یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ وطن عزیز کا نظام زندگی اور عنان حکومت قواعد و ضوابط، انصاف اور عوامی امنگوں کے مطابق چلانے کے لیے جس طریقہ کار اور اخلاقی قدروں کی ضرورت ہے بدقسمتی سے اس وقت انکا وجود خال خال ہی کہیں موجود ہے۔ سچائی تو یہی ہے کہ عوام کی داد رسی کا معاملہ ہو یا حکومت اور سیاسی نظام کو درست بنیادوں پر قائم و استوار کرنے سعی، لوگوں کو ریلیف نظام سے زیادہ ان سرکاری و حکومتی شخصیات سے مل رہا ہے جو طوائف الملوکی کے اس دور میں بھی نہ صرف عام پاکستانیوں اور ملک کے لیے درد دل رکھتی ہیں بلکہ نظام کی بہتری کے لیے تمام تر مخالفتوں، مایوسیوں اور خرابیوں کے باوجود شکستہ دل نہیں ہوتیں۔ یہی شخصیات ہیں جو مثبت تبدیلی کی متمنی اور اسکے حصول کے لیے ہمہ تن گوش مصروف عمل نظر آتی ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ نظام ریاست آج بھی کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ایسی شخصیات نہ ہوتیں تو لولا لنگڑا نظام کب کا زمین بوس ہو چکا ہوتا۔ حالات کی ستم ظریفی کہیں یا اپنوں کی چیرہ دستیاں، چار کھونٹ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی کے مصداق سرکاری اداروں سے لے کر انفرادی معاملات تک عدم برداشت کے اس دور میں کوئی بھی شے درست جگہ نظر نہیں آتی۔ ایسے میں اگر سیاست اور اہل سیاست کی بات کریں تو گھمسان کا رن نظر آتا ہے۔ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں، اہل سیاست سب کچھ روندتے نظر آتے ہیں۔ ملک کے سیاسی ادارے جن میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں سر فہرست ہیں
عجب افرا تفری کا منظر پیش کرتی ہیں۔ وضع داری، مروت اور اخلاقی قدروں کا پاس جو کبھی سیاست دانوں کا طرہ امتیاز ہوا کرتا تھا اب ڈھونڈنے سے بھی مشکل ہی ملتا ہے۔ ایسے میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان بارش کا وہ قطرہ ہیں جو آج بھی احترام انسانیت، وضع داری اور برداشت کی خوبیوں سے مرصع نظر آتے ہیں۔ بحیثیت سپیکر پنجاب اسمبلی ان کی ایک اور خوبی بھی افشا ہوئی ہے کہ وہ اسمبلی کے معاملات کو بھی قانون کے دائرے میں لے کر چلنے کے ہنر سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اپنے پیش روؤں کے برعکس حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک مشکل ترین اپوزیشن بھی اسمبلی کے اندر اور باہر ان کا احترام کرتے ہوئے نظرآتی ہے۔
ملک محمد احمد خان اس حوالے سے بھی دوسروں سے منفرد نظر آتے ہیں کہ اگر انہیں اپنی جماعت اور حکومت میں بھی کوئی خلاف ضابطہ بات نظر آتی ہے تو اس کا برملا اظہار کر دیتے ہیں جو انکے مضبوط کردارکی آئینہ دار نظر آتی ہے۔ اس امر کا اظہار 21 مئی بروز پیر پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت بھی ہوا جب اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر کی قیادت میں پی ٹی آئی کے اراکین پنجاب اسمبلی عمران خان کے پلے کارڈ اٹھائے اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اسمبلی کی کارروائی میں شامل ہوئے۔ بظاہر یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اس دن اپوزیشن اسمبلی کی کارروائی آسانی سے چلنے نہیں دے گی۔ تحریک التوا اور وقفہ سوالات میں جب اپوزیشن اور حکومتی بنچوں سے بہت سے اہم ایشوز اٹھائے گئے تو ایسے میں ایک اہم ایشو یہ بھی سامنے آیا کہ پنجاب کے مختلف اضلاح میں کئی سو ایکڑ پر کھڑی گندم کی تیار فصل واپڈا کی ہیوی سپلائی لائنز میں سپارکنگ اور موسم کی شدت کی وجہ سے آتشزدگی کے باعث جل کر خاکستر ہو چکی ہے۔ متاثرہ کسان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ نقطہ اٹھایا گیا کہ اس اہم معاملے پر حکومتی جماعت کی جانب سے کوئی بھی وزیر جواب دینے کے لیے اسمبلی میں موجود نہیں ہے۔ وزراء پنجاب اسمبلی کو در خور اعتنا نہیں سمجھتے اور اس کی کارروائی میں حصہ بھی نہیں لیتے۔ اپوزیشن اراکین کا یہ بھی کہنا تھا اگر کبھی وہ اسمبلی کے اجلاس میں آ بھی جائیں تو ان کی تیاری نہیں ہوتی اور یہ سپیکر پنجاب اسمبلی ہیں جو انہیں ایسے موقع پر اپنی قانونی بصیرت کے بل بوتے پر ’’بیل آؤٹ‘‘ دیتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے تو یہاں تک کہا کہ اگر سپیکر صاحب وزراء کو بیل آؤٹ نہ دیں تو ہم وزرا کو خود ہی دیکھ لیں گے۔ اس موقع پر سپیکر پنجاب اسمبلی اٹھائے جانے والے نکات پر پوری تیاری کے ساتھ نظر آئے چاہتے تو وزرا کے مسلسل غیر حاضر رہنے کا دفاع بھی کر سکتے تھے تاہم ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے کسان کا کوئی بھی مسئلہ ہو وہ ان کے دل کے قریب ہے اور ان سمیت پنجاب اسمبلی کے تمام اراکین جو منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچے ہیں ان کی اولین ترجیح عوامی مسائل کے حل کے لیے صوبے کے اس بڑے پلیٹ فارم کا بھرپور استعمال ہے۔ انہوں نے حکومتی رکن میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان سے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات کر کے انہیں یہ پیغام پہنچائیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے کابینہ کے اراکین کی اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کو یقینی بنائیں۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے جس انداز میں اسمبلی تشخص کو بحال، برداشت کے کلچر کا فروغ، اہم امور پر قانون سازی اور پہلی سی پی اے کانفرنس کا انعقاد کیا ہے وہ یقینا آنے والوں کے لیے مشعل راہ ہوگا۔
سپیکر پنجاب اسمبلی، مرد بحران
09:38 AM, 23 Apr, 2025