سینٹ : مکالمے کی تلخی یا کچھ اور …

09:05 AM, 23 Dec, 2025

23دسمبر 2023ء کو روزنامہ نئی بات میں چھپنے والے میرے کالم ’’ سیاسی اتحاد: جس کی پہلی شرط اُس کا ٹوٹنا ہوتا ہے ۔‘‘ شائع ہوا تھا ۔ جو پاکستان میں ہونے والے اُن انتخابات میں سے آخری انتخاب تھا جہاں سیاسی اتحاد بنتے اورٹوٹتے رہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہو جانا کوئی اہم بات نہیں کہ نپولین نے کہا تھا کہ’’ مشترکہ خطرہ بد ترین دشمنوں کو یکجا کردیتا ہے۔‘‘ اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان میں ایک ایسا خطرہ پیدا ہو چکا تھا اور ابھی تک موجود ہے جو کسی سیاسی جماعت کا نہیں اس ریاست کا بدترین دشمن ہے ۔ سیاسی جماعتیں ریاست کی وجہ سے ہوتی ہیں نہ کہ ریاست کا وجود سیاسی جماعتوں کا محتاج ہو تاہے۔ مختلف تصورات ٗ خیالات و نظریات کا یہ مرکب کبھی دیر پا نہیں ہوتا ۔ مشترکہ خطرہ ٹلتے ہی یا پھر خطرہ ٹلنے کے آثار کے ساتھ ہی اتحادیوں کے رویوں میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ بڑے سیاسی اتحاد میں چھوٹی سیاسی جماعتوں کا وجود رحمت ہوتا ہے لیکن یہ بات’’ بڑی سیاسی جماعتوں‘‘ کو کبھی سمجھ نہیں آتی اور اکثر ’’بڑی سیاسی جماعتیں‘‘اپنے مفادات کے حصول کیلئے پہلے اپنا رویہ تبدیل کرتی ہیں جو دوسری سیاسی جماعتوں کیلئے اکثر ناقابل ِ قبول ہوتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنانے کیلئے سب کچھ کر گزرنے کیلئے تیار ہے جس کی زندہ مثال ابھی تک مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کا اتحاد ہے۔آگ اورپانی کی یہ یکجائی کسی معجزہ سے کم نہیں لیکن ہم معجزات کے دیس میں ہی بستے ہیں سو ہمارے چہرے حیرانی سے عاری ہوچکے ہیں ۔ مسٹر اعتزاز احسن تو بلاول کے وزیر اعظم بننے کے وقت (6ماہ) کا اعلان بھی کرچکے ہیں ۔اور جس براق رفتاری سے پاکستان پیپلز پارٹی اپنے اتحادیوں سے بدید ہو رہی ہے اُس سے بھی اُن کے عزائم صاف نظر آ رہے ہیں ۔’’ سینٹ کمیٹی برائے سوالات مواصلات ‘‘کے اجلاس میں برادرم عبد العلیم خان اور محترمہ پلوشہ صاحبہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جسے ’’ سینئر سیاستدان اور تجزیہ نگار ‘‘ فریقین کے مابین مکالمے کے دوران فوری رد عمل کا نتیجہ قراردے رہے ہیں لیکن میں ایسا ہرگز خیال نہیں کرتا ۔وفاقی وزیر ِ مواصلات عبد العلیم خان نے جب سینٹ میں اپنی تقریر میں بتایا کہ’’ کراچی ٗ حیدرآباد اور سکھر موٹر وے ایم 9اور ایم 10پر اسی سال کام شروع کردیا جائے گا اور یہ موٹر وے مشرف دورِ حکومت سے لے کر آج تک گزشتہ 25سال سے تاخیر کا شکار ہے اور ہائی وے کو موٹر وے بنا کر گزارہ کیا جا رہا تھا۔ یہ ایک دیرینہ وعدے کی تکمیل کے ساتھ ترقی کے ایک نئے سفر میں کراچی ٗ حیدر آباد اور سکھر کے عوام کو تعمیر وطن میں شامل کرنے کی انتہائی اہم اور مخلصانہ کوشش ہے کہ لوگ حکومتی وعدوں پر اعتبار تو کر لیتے ہیں لیکن اُن کی تکمیل تک منتظر رہتے ہیں ۔‘‘ عبد العلیم خان ایک تو وفاقی وزیرِ مواصلات ہیں اور دوسری طرف استحکامِ پاکستان پارٹی کے مرکزی بانی صدر بھی ہیں ۔ اُن کی اِس دوہری حیثیت نے عبد العلیم خان کے وزارتی بیان کو پاکستان پیپلز پارٹی کیلئے سیاسی بیان بنا دیا ۔ اب سندھ کی سیاست میں پیپلز پارٹی کوکسی دوسری سیاسی جماعت کا وجود تک برداشت نہیں اور اس کا ایک تجربہ ہم نے میئر کراچی کے الیکشن میں بھی دیکھا اورجہاں تک ترقی کی بات ہے تو سندھی واقعی قوم پرست ہیں اور ہزاروں سال پرانی یہ قوم جہاں اپنی روایات کی حفاظت کر رہی ہے وہاں اُس پسماندگی کو بھی وراثت بلکہ سندھ کے کلچر کا حصہ سمجھتی ہے یہی وجہ ہے کہ سندھ ترقی کے حوالے سے آج بھی راجہ داہر کے عہد میں سلامت ہیں۔سندھ میں ترقیاتی پروگرام کا اعلان عبد العلیم خان کے زبان سے ادا ہونا اوروہ بھی ایک ایسے مسئلہ پر جو عرصہ 25سالہ سے سندھ کے عوام کا مطالبہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مستقل صوبائی حکومت کاعوام سے دیرینہ وعدہ تھا ٗ جلتی پر تیل کا کام کرگیا ۔ میں آج بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہو کہ پاکستان کے منجھے ہوئے بڑے ذہین دماغ پیپلز پارٹی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں سو انہوںنے اُس وقت عبد العلیم خان کو فوری رد عمل دینے کے بجائے اس ’ڈرامے کوباقاعدہ سٹیج‘‘ کیا جس کا ایک ٹیلر ہم سب نے سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کو وائرل کرتے بھی دیکھا ۔ پیپلز پارٹی کی ’’شیرنی ‘‘ محترمہ بے نظیر بھٹو شہیدہ کی اُن سیاسی روایات کو تہہ و بالا کر رہی تھی جن کی بنیاد اور پرورش اُس عظیم خاتون نے دنیا کی پہلی مسلمان خاتون وزیر اعظم ہونے کے ناتے اپنی عظیم جدو جہد اور پاکستان کی بدترین مخالف طالبانی قوتوں کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے آبیاری کی تھی ۔ امریکیوں نے نائن الیون کے بعد ایک پالیسی متعارف کرائی تھی جسے دانشوروں نے provoke and punishment  یعنی پہلے کسی کو مشتعل کرو اور جب وہ مشتعل ہوجائے تو اُسے سزا دے دو ۔ عبد العلیم خان اور پلوشہ صاحبہ کے حوالے سے مجھے وہ ویڈیو کلپ بار باردیکھنے پر یہی سمجھ آیا کہ عبد العلیم خان بار بار سوالات کا جواب دیتے رہے اور پلوشہ صاحبہ انہیں مشتعل کرتی رہیں ۔ عبد العلیم خان پر سوالات کو الزامات میں تبدیل کیا گیا ٗ گوگل کے نقشے کو جھٹلایا گیا اور آہستہ آہستہ اپنی آواز بلند کرتی رہیں جس کا منطقی نتیجہ وہی ہونا تھا جو ہم سب نے دیکھا کیونکہ ازاں بعد اُس کو پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے مل کر وائرل کیا کیونکہ یہی وہ ممکنہ اتحادی ہیں جن کے نتیجہ میں بلاول آنے والے دنوں میں اعتزاز 
احسن کی پیشن گوئی کو سچ ثابت کرسکتے ہیں ۔ ابھی عمران نیازی کی سیاسی سپاہ پسپا ہوتی محسوس ہو رہی ہے لیکن اُس کے عسکریت پسند افغان حکومت کی گودمیں بیٹھے پاکستان پر نظریں گاڑھے ہمارے حکمرانوں کی اعمال ِبد اور افواج پاکستان کی قربانیوں کودیکھ رہے ہیں ۔ پلوشہ صاحبہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر اسلام کی سابق زوجہ ہیں جو 1976ء میں جبکہ ظہیر السلام صاحب 1956ء میں پیدا ہوئے ۔ پلوشہ صاحبہ نے 2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی جوائن کی اور ترقی کی منازل طے کرتی ہوئیں پہلے مخصوص نشست پر ایم این اے اور پھر سینیٹر منتخب ہو گئیں جبکہ ظہیر السلام نے 2022ء میں تحریک انصاف جوائن کر لی اور اُس سے پہلے انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں وہ بھی ہماری تاریخ کا حصہ رہیں گی ۔ہمیں بہرحال یہ نہیں بھولنا چاہیے خارجی پاکستان کے شمال مغربی محاذ پر بیٹھے پاکستان میں سازشوں کے تانے بانے بُن رہے ہیں سو ہمیں اندر سے مضبوط ہونے کی انتہائی ضرورت ہے ۔ عبد العلیم خان آنکھ کی شرم والا انسان ہے اُس نے کسی غلطی کے بغیر بھی خاتون سے معذرت کرنے میں اپنے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے ورنہ بات تو سیدھی سی ہے جب عبد العلیم خان نے اُس ٹولے کو بددیانت کہا تھا تو اصل بات ہو چکی تھی کہ مسئلہ سندھ کی موٹر وے کا ہے۔

مزیدخبریں