لاہور: پنجاب حکومت نے رواں سال ستمبر میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم اس بار امیدواروں کے لیے تعلیمی قابلیت کی نئی شرائط نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
نئے قانون کے مطابق چیئرمین کے لیے بی اے، وائس چیئرمین کے لیے ایف اے اور کونسلر کے لیے میٹرک لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ شرط عوام کی نمائندگی کے دائرہ کار کو محدود کر سکتی ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔
دوسری جانب، حکومت کا مؤقف ہے کہ باصلاحیت اور تعلیم یافتہ قیادت ہی بہتر بلدیاتی نظام کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 میں ضلعی کونسلوں کو ختم کر کے اختیارات بیوروکریسی کو سونپے جا رہے ہیں، جس پر بعض حلقوں نے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔
یہ قانون اور انتخابی عمل کیا واقعی عوام کو بااختیار بنانے کی جانب قدم ہے یا اقتدار کی مرکزیت کو مضبوط کرنے کی کوشش؟ یہ سوالات آئندہ دنوں میں اہم سیاسی بحث کا مرکز بن سکتے ہیں۔