ٹرانسجینڈر کمیونٹی پر بیانات: ماریہ بی کے خلاف سائبر کرائم ادارے کی تحقیقات کا آغاز

09:07 PM, 23 Aug, 2025

اسلام آباد: معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کے سوشل میڈیا پر خواجہ سرا برادری کے خلاف متنازع تبصروں پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ابتدائی تفتیش شروع کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق، ادارے کی جانب سے ماریہ بی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 26 اگست کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک خواجہ سرا کارکن نعیم بٹ عرف سیما بٹ کی شکایت پر شروع کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ماریہ بی نے سوشل میڈیا پر کمیونٹی کے خلاف منفی مہم چلائی۔

اس معاملے کی پیروی کے لیے ماریہ بی نے معروف قانون دان بیرسٹر میاں علی اشفاق کی خدمات حاصل کر لی ہیں، جنہوں نے تصدیق کی ہے کہ اس کیس پر قانونی پہلوؤں سے مشاورت جاری ہے۔

یاد رہے کہ ماریہ بی اس سے پہلے بھی ٹرانس جینڈر افراد اور ہم جنس پرستی کے فروغ کے خلاف اپنے مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں مبینہ طور پر لاہور میں منعقدہ ایک پارٹی میں خواجہ سرا افراد کو نامناسب حرکات کرتے دکھایا گیا تھا۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پنجاب پولیس نے لاہور میں کارروائی کرتے ہوئے کئی خواجہ سرا افراد کو حراست میں لے لیا۔ تاہم، مقامی عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا اور تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ کوئی ٹھوس شہادت موجود نہیں جس سے ملزمان کا جرم ثابت ہو، لہٰذا جسمانی ریمانڈ کی درخواست بھی مسترد کی گئی۔

یہ واقعہ پاکستان میں اظہارِ رائے کی حدود، انسانی حقوق، اور خواجہ سرا برادری کے تحفظ جیسے اہم موضوعات کو ایک بار پھر بحث کا حصہ بنا رہا ہے۔

مزیدخبریں