پاکستان گزشتہ چند برسوں سے جن معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ان میں سے ایک خاموش مگر نہایت خطرناک چیلنج وہ سہولت ہے جو بظاہر چھوٹے درآمدی پارسلز پر عائد ڈیوٹی اور ٹیکس سے استثنیٰ کی صورت میں دی گئی ہے۔ مگر آج یہ سہولت ریاستی ریونیو کے نقصان، مقامی صنعت کے زوال اور مارکیٹ میں شدید ناہمواری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس پالیسی کو عالمی سطح پر ڈی مینیمس کہا جاتا ہے۔ ڈی مینیمس کا تصور بین الاقوامی تجارتی قوانین میں اس لیے متعارف کرایا گیا تھا تاکہ کم ویلیو والے درآمدی پارسلز کو کسٹمز کی پیچیدگیوں سے بچایا جا سکے۔ امریکہ، برطانیہ، اور یورپی ممالک میں اس پالیسی کا مقصد چھوٹے کاروباروں اور انفرادی صارفین کو سہولت دینا تھا۔ تاہم، جب پالیسی کا غلط استعمال ہونے لگے، تو اس کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت ڈی مینیمس کی حد 5000 روپے ہے، جس کا مطلب ہے کہ 5000 روپے یا اس سے کم ویلیو کے پارسل پر کوئی کسٹمز ڈیوٹی یا ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ سہولت ہے، مگر آج کے ڈیجیٹل دور میں اس سہولت کو بین الاقوامی ای کامرس پلیٹ فارمز، بالخصوص چینی کمپنیاں جیسے شین اور ٹیمو نے ایک خطرناک ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایشیا پیسفک اخبار دی ڈپلومیسی کی رپورٹ کے مطابق، ان کمپنیوں نے مختلف ممالک میں لاکھوں پارسلز ڈی مینیمس کے تحت بھجوائے، جن میں انڈر انوائسنگ کے ذریعے کسٹمز چارجز نہیں اداکئے گئے۔ اس حکمتِ عملی نے ریاستی اداروں کو چکمہ دیا اور مقامی صنعتوں کو غیر منصفانہ مقابلے میں جھونک دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انڈونیشیا نے ٹیمو پرمکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ویتنام انوسٹمنٹ ریویو نے بھی اس پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ ویتنام میں ایسے پلیٹ فارمز کے خلاف سخت کارروائیاں کی جاری ہیں، اور حکومت نے ان اشیاء پر کنٹرول سخت کر دیا ہے تاکہ غیر قانونی اور سستے درآمدی مال کی روک تھام ہو سکے۔ جس کااصل مقصد مقامی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ پاکستان میںبھی ان چینی کمپنیوں (ٹیمو،شین) کی وجہ سے صورتحال کافی پیچیدہ ہوچکی ہے۔ روزانہ ہزاروں پارسلز مختلف کورئیر کمپنیوں کے ذریعے ملک میں داخل ہو رہے ہیں، جن میں سے اکثریت کی مالیت جان بوجھ کر پانچ ہزار سے کم ظاہر کی جاتی ہے تاکہ ڈی مینیمس کی حد کے تحت یہ پارسلز بغیر کسی چیکنگ یا ٹیکس کے ملک میں آ سکیں۔ یہ کھلی انڈر انوائسنگ ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ریاست کو سالانہ 80 سے 100 ارب کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صرف روزانہ کی بنیاد پر دیکھا جائے تو 20 سے 25 کروڑ کا ٹیکس چوری ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مقامی صنعت پر پڑنے والے اثرات اور امپورٹرز کا نقصان اس کے علاوہ ہے۔ جب ٹیمو اور شین جیسے پلیٹ فارمز بغیر ٹیکس ادا کئے صارفین کو براہ راست پراڈکٹ فراہم کرتے ہیں تو پاکستانی مینو فیکچررز اور ریٹیلرز جو ایف بی آر کوسیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس اور دیگر محصولات ادا کر کے کاروبار کرتے ہیں، اس غیر منصفانہ مقابلے میں کھڑے نہیں رہ سکتے۔ نتیجتاً، مقامی کاروبار بند ہو رہے ہیں، روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں، اور معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ پاکستان میں ان پارسلز کی ترسیل مختلف مقامی نجی کورئیر کمپنیز کے ذریعے کی جاتی ہے۔ صارفین ان پارسلزکی ادائیگی کارڈ کے ذریعے کر چکے ہوتے ہیں لہٰذا یہ کیش آن ڈیلیوری کے جھنجٹ سے پاک ہو تے ہیں۔ لیکن اصل چیلنج حکومتی اداروں، خصوصاً کسٹمز حکام کا ہے جو ان پارسلز کی جانچ پڑتال نہیں کر پاتے۔ اس کا مؤثر نظام موجود ہی نہیں ہے۔ اس ریگولیٹری خلا کا فائدہ چینی پلیٹ فارمز پوری مہارت سے اٹھا رہے ہیں۔ گلوبل ایکسپریشن ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا کے 100 سے زائد ممالک نے اپنی ڈی مینیمس پالیسیوں پر نظرثانی کی ہے۔ کئی ممالک نے اس حد کو کم کیا ہے، کچھ نے فلیٹ کسٹمز فیس لاگو کی ہے، جبکہ کچھ نے پلیٹ فارم اسپیسفک ریگولیشنز متعارف کرا دی ہیں۔ امریکہ نے 2023 میں ٹیمو کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کیں اور ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ مقامی مارکیٹ میں ڈمپنگ، صارفین کا ڈیٹا چوری اور کسٹمز چارجز سے بچاؤ میں ملوث ہیں۔ بھارت نے بھی ان پلیٹ فارمز پر سخت نظر رکھی ہے اور کئی ریاستوں میں ان کی ایپلیکیشنز کو بلاک کیا جا چکا ہے۔پاکستان کو بھی اب سنجیدگی سے ان اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، حکومت کو چاہیے کہ ڈی مینیمس کی موجودہ حد کو پانچ ہزار سے کم کر کے دو ہزار یا ایک ہزار روپے کرے تاکہ بڑے پیمانے پر ہو رہی چوری کو روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ، تمام پارسلز پر کم از کم 500 روپے کی فلیٹ کسٹمز فیس عائد کی جائے تاکہ ریاست کو بنیادی ریونیو حاصل ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ چینی ای کامرس پلیٹ فارمز پاکستان میں رجسٹرڈ ہوئے بغیر اربوں روپے کا بزنس کر رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کو ڈی جی ٹی او اور پی ٹی اے کو ہدایت کرے کہ جو پلیٹ فارمز رجسٹرڈ نہ ہوں ان کی سروسز کو محدود یا بند کر دیا جائے۔ ایک اور اہم قدم یہ ہونا چاہیے کہ کورئیر کمپنیز کو قانونی طور پر پابند کیا جائے کہ وہ ہر پارسلز کے ساتھ مکمل کمرشل انوائس، ریٹیل ویلیو، اور ٹریکنگ معلومات فراہم کریں تاکہ کسٹمز ادارے درست تخمینہ لگا سکیں۔ایف بی آر کو چاہیے کہ ان کمپنیوں کے ساتھ ایک ڈیجیٹل ڈیٹا شیئرنگ کا نظام وضع کرے تاکہ ان پارسلز کا سنٹرلائزڈ ریکارڈ محفوظ ہو۔ ڈی مینیمس پالیسی کی اصل روح چھوٹے صارفین کو سہولت دینا تھا، لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اس کا موجودہ طریقہ کار ایک کھلی معاشی بے ضابطگی بن چکا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اس مسئلے کو محض سہولت کے زاویے سے نہ دیکھیں بلکہ اسے معاشی انصاف، مقامی صنعت کے تحفظ اور ریاستی خودمختاری کے تناظر میں حل کریں۔ اگر ہم نے بروقت اصلاحات نہ کیں، تو پاکستانی مارکیٹ بین الاقوامی پلیئرز کے رحم و کرم پر ہو گی، جہاں نہ مقامی صنعت باقی رہے گی، نہ ہی روزگار۔ ڈی مینیمس جیسی ’سہولت‘ کے پردے میں چھپے معاشی زہر کو ختم کیے بغیر ترقی کا خواب ممکن نہیں۔
ڈی مینیمس: سہولت یا معیشت کی تباہی؟
09:36 AM, 23 Apr, 2025