روس نے پیوٹن اور زیلنسکی کی فوری ملاقات کی خبریں یکسر مسترد کر دیں، سفارتی تعلقات میں شدت

12:16 AM, 23 Aug, 2025

روس:روسی حکومت نے صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان فوری ملاقات کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی ثالثی کی کوششیں بھی اس معاملے میں تعطل کا شکار ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے واضح کیا ہے کہ پیوٹن اور زیلنسکی کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں پائی ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب نیٹو کے سربراہ مارک روٹے یوکرین کی سلامتی کے حوالے سے بات چیت کے لیے کیف کے دورے پر تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کے آغاز میں دعویٰ کیا تھا کہ دونوں صدور نے ملاقات پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ ان دونوں میں کوئی ہم آہنگی نہیں اور انہیں "تیل اور سرکہ" کے مترادف قرار دیا۔

لاوروف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ "کوئی ملاقات ابھی تک طے نہیں پائی" اور یہ کہ روسی صدر "زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار ہیں اگر ایجنڈا تیار ہو جائے، لیکن اس کی کوئی تیاری نہیں ہوئی۔" انہوں نے یوکرینی صدر کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے روسی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے کیف میں نیٹو سربراہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ یوکرین نے روس کے ساتھ کوئی سرکاری معاہدہ نہیں کیا، اور صرف امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ سفارتی رابطے موجود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ روس ملاقات سے گریز کر رہا ہے اور جنگ بندی کی بجائے جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔

یوکرین کی سلامتی کے مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے امریکی قیادت کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاکہ اس طویل تنازعے کا خاتمہ کیا جا سکے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے یوکرین کے لیے کچھ مغربی سیکیورٹی ضمانتوں پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن ماسکو نے اس دعوے کو مسترد کیا۔ سرگئی لاوروف نے کہا کہ "روسی شرکت کے بغیر یہ مذاکرات محض خیالی بات ہے اور بند گلی میں لے جانے والا عمل ہے۔"

لاوروف نے نیٹو رکنیت سے انکار اور علاقائی تنازعات پر بات چیت کے اصولوں کو بھی اہم قرار دیا، جنہیں یوکرینی صدر نے مسترد کر دیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1994 میں بڈاپسٹ میمورنڈم کے تحت روس نے یوکرین، بیلاروس اور قازقستان کو جوہری ہتھیار چھوڑنے کی شرط پر سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر روس نے 2014 میں کریمیا پر قبضہ کر کے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی اور 2022 میں وسیع پیمانے پر حملہ کر کے خطے میں خانہ جنگی کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں بے گھر اور ہزاروں ہلاک ہوئے۔

مزیدخبریں