27ستمبر کا مارچ: احتجاج یا ایک بار پھر انتشار کی سیاست؟

09:28 AM, 23 Sep, 2026

جمہوریت میں احتجاج عوام کا بنیادی سیاسی حق ہے۔ حکومت سے اختلاف، پالیسیوں پر تنقید، اپنے مطالبات کے لیے آواز بلند کرنا اور سیاسی جلسے جلوس کرنا کسی بھی جمہوری معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ احتجاج کا مقصد کیا ہے؟ کیا احتجاج عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہے یا سیاسی کشمکش کو مزید گہرا کرنے کے لیے؟ کیا سیاسی جماعتیں اپنے صوبوں اور حلقوں میں گورننس، تعلیم، صحت، روزگار، صنعت، زراعت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو اپنی ترجیح بناتی ہیں یا ان کی سیاست کا مرکز صرف اقتدار کے حصول اور وفاقی حکومت کے خلاف محاذ آرائی رہ جاتا ہے؟
27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے پاکستان تحریکِ انصاف کے سیاسی طرزِ عمل کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے مارچ کو انصاف مارچ قرار دیتے ہوئے اسے پرامن احتجاج کا نام دیا ہے اور پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق اس کا مقصد سڑکیں بند کرنا یا انتشار پیدا کرنا نہیں بلکہ اپنے سیاسی مطالبات کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ لیکن سیاسی جماعت کے اعلانات کے ساتھ ساتھ اس کے عملی سیاسی کردار، ترجیحات اور عوامی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔سب سے بنیادی سوال خیبر پختونخوا سے متعلق ہے۔ اگر کسی جماعت کو مسلسل ایک صوبے میں حکومت کرنے کا موقع حاصل ہو تو اس کی اصل آزمائش اسلام آباد کی سڑکوں پر نہیں بلکہ اپنے صوبے کے اسکول، اسپتال، سڑکیں، صنعتیں، روزگار کے مواقع، امن و امان، سیاحت، زراعت اور شہری سہولتوں میں ہونی چاہیے۔ خیبر پختونخوا کے 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سرکاری دستاویز کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 519 ارب روپے کی ترقیاتی رقوم اور 2,765 منصوبے شامل ہیں۔ خود صوبائی حکومت بھی ترقیاتی بجٹ کو عوامی فلاح اور بنیادی ڈھانچے سے جوڑ کر پیش کر رہی ہے۔
تو پھر اصل سوال یہ بنتا ہے کہ صوبائی حکومت کی سیاسی توانائی کا بڑا حصہ اپنے صوبے کے ترقیاتی اہداف، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کے حل پر کیوں نظر نہیں آتا؟ اگر اتنے بڑے ترقیاتی پروگرام موجود ہیں تو عوام کو ہر منصوبے کی پیش رفت، تکمیل کی مدت، اخراجات، نتائج اور زمینی اثرات کے بارے میں جواب دہی کیوں نہ دی جائے؟ سیاست کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان اور سوات سے قبائلی اضلاع تک عوام کو کیا ملا، نہ کہ اسلام آباد میں کتنے لوگ جمع ہوئے۔ایک صوبائی حکومت کا فرض صرف یہ نہیں کہ وہ وفاقی حکومت کے خلاف سیاسی احتجاج میں حصہ لے؛ اس کا بنیادی فرض اپنے صوبے کے شہریوں کو بہتر طرزِ حکمرانی فراہم کرنا ہے۔ اگر صوبے میں بے روزگاری موجود ہے تو روزگار کا منصوبہ کہاں ہے؟ اگر نوجوانوں میں مایوسی ہے تو ہنرمندی اور ٹیکنیکل تعلیم کے پروگرام کہاں ہیں؟ اگر دیہی معیشت مشکلات سے دوچار ہے تو زرعی اصلاحات، آبپاشی اور مارکیٹ تک رسائی کی پالیسی کہاں ہے؟ اگر شہروں میں ٹریفک، صفائی، صحت اور پانی کے مسائل موجود ہیں تو بلدیاتی نظام کو مثر بنانے کی سنجیدہ کوشش کہاں ہے؟
یہ سوال کسی ایک جماعت کے خلاف تعصب نہیں بلکہ ہر صوبائی حکومت کے لیے جمہوری احتساب کا پیمانہ ہے۔بدقسمتی سے پاکستانی سیاست میں ایک خطرناک رجحان جڑ پکڑ چکا ہے کہ صوبائی مینڈیٹ کو وفاقی محاذ آرائی کے لیے استعمال کیا جائے۔ صوبہ اپنی جگہ ایک انتظامی اکائی بھی ہے اور عوامی خدمت کی ذمہ داری بھی ہے ۔ وزیراعلی اور صوبائی کابینہ کا بنیادی کام یہ نہیں کہ وہ ہر سیاسی بحران کا جواب دارالحکومت کی طرف مارچ سے دیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے صوبے میں ایسا انتظامی ماحول پیدا کریں جس میں سرمایہ کاری آئے، کاروبار بڑھے، نوجوانوں کو مواقع ملیں اور عام آدمی کو ریاستی اداروں پر اعتماد محسوس ہو۔
27 ستمبر کا مارچ اسی لیے ایک بڑے سیاسی سوال کو جنم دیتا ہے۔ کیا احتجاج سیاست کا آخری مقصد بن چکا ہے یا احتجاج کے بعد کوئی واضح حکومتی اور معاشی ایجنڈا بھی موجود ہے؟ اگر کسی جماعت کا بیانیہ مسلسل احتجاج، مارچ، دھرنے، تصادم اور مرکزی حکومت کے خلاف سیاسی محاذ آرائی کے گرد گھومتا رہے تو اس سے یہ تاثر ضرور پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی توانائی عوامی حکمرانی کے بجائے سیاسی کشمکش پر زیادہ خرچ ہو رہی ہے۔ یہ تاثر ختم کرنے کی ذمہ داری خود سیاسی جماعت پر عائد ہوتی ہے۔اس کے ساتھ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مبینہ روابط یا گٹھ جوڑ کے الزامات کا معاملہ بھی انتہائی حساس ہے۔ کسی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت کو محض سیاسی مخالفین کے الزامات کی بنیاد پر کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک قرار دینا درست نہیں۔ ایسے دعووں کے لیے قابلِ تصدیق شواہد، سرکاری تحقیقات یا عدالتی نتائج ضروری ہیں۔
پاکستان اس وقت داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ خطے کی سلامتی، افغانستان کے ساتھ تعلقات، سرحدی دہشت گردی، معاشی استحکام اور عالمی سفارت کاری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات ہیں۔ ایسے وقت میں سیاسی اختلاف ضرور ہونا چاہیے مگر اختلاف کو قومی عدم استحکام میں تبدیل کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔لیکن اپوزیشن کے لیے بھی ایک واضح اصول ہونا چاہیے۔ احتجاج آئینی حق ہے، ریاستی نظام کو مفلوج کرنا آئینی سیاست کا متبادل نہیں۔پاکستان کو آج ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو صوبوں کو وفاق کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے وفاق کو مضبوط کرے، جو خیبر پختونخوا کے نوجوان کو صرف جلسے کا نعرہ نہیں بلکہ روزگار دے جو پشاور کے شہری کو صرف سیاسی تقریر نہیں بلکہ صاف پانی، بہتر اسپتال اور جدید ٹرانسپورٹ دے، جو قبائلی اضلاع کے نوجوان کو احتجاجی سیاست نہیں بلکہ تعلیم، کاروبار اور امن کا راستہ دکھائے۔
27 ستمبر کا مارچ چند گھنٹوں یا ایک دن کا سیاسی واقعہ ہوگا لیکن خیبر پختونخوا کے عوام کو سڑکوں پر نکلنے سے زیادہ اپنے گھروں میں ترقی چاہیے۔ انہیں سیاسی نعروں سے زیادہ اسکول، اسپتال، سڑک، روزگار، امن اور سرمایہ کاری چاہیے ۔ اب اصل سیاسی بحث انہی منصوبوں کی کارکردگی اور نتائج پر ہونی چاہیے۔پاکستان کو احتجاج سے نہیں بلکہ بے مقصد احتجاجی سیاست سے مسئلہ ہے۔ اختلاف سے نہیں بلکہ اختلاف کو مستقل محاذ آرائی میں تبدیل کرنے سے مسئلہ ہے۔ سیاسی مقابلے سے نہیں، سیاسی مقابلے کو قومی اداروں، معیشت اور معاشرتی امن کے لیے مستقل بحران بنا دینے سے مسئلہ ہے۔

مزیدخبریں