاج محل سینما (جس کی عمارت کو عرصہ ہوا گرا کر وہاں مارکیٹ بنا دی گئی ہے) میں فلم سٹار محمد علی مرحوم اور دیبا کی مشہور اور یادگار فلم "آئینہ" دیکھی۔ عرفان صاحب کو محمد علی اور دیبا پر فلمایا ہوا یہ گانا "تم ہی تو محبوب میرے ، میں کیوںنہ تم سے پیار کروں" بڑا پسند تھا۔ اس عرصے میں یا اس سے کچھ عرصہ قبل ہم نے راولپنڈی مری روڈ پر ناز سینما  (یہاں بھی سینما کی جگہ اب کمر شل پلازہ بن چکا ہے)  میں وحید مراد اور زیبا کی رومانٹک فلم ــ"اَرمان" دیکھی۔ اس میں فلم سٹار زیبا کا کردار اور گانا "اکیلے نہ جانا ، ہمیں چھوڑ کر تم، تمہارے بنا ہم کیسے جئیں گے"۔ شاید میری زیادہ پسند تھی۔ اسی دوران کچھ انگریزی فلمیں بھی میں نے عرفان صاحب کے ساتھ مل کر دیکھیں۔ راولپنڈی صدر کے سیروز،اوڈین یا پلازہ سنیمائوں میں دیکھی جانے والی یہ فلمیں مجھے ابھی تک نہیں بھولیں۔ ان میں جنگِ عظیم دوم کے بارے میںدو فلموں Where Eagles Dare  (عقابوں کا نشیمن) اور  Guns of Nevoran (گنز آف نیوران) بڑی یادگار فلمیں تھیں تو ان کے ساتھ ایک بڑی زبردست فلم The  Hunch back of Notre Dance (کُبڑا عاشق) کا نام بھی یاد آ رہا ہے۔
ان برسوں میں ہمار ا اُس دور کے ایک بڑے قومی اخبار رونامہ "کوہستان " جو بیک وقت لاہور،  راولپنڈی،  ملتان اور فیصل آباد سے چھپتا تھا کے دفتر میں بھی آنا جانا شروع ہوا ۔ پہلے اس کا دفتر کالج روڈ پر تھا تو پھر کچھ ہی عرصہ بعد ملحقہ سڑک ڈی اے وی کالج روڈ پر منتقل ہو گیا۔ اسی سڑک پر جماعت اسلامی راولپنڈی کا دفتر ہوا کرتا تھا اور کچھ فاصلے پر جماعت اسلامی راولپنڈی کے اُس دور کے امیر مولانا فتح محمد مرحوم کا قائم کیا ہوا " ادارۂ تعلیمات عالمیہ" کالج بھی قائم تھا۔ اِسی کالج میں شام کی کلاسوں میں مختصر عرصہ کے لیے داخلہ لے کر میں اور عرفان صدیقی صاحب نے ایف اے کے پرائیویٹ امتحان کی تیاری کی تھی۔ روزنامہ "کوہستان " کثیر الاشاعت قومی روزنامہ تھا۔ مشہور اسلامی، تاریخی ناول نگار "نسیم حجازی مرحوم" کوہستان کے چیف ایڈیٹر اور عنایت اللہ مرحوم اس کے منیجنگ ایڈیٹر تھے۔ لاہور میں سید عالی رضوی مرحوم اور راولپنڈی میں ابو صالح اصلاحی جیسے نامور صحافی اس کے ایڈیٹر ہوا کرتے تھے ۔ بعد میں عنایت اللہ مرحوم اور ادارتی ٹیم کے کچھ سینئر ارکان نسیم حجازی سے اختلاف کی بنا پر "کوہستان " سے الگ ہو گئے اور انہوں نے نیا اخبار "روزنامہ مشرق  " نکال لیا۔ مشرق نے جلد ہی دھوم مچاد دی اور" کوہستان " بتدریج زوال کا شکار ہو کر کچھ سال بعد بند ہو گیا۔
روزنامہ  "کوہستان  "راولپنڈی میں مردِ درویش بشیر احمد سوہاوی ادارتی عملے کے سینئر رُکن تھے۔ جن سے ہمارا تعلق قائم ہو ا جو بعد میں جب  "کوہستان " کی بندش کے بعد " نوائے وقت " میں آ گئے تو گہرے تعلق اور دوستی کی صورت میں ان کی وفات تک قائم رہا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ "کوہستان " میں صفحہ نمبر ۲ پر "تعلیمیات " کے عنوان سے عرفان صاحب کے چند ایک کالم نما مضمون بھی چھپے۔ اسی دوران میں نے "کوہستان " میں اپنے آبائی گاؤں چونترہ اور ملحقہ علاقے کے مسائل اور معاملات کے بارے میں "مکتوبِ چونترہ " کے عنوان سے ڈائریاں لکھنا شروع کر دیں جو بہت عرصہ تک چھپتی رہیں اور اخبار میرے گاؤں کے پتہ پر میرے نام پر آتا رہا۔
برادرِمکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کا تذکرہ کرتے ہوئے بیچ میں میں اپنا ذکر لے کر آ گیا لیکن اس کے بغیر چارہ کار نہیں تھا۔ سچی بات ہے کہ پچھلی صدی کے ساٹھ کے عشرے کے جن برسوں کا میں ذکر کر رہا ہوں بلا شبہ عرفان صاحب مرحوم و مغفور کی معیت میں میرے لیے بڑے جوش و جذبے، محنت و مشقت اور سہانے مستقبل کے خواب دیکھنے کے دن تھے۔ ان برسوں میںعرفان صاحب سے میں نے بہت کچھ سیکھا اور حاصل ہی نہ کیا بلکہ میری سوچ اور اندازِ فکر ونظر کو بھی ایک خاص سمت ملی۔اس عرصے کو میں یاد کرتاہوں تو سچی بات ہے کہ میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں