میڈم وزیراعلیٰ صاحبہ: کتابوں کا لنڈا بازار بچایئے

09:35 AM, 23 Apr, 2025

صوبہ پنجاب کی تاریخ میں مریم نواز شریف کا وزیراعلیٰ منتخب ہونا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ 13/14مہینوں کے دوران پنجاب میں تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے حکومت پنجاب جس طرح جو کچھ کر رہی ہے وہ مریم نوازشریف کے وژن اور قائدانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ وہ ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں۔ پنجاب کے عوام کے دلوں میں گھر کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے محمدشہبازشریف اور محمد نوازشریف صوبے کے عوام کی خدمت کے ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ مریم نواز کے سامنے کارکردگی کے حوالے سے اعلیٰ مثالیں موجود ہیں۔ آزمودہ بیوروکریسی اور مسلم لیگ ن لیگ کے وابستگان اور سب سے اہم نوازشریف کے جیالوں کی موجودگی ایسے موافق عوامل ہیں جن کے ساتھ مریم نواز چل رہی ہیں اور اپنے وژن کو اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے عملی شکل دے رہی ہیں۔ 
تجاوزات کا خاتمہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے لاریب یہ ایک اچھا کام ہے، تجاوزات کی بھرمار نے بہت سے سماجی مسائل بھی پیدا کئے، تجاوزات ٹریفک حادثات کا باعث بھی بنتی ہیں۔ ٹریفک کا بہائو بھی متاثر ہوتا ہے، سب سے اہم کاروباری و تجارتی سرگرمیوں میں نظم و نسق کی بجائے ہنگامہ خیزی اور تنائو پیدا ہوتا ہے۔ عامتہ الناس کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے، تجاوزات کے خاتمے کی مہم بڑی کامیابی سے جاری ہے اور اس کے اثرات بھی مرتب ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ بازاروں، سڑکوں اور عوامی اجتماع کی جگہوں سے ناجائز تعمیرات اور عارضی و مستقل تجاوزات کے خاتمے سے کھلے پن کا اظہار ہونے لگا ہے۔ جہاں بے ہنگم شور شرابا اور رش ہوتا تھا ٹریفک کے بہائو میں دقت ہوتی تھی۔ عامتہ الناس کو چلنے پھرنے، خریداری کرنے میں دقت ہوتی تھی۔ اب وہاں معاملات میں بہتری نظر آنے لگی ہے۔ تجاوزات کی مہم کو آخری تجاوزات کے خاتمے تک جاری رہنا چاہئے۔ ویلڈن میڈم چیف منسٹر پنجاب، لیکن؟؟
انارکلی، مال روڈ، سروس لینز پر ہر اتوار لگنے والا پرانی کتابوں کا لنڈا بازار جسے کچھ لوگ عارضی بک فیئر بھی کہتے ہیں، ہرگز ہرگز ایسی تجاوزات کی مد میں نہیں آتا کہ اسے بھی دیگر تجاوزات کی طرح تہس نہس کر دیا جائے۔ 
انتہائی محترم وزیراعلیٰ پنجاب صاحبہ! آپ کے کئی اچھے کاموں کی پیروی دوسرے صوبوں کے وزراء اعلیٰ کر رہے ہیں۔ آپ نے تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کے کئی ایسے کام کئے ہیں جس سے عامتہ الناس کی بہتری کے نئے ٹرینڈ سیٹ ہو رہے ہیں۔ ایک صوبے نے تو مریم نواز صاحبہ کے ایک تاریخی پروگرام سے متاثر ہو کر ویسا ہی منصوبہ اپنے صوبے میں شروع کیا اور اسے تاریخی کہنا شروع کر دیا۔ تعمیر و ترقی کا جو ٹرینڈ آپ سیٹ کر رہی ہیں دیگر صوبوں کے لئے اب کوئی دوسرا راستہ بچا ہی نہیں ہے کہ وہ بھی وہی کچھ کریں جو پنجاب میں ہو رہا ہے اور ویسے ہی کریں جیسے آپ کی سربراہی میں کیا جا رہا ہے۔ آپ کی کارکردگی کے بارے میں کسی کو شک نہیں ہے، آپ کی قائدانہ صلاحیتیں اظہر من الشمس ہیں۔ 
اب ذرا ہر اتوار کے دن انارکلی مال روڈ کی دو سروس لینز پر عارضی طور پر قائم کئے جانے والا کتابوں کا لنڈا بازار ہے جسے سرکاری عمال تجاوزات کے خاتمے کی آڑ میں تباہ و برباد کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ یہاں ہر اتوار کتب فروش جو زیادہ تر کباڑیئے ہوتے ہیں جو ردی میں خریدی گئی کتب و رسائل اور مخطوطات وغیرہ سجاتے ہیں سائیڈ سڑک پر دکانیں سج جاتی ہیں۔ شائقین جوق در جوق یہاں چلے آتے ہیں۔ گرمی ہو یا سردی، سورج غروب ہونے تک یہاں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے وگرنہ حالات زمانہ نے لوگوں کی قوت خرید سلب کر رکھی ہے۔ اشیاء ضروریہ کی خریداری مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ کتب بینی کا رجحان ویسے ہی زوال پذیر ہے۔ ناشران اور پبلشروں کی ہوس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ نئی کتب اس قدر مہنگی ہوچکی ہیں کہ عام کیا خاص آدمی کی پہنچ سے بھی دور ہو گئی ہیں۔ سمارٹ فون، سوشل میڈیا نے کتب بینی کے رجحان پر ضرب لگائی ہے ایسے میں کتابوں کے لنڈا بازار کی بیخ کنی معاملات میں بگاڑ پیدا کرے گی۔ کوئی بھی قوم علم اور ہنر کے بغیر تعمیروترقی نہیں کر سکتی ہے۔ علم کا مستند ذریعہ ابھی تک کتاب ہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی، جہاں علم کے دیگر ذرائع انتہائی ترقی یافتہ شکل میں رائج ہو چکے ہیں۔ کتاب ابھی تک بنیادی اہمیت کی حامل ہے، ترقی کرتی ہوئی اقوام اپنے نوجوانوں میں پڑھنے اور سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے میں مصروف ہیں ہم ویسے ہی اس دوڑ میں خاصے پیچھے ہیں۔ ہمارے ہاں سکول، کالج اور یونیورسٹیاں تو دھڑا دھڑ کھل رہی ہیں لیکن علم و ہنر میں ہم ابھی تک خاصے پیچھے ہیں اس کی بے شمار وجوہات ہیں۔ ایک بڑی وجہ پڑھنے لکھنے کے رجحان میں کمی ہے۔ 
عوام کی نبض شناس وزیراعلیٰ محترمہ مریم نوازشریف وجہ سے گزارش ہے کہ اگر کتابوں کا یہ لنڈا بازار آپ کی تجاوزات کے خلاف مہم جوئی کا شکار ہو گیا تو یقین جانئے یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہوگا۔ ایک ایسے انسٹی ٹیوشن کا قتل ہوگا جو تاریخی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے اس کے ہماری نوجوان نسل کی تربیت پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ 
ایک بات، آپ تاریخی کام کر رہی ہیں عوام میں آپ کی پذیرائی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ دیگر صوبے آپ کے وژن کی نقل کرتے ہیں آپ اگر اس لنڈا بازار کو منظم شکل دے دیں اسے ایک ایسی جگہ بنا دیں جو عام افراد کے لئے، ٹورسٹ سپاٹ بن جائے۔ کتب کی خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ ایک تفریح، علمی تفریح کا ذریعہ بن جائے، عام لوگ بھی یہاں کھچے چلے آئیں۔ جس طرح پورے پاکستان سے آنے والے لوگ یہاں اورنج ٹرین میں بیٹھ کر سفر کرنا تفریحاً پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح اس جگہ کو، اس لنڈا بازار کو اس طرح منظم کیا جائے کہ یہ پرکشش جگہ بن جائے۔ مال روڈ پر اتوار کے دن بیڈن روڈ کی نکڑ والی جگہ سے گزرنا مشکل ہوتا ہے۔ لوگ آئس کریم، برگر، دھی بھلے کھانے کے لئے، تفریح کے لئے آئے ہوتے ہیں اگر انارکلی کتابوں کے لنڈابازار کو کچھ اس طرح منظم کیا جائے کہ یہ تفریح کا ذریعہ بھی بن جائے۔ ٹورسٹ سپاٹ بھی بن جائے تو اس کی دھوم پورے پاکستان میں پھیل جائے گی۔ ادیبہ، شاعر، لکھاری سب یہاں آتے رہتے ہیں وہ سب اس بارے میں لکھیں گے آپ کی کاوش کو سراہیں گے اس طرح اس لنڈا بازار کے انصرام کے باعث آپ تاریخ میں ایک منفرد اور علم دوست وزیراعلیٰ کے طور پر جانی جائیں گی۔ یہ نئی نسل کے لئے صرف پنجاب کے نہیں بلکہ پاکستانیوں کے لئے ایک ایسا تحفہ ہوگا جس کی خوشبو ہر طرف پھیلے گی جہاں جہاں کتاب و علم کا ذکر ہوگا آپ کا نام لیا جائے گا اور جس طرح یہ سلسلہ ماضی میں کئی دہائیوں سے جاری ہے اسی طرح مستقبل میں بھی یہ سلسلہ آپ کے نام کے ساتھ جاری رہے گا۔ ایک علم دوست وزیراعلیٰ کے طور پر آپ کا نام تاریخ میں رقم ہو جائے گا۔

مزیدخبریں