تھیٹرز پر چھاپے نہیں‘ ایمرجنسی لگائیں …(پہلا حصہ)

09:42 AM, 23 Apr, 2025

پنجاب کے عوام آج کل دو میچز سے بڑے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ایک طرف پی ایس ایل تو دوسری طرف پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری بمقابلہ لاہور تھیٹر کے فنکاروں نے خوب میدان سجا رکھے ہیں۔ میچ کوئی بھی ہو اور جس طرح بھی کھیلا جائے وہ میچ ہی ہوتا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے آرٹسٹوں کے درمیان فری سٹائل میچ جاری و ساری ہے۔ پنجاب حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ معیاری تھیٹر دیں اور ذومعنی فقرات سے بھرا سکرپٹ نہیں ہونا چاہئے اور تھیٹر کو تھیٹر رہنے دیں، اس کو فحش ڈانس کی طرف نہ لے کر جائیں۔ یہ تو مؤقف ہے حکومت پنجاب کا جبکہ دوسری طرف جس کام کو تھیٹر کا نام دیا جا رہا ہے۔ بڑی معذرت کے ساتھ پاکستان میں تھیٹر بہت عرصہ پہلے وفات پا چکا ہے۔ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ پنجاب تھیٹر کی روایات کیا تھیں اس کو چلانے والے کون لوگ تھے اس تھیٹر کو لکھنے والے کون لوگ تھے اور وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیوں کو تھیٹر کے فروغ کے لئے وقف کیا اگر میں سید امتیاز علی تاج، صوفی تبسم، انتظار حسین، عشرت رحمانی، ڈاکٹر انور سجاد، مسعود اختر، شعیب ہاشمی، صفدر میر، عثمان پیرزادہ، اجوکا تھیٹر کے شاہد احمد،سہیل احمد، عرفان کھوسٹ یا اور بڑوں کا ذکر کروں تو اس دور کا تھیٹر تھا جب شام کو ایڈوانس بکنگ کے لئے لوگوں کی قطاریں لگا کرتیں یہ وہ تھیٹر تھا جو گھریلو ماحول میں پیش کیا جاتا تھا۔ یہ تھیٹر کا وہ سنہرا دور تھا جب پاکستان میں بڑی کلاس بھی تھیٹر دیکھنے جاتی تھی پھر بدلتے وقت کے ساتھ اسی تھیٹر کے تھوڑے رویے بدلے اور سنجیدہ تھیٹر کی جگہ جگت تھیٹر پیش کیا جانے لگا اس کے ساتھ ہی تھیٹر دیکھنے والوں کی کلاس بھی بدل گئی۔ ان فنکاروں میں امان اللہ، سہیل احمد، ببو برال، خالد عباس ڈار، کمال احمد رضوی، منور سعید، اطہر شاہ خان، ذوالقرنین حیدر، عمرشریف، جمیل بسمل، عابد کاشمیری، عرفان ہاشمی اور جمیل جمیل فخری شامل تھے۔ انہوں نے سنجیدہ جگت دی، یہ وہ فنکار تھے جنہوں نے مزاح کو ترجیح دی اور مزاح کو مزاح ہی کے انداز میں پیش کیا جس کو بہت پسند کیا گیا اور اس سے تھیٹر کے مقبولیت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا۔ اس مزاح کے بعد بعض فنکاروں نے گندی جگت کو فروغ دیا۔ اسی ماحول میں جب ڈرامے کو کمرشل کیا گیا تو ڈرامے کے مزاج بھی بدل گئے۔ اس کے اصل وارث کمرشل ڈرامے کے مزاج کو نہ سمجھ پائے اور انہوں نے آہستہ آہستہ خود کو تھیٹر سے الگ کر لیا۔ ڈرامہ کے پروڈیوسر نے جو اصل تھیٹر کی بڑی تباہی کا ذمہ دار ہے اس نے پیسہ کمانے کے لئے ننگے ڈانس کلچر کو فروغ دینا شروع کر دیا اور اسی پروڈیوسر نے بازار حسن کی رقاصائوں کے لئے تھیٹر کے دروازے کھول دیئے اور ان کو وہاں سے تھیٹر تک لانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اس پر خاص کر سہیل احمد نے اور دوسرے سینئر اداکاروں نے احتجاج کیا کہ آپ ڈرامے کو ضرور بیچیں مگر اس کی روایات کو نہ توڑیں اور اگر ڈانس پیش کرنا ہی ہے تو پھر اس کو بازاری رنگ نہ دیں۔ 
مریم نواز کی پنجاب میں جب سے حکومت آئی ہے اس نے جہاں دوسرے منصوبہ جات پر کام شروع کیا ہے وہاں فلم انڈسٹری کو زندہ کرنے اور پنجاب کلچر کے علاوہ تھیٹر کو بہتری کی طرف لانے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ پنجاب حکومت کا یہ اقدام قابل تحسین ہے کہ اس نے تھیٹر کو مزید تباہ ہونے سے بچاتے ہوئے کہ آج اس تھیٹر پر جو فحش گندے ڈانس اور فحش گانوں کو جس طرح پیش کیا جا رہا تھا یہ بہت بڑی تباہی تھی اور ہمارے تھیٹر کی تاریخ کا یہ بدترین دور ہے۔ اس تھیٹر پر کھلے عام بیہودہ گانوں پر ننگا ڈانس جو اب سوشل میڈیا پر زہر کی مانند پھیلایا جا رہا تھا اور ضرورت اس امر کی تھی کہ اگر اس کو صاف نہ کیا گیا اور اس کے خلاف ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پھر یہ تباہی گھر گھر پھیل جائے گی۔ چھاپہ مہم کو اگر ماضی میں دیکھتا ہوں تو پہلے بھی اس طرح کے کئی بار چھاپے مارے گئے پہلے بھی آرٹسٹوں کو ہراساں کیا گیا۔ پہلے بھی انہی ڈانسرز پر پابندیاں لگیں مگر بعد میں ان کو ہوا میں اڑا دیا گیا۔ عظمیٰ بخاری نے گزارش یہ ہے کہ آپ بھلے جو کام کریں اس پر فالواپ رکھنا ہی تو اصل بات ہے۔ ان اقدامات پر عملدرآمد ہی تو بڑا مسئلہ ہے۔ اس کو بیانات یا فوٹو شوٹ کی حد تک نہ رکھیں۔ ویسے تو ہماری آرٹس کونسل چلانے والوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے قواعد و ضوابط بنائیں خاص کر کوئی سکرپٹ بغیر پاس کئے ڈرامہ نہ چلنے دیا جائے اور ڈانسرز کو پابند کیا جائے کہ وہ فحش ڈانس نہ کریں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ جب آپ سخت قوانین بناتے ہوئے ان پر عملدرآمد نہیں کراتے تو یہ سلسلہ تھوڑی دیر رکنے کے بعد کہیں اور سے تھیٹر ہی کے نام سے چل پڑے گا۔ اس کے لئے حکومت کو ایک ایسی کمیٹی تشکیل دینا ہوگی جو روزانہ کی بنیاد پر تمام تھیٹر پر اچانک وزٹ کرے اور گندے ڈانس کو ہرممکن طریقے سے روکے جو زہر کی مانند آہستہ آہستہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہماری نسلوں میں اتارا جا رہا ہے۔ خاص کر ان پروڈیوسر اور ہدایتکاروں کو روکنا ہوگا جو کمرشل ازم کی آڑ میں ہماری نسلوں کو گندے ڈانس کا عادی بنا رہے ہیں۔ اصل مجرم تو وہ ہیں جو تھیٹر کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے پیسہ کمانے کی خاطر اس کو تباہ کر دیا ہے۔       (جاری ہے)

 ابھی یہ زیادہ دور کی بات نہیں۔ سابق نگران حکومت میں بھی اس وقت کے وزیر اطلاعات عامر میر نے بھی چھاپے مارتے ہوئے دس رقاصائوں پر فحش ڈانس کرنے پر پابندی لگائی تھی اور ایک دو تھیٹر بھی بندش میں آئے اور جیسے ہی نگران حکومت گئی تمام معاملات ٹھپ اور ننگا ڈانس پھر زور پکڑنے لگا۔ یہ ایک سال پہلے کے واقعات ہیں۔ میرے نزدیک عظمیٰ بخاری کے ایک دو چھاپوں سے معاملہ رکے گا نہیں کیونکہ ہمارا واسطہ بہت ڈھیٹ قسم کے لوگوں سے پڑا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے ملک میں فوری طور پر ثقافتی ایمرجنسی لگاتے ہوئے تھیٹر کے اندر عریاں رقص اور فحش مکالمے بازی کو ختم کیا جائے۔ اس ڈانس کے بارے یہ کہا جا رہا ہے کہ رقص تو اعضاء کی شاعری ہے مگر اعضاء ننگے کرنے کا نام شاعری نہیں۔ پوری دنیا میں رقص وہاں کی تہذیبوں کے مطابق ہوتا ہے۔ ہم نے تو اپنی تہذیب ہی کو ننگا کر دیا۔ ہم نے یہاں یہ بھی دیکھا کہ تھیٹر کی پروموشن کے لئے چند بڑے سینئر فنکاروں نے آواز بلند کی کہ خدا کے لئے اس ورثے کو بچالیں ورنہ آپ کی نسلیں اپنی تہذیب و ثقافت سے محروم ہو جائیں گی۔ یہاں ایک اور بات کرتا چلوں کہ ایک دور میں ہم کامیڈی میں بھارت سے بہت آگے تھے اور آج بھارت آپ کی کامیڈی پر حملہ آور ہو رہا ہے جبکہ کامیڈی ہمارے پاس وہ واحد ویپن تھا جس کے ذریعے ہم بہت بڑی ثقافتی جنگ لڑ سکتے ہیں اور ہمارے پاس بھارت کے مقابلے میں بہت بڑی کامیڈی کی کھیپ موجود ہے اور ہم تو پرفارمنگ آرٹ میں کامیڈی کے بہت مضبوط پلر تھے۔ پوری دنیا میں دوسرے تھیٹرز کے علاوہ ایک ڈانسنگ تھیٹر بھی ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے معاشرتی نظام کی وضاحت کرتے ہیں اور آرٹ بھی وہیں سے جنم لیتا ہے۔ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو پھر ان تھیٹرز کو ڈانسنگ ہال بنا دیں اور ان کو ناچ گھر کا نام دے دیں مگر خدا کے لئے فحش ڈانس کے ذریعے تھیٹر کی اصل روایات کو تباہ نہ کریں۔ اگر آپ کا تھیٹر بھی ختم ہوگیا تو پھر آپ کی ثقافت بے موت مر جائے گی۔ دوسری طرف بعض اداکارائیں تو یہ کہتی تھکتی نہیں کہ ان کے بغیر لوگ آتے نہیں، مجھے بتایئے کہ گورے پاگل ہیں کہ ان کی فلم ڈانس کے بغیر کامیابی حاصل کر رہی ہے تو کیا آپ اتنے مسکین اور جاہل ہیں کہ آپ جدید دور میں یہ کہہ رہے ہیں کہ رقص کے بغیر ڈرامہ چلتا نہیں۔ آپ ڈرامے کو اس کی اصل روح میں اْتاریں تو سہی کہ لوگوں کو اس کی عادت پڑے۔ ماضی میں ہونے والے تھیٹرز میں تو ڈانس نہیں تھے، پہلے بھی یہ ڈرامہ بہت مقبول تھا۔ میں یہاں ایک مثال افضال احمد (مرحوم) کی دوں گا کہ انہوں نے پاکستان کی تھیڑ کی تاریخ میں ایک طویل ڈرامہ ’’جنم جنم کی میلی چادر‘‘ پیش کیا۔ اس کی کہانی ایک طوائف کے گرد گھومتی تھی اور اس میں ایک طوائف کا مجرا بھی تھا۔ کیا اس وقت کے بیوقوف لوگ تھے جو یہ تصور کر لیتے کہ یہ ڈرامہ صرف رقص کی وجہ سے چلا۔ وہ کہانی بھی ایک رقاصہ کے گرد گھومتی تھی۔ دوسرے پروڈیوسرز نے ڈراموں میں رقص ڈالنا شروع کر دیا جبکہ ڈرامے ’’جنم جنم کی میلی چادر‘‘ میں رقص ایک روایتی سکرپٹ کی ڈیمانڈ تھی۔ اس میں تو اسلام شہابی کے زندہ سیٹ تھے جو خود بولتے، اور اس ڈرامے میں دس بڑے رائٹرز کے ڈائیلاگ تھے۔ افضال احمد اور عرفان کھوسٹ جیسے بڑے ناموں کی ہدایات تھیں لہٰذا میری گزارشات یہ ہیں کہ آپ اپنی کامیڈی کو فحش رقص کے پیروں تلے تو نہ کچلیں۔ ڈرامے کی تباہی کی دوسری بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کا بہت فقدان ہے لہٰذا نچلے طبقے نے اس ڈانس کو اپنی تفریح تصور کر لیا جس کا اندازہ بعد میں ہوا کہ لوگوں نے رقاصاؤں پر نوٹ نچھاور کرنا شروع کر دیئے اور جو اصل ڈرامہ تھا وہ لوگوں کی پہنچ سے دور ہوگیا اور تھیٹر کو ہم نے مجرا گاہ بنا دیا۔ 
دیکھیں ایک چیز کو پروموٹ کرنے کے لئے ایک شخص کا کردار نہیں بلکہ اس کے اردگرد اور بہت سی چیزیں ہوتی ہیں۔ انہی وجوہات کی وجہ سے آپ کی ہیرا منڈی، فلم انڈسٹری اور اب تھیٹر بھی بند ہو گیا۔ یہاں ایک مثال سلطان راہی کی دوں گا کہ جس نے اردوں فلموں کے بعد پنجابی زبان کو زندہ کیا مگر وہ بھی اسی رو میں مار دیا گیا اور اس دور میں فلمسازوں نے ایک ہی گھوڑے پر داؤ لگایا ہوا تھا اور پوری فلم انڈسٹری ایک گھوڑے کے گرد گھومتی تھی اور جب اس گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹی تو آپ کی تمام انڈسٹری بڑا لگایا جوا ہارگئی۔ سلطان راہی کے قتل کے بعد انڈسٹری بھی قتل کر دی گئی۔ یہی کہانی تھیٹر پر دہرائی گئی جب سنجیدہ ڈرامہ ختم ہوا تو اس کی جگہ ڈانس کلچر نے لے لی اور اس کو زندہ رکھنے والے فنکاروں نے خود کو اس سے الگ کر لیا۔ بس پھر وہی ہوا جو آپ دیکھ رہے ہیں، حشر اور نشر دونوں موجود ہیں۔ 
اور آخری بات…
میں نے ایک بار سہیل احمد کا تھیٹر کے حوالے سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا تھا اور مجھے ان کا مؤقف جان کر بڑی خوشی ہوئی اگر حکومت آج بھی سہیل احمد جیسے فنکاروں کو جو تھیٹر کو زندہ کرنا جانتے ہیں اور بقول سہیل احمد کے خدارا ہمارے اس برباد ہوتے تھیٹر کو بچائو… یہ ہمارا بہت بڑا ورثہ اور بڑے آرٹ کا گہوارہ ہے۔ اس کے ذریعے ہم براہ راست قوم کو ایجوکیٹ کرتے ہیں۔ مجھے سہیل احمد کی باتوں سے سو فیصد اتفاق ہے۔ یہاں عظمیٰ بخاری سے گزارش ہے کہ وہ ایسے قوانین بنائیں جس میں صرف رقاصائوں کو مجرم نہ ٹھہرائیں بلکہ ان پروڈیوسر اور دوسرے عناصر کو کنٹرول میں لائیں اور سزائوں کو عملی شکل دیں۔ اب معافی نامے نہیں بلکہ تھیٹر کو بچانے کا وقت ہے۔ اس آرٹ کو بچانے کا وقت ہے جس نے تھیٹر کی روایات کو زندہ رکھنا ہے۔ 

مزیدخبریں