واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں اپنی شرائط واضح کر دیں، ترجمان کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے کسی ڈیڈ لائن کے بجائے 'نتائج' کو ترجیح دی ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق سیز فائر اس وقت تک برقرار ہے جب تک ایران تہران سے کوئی متفقہ جواب نہیں بھیج دیتا۔ واشنگٹن نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنا تمام افزودہ یورینیم امریکی حکام کے سپرد کرے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
موجودہ صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا جہازوں کی ضبطی: ایران کے دو جہازوں کو قبضے میں لینا سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں بلکہ معمول کی کارروائی ہے۔ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتائج سے مطمئن ہیں اور اسے خطے میں امریکی مفادات کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران کی مذاکرات کی خواہش اس کی مضبوطی نہیں بلکہ مجبوری ہے، کیونکہ شدید معاشی دباؤ نے ایرانی قیادت کو دوبارہ بات چیت کے راستے پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایران کو افزودہ یورینیم ہر صورت حوالے کرنا ہوگا، جنگ بندی مشروط ہے: وائٹ ہاؤس
09:10 AM, 23 Apr, 2026