پاکستان کا قیام مسلمانانِ ہند کی خودداری‘ اتحاد اور قومی حمیت کا عکسِ جمیل ہے۔ اس کی بنیادیں ان لاکھوں شہداء کے خون سے سیراب ہوئی ہیں جنہوں نے غلامی کی بجائے آزادی‘ بے غیرتی کی جگہ غیرت مندی اور استحصال کی جگہ انصاف کا انتخاب کیا۔ انگریزوں اور متعصب ہندوئوں کی جانب سے برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کی عزتِ نفس اور خودداری کی مسلسل پامالی نے اس مملکت خداداد کے قیام کیلئے فضا تیار کی۔ مسلمان اس لحاظ سے خوش قسمت ثابت ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ابتلا کے اُس زمانے میں دو ایسے رہنما عطا فرما دیئے جن میں سے ایک نے اُن میں فلسفۂ خودی کے ذریعے خودشناسی کا جوہر پیدا کردیا تو دوسرے نے ان کی شیرازہ بندی کرکے ایک متحد قوم بنادیا۔ اگر قدرت علامہ محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کو منصہ شہود پر نہ لاتی تو آج ہم ترشول کے سائے تلے غلامی کی زندگی بسرکرنے پر مجبور ہوتے۔ پاکستانی قوم بڑی خوددار‘ غیرت مند اور اپنی افواج سے بہت محبت کرتی ہے اور یہی صفات اس کے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ انہیں غیر مؤثر کرنے کی خاطر انہوں نے نت نئے حربے استعمال کیے۔ کبھی مادرپدر آزاد مغربی اور ہندووانہ ثقافت کی یلغار کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کو غیرت اورحیا سے بے بہرہ کرنے کی کوشش کی گئی تو کبھی غیر ملکی امداد کی آڑ میں ناروا شرائط عائد کرکے ان کی خودداری اور وفا کی قیمت لگانے کی جسارت کی گئی۔ ان مذموم کوششوں کے اثرات اشرافیہ میں تو کسی حد تک دکھائی دیئے کہ اس میں سے اکثر و بیشتر کے مراکزِ وفا بیرونی دنیا میں تھے اور شاید اب بھی ہیں تاہم جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے‘ وہاں یہ حربے بُری طرح پٹ گئے۔ چنانچہ حکمران اشرافیہ کو ہمیشہ قومی امنگوں کی ترجمان پالیسیوں پر ہی عمل پیرا ہونا پڑا۔
دین و وطن دشمن عناصر آج بھی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح پاکستانی عوام کو ریاستی اداروں کے مقابل لا کھڑا کیا جائے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ بہادر پاک افواج اور ہماری ایٹمی صلاحیت کی
بدولت اب وہ روایتی جنگ میں پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ ان عناصر کا ایک بڑا ہتھیار سوشل میڈیا ہے جسے وہ پراپیگنڈہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں سپہ سالار اسلامی جمہوریہ پاکستان جنرل سید عاصم منیر نے ایک تقریب کے دوران قرآن پاک کی آیات کا حوالہ دیکر بالکل درست فرمایا کہ اگر آپ کے پاس کوئی خبر پہنچے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو اور بغیر تحقیق اسے آگے مت پھیلائو۔ مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر بلا تحقیق باتیں آگے پھیلائی جا رہی ہیں جسے آرمی چیف نے’ فارورڈڈ ایز ریسیوڈ‘ کہا ۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پاکستان اور اداروں کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ محب وطن حلقے اس صورتحال پر کافی پشیمان ہیںاور ان کا مطالبہ ہے کہ بے لگام سوشل میڈیا پرغلط معلومات کے پھیلائو کا تدارک کیا جائے۔ایسے اکائونٹس جن کے ذریعے پاکستان اور ریاستی اداروں کیخلاف زہر اگلا جا رہا ہے ان کیخلاف کارروائی کی جائے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت محب وطن اور روزی روٹی کمانے کیلئے وہاں محنت کر رہی ہے تاہم کچھ افراد ان عناصر کے پراپیگنڈہ کا شکار ہو کر جانے انجانے میں ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں‘ وہ محتاط رہیں اور وشمن عناصر کے آلہ کار مت بنیں۔
گزشتہ صدی کے آخری چند برسوں میں سوشل میڈیا کی اصطلاح استعمال ہوئی اور اب حال یہ ہے کہ یہ دنیا بھر کے نوجوانوں میں بے حد مقبول ہے۔ سوشل میڈیا کی مختلف ایپلی کیشنز کے ذریعے ہر کوئی اپنے خیالات ،جذبات ،اور اردگرد کے حالات کو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا رہا ہے۔ بنیادی طور پر انٹرنیٹ کے جال کو سوشل میڈیا نے اپنی ایپلی کیشنز کے ذریعے بے حد دلچسپ بنا دیا ہے۔یہی وجہ ہے میڈیا کے روایتی میڈیم بھی اب خود کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ امریکا اور دوسرے جمہوری ملکوں میں سوشل میڈیا کا کردار قدر مختلف ہے جبکہ چین ،روس ،مشرق وسطیٰ کی بادشاہتیں اور ایران جیسے ملکوں میں اس کے کردار اور اثرات مختلف ہیں۔پاکستان میں اس وقت سوشل میڈیا پر جو فوکس نظر آرہا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک تو یہاں پر جمہوریت اپنے ابتدائی مراحل میں ہے، دوئم ملک میںسیاسی بحران کی سی کیفیت ہے اور تیسرے تعلیم کے معیار کی کمی ہے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو باشعور طریقے سے استعمال نہیں کیا جاتا۔ سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خامی یا خوبی یہ ہے کہ اگر آپ کوئی پیغام کسی شخص یا ادارے کے بارے میں لاتے ہیں تو وہ نا معلوم وجوہات کی وجہ سے بے تحاشا مقبول ہوجاتا ہے جسے سوشل میڈیا کی زبان میں ’’وائرل‘‘ کہا جاتا ہے۔لیکن اس میں ایک قباحت ہے کہ یہ میڈیا ٹرائل یا قصیدہ گوئی یک طرفہ ہوتی ہے، ترقی یافتہ ممالک میں ریگولیٹری باڈی کا کردار اس ذمہ داری کو نبھانے میں بڑا بنیادی ہوتا ہے۔پاکستان میں مشکل یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اگر آپ ایک خاص نقطہ نگاہ کو فروغ دیتے چلے جائیں تو اس پر کوئی ایسی قدغن نہیں جس کی مناسب طریقے سے تصدیق ہوسکے یعنی غیر مصدقہ خبریں بھی چلتی رہتی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سوشل میڈیا پر جھوٹے نعرے لگانے سے ریاستی اداروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا، عوام کی محبت اپنے اداروں کیلئے کم نہیں ہوئی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
بلا شک و شبہ پاک فوج کی قربانیوں کے طفیل وطن عزیز میں امن وامان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے اور دہشتگرد عناصر یہاں سے بھاگ رہے ہیں ۔ وطن دشمن عناصر کو ملک میں امن و سکون ایک آنکھ نہیں بھا رہا اور وہ پاکستان کی سلامتی کیخلاف مسلسل منفی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا کا منفی استعمال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ تاہم پاک فوج دشمن کے ہر پراپیگنڈہ کا جواب دینے کی پوری اہلیت رکھتی ہے ۔ پوری قوم پاک فوج کی قربانیوں سے آگاہ ہے اور وہ ہرگز اس پراپیگنڈہ کا حصہ نہیں بن رہے اور انہیں پاک فوج پر فخر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری نئی نسل سوشل میڈیا پرپاکستان اور اس کے اداروں کیخلاف ہونیوالے عناصر کو نہ صرف بھرپور جواب دے بلکہ پوری قوم کو ان کے ناپاک عزائم سے بھی آگاہ کرے۔ سوشل میڈیا پر ملکی تعمیر وترقی اور پاکستان کی مثبت باتوں کو اجاگر کیا جائے ‘ اگر کوئی منفی پراپیگنڈہ میں مصروف ہے تو اس کو بے نقاب کیا جائے اور متعلقہ ادارے اس سلسلے میں اپنا فرض ادا کریں۔
سوشل میڈیا ڈس انفارمیشن کا تدارک ناگزیر
09:38 AM, 23 Apr, 2025