گزشتہ ماہ قصور میں پنجاب کالج میں اساتذہ کرام کے ساتھ گفتگو کی ایک نشست کا موقع ملا۔ اساتذہ سے گفتگو ہمیشہ میرے دل کو بھاتی ہے۔ نوجوان اساتذہ کی جانب سے بہت ہی عمدہ سوالات اٹھائے گئے۔ ایک نوجوان کا سوال تھا: آج کل تعلیم یافتہ طبقہ مائل بہ الحاد کیوں ہو رہا ہے؟ جسے دیکھو وہ یہی کہتا ہے کہ میں ایک کریٹکل تھنکر ہوں، اس لیے میں کسی مذہب کو نہیں مانتا۔ کیا ہر سوچنے والا انسان مذہب سے فرار ہو جاتا ہے؟ کیا روایت پرست طبقہ ہی مذہب پرست ہوتا ہے؟
دراصل اقرارِ وجودِ خدا انسان پر کچھ اخلاقی حدود و قیود عائد کرتا ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب بھی ہو، اس کی بنیاد میں کچھ اخلاقی اور روحانی قدریں ضرور موجود ہوتی ہیں۔ وہ انسان جو کسی اخلاقی ضابطے کو خاطر میں نہیں لانا چاہتا، مروجہ اِلحاد اس کے لیے من مانی کا ایک جواز فراہم کرتا ہے۔ انکار کرنے والا ایک ایسا دعوی کرتا ہے جسے وہ ثابت نہیں کر سکتا ۔ اقرار کرنے والا تو صرف تسلیم کرتا ہے۔ ملحد دعویٰ کرتا ہے کہ اِس زندگی اور اِس کائنات کا کوئی خالق نہیں۔ جب وجودِ خدا ہی نہیں تو پھر مذہب بھی نہیں، اگر مذہب نہیں تو پھر مذہبی ضابطے اور اخلاقی حدود و قیودچہ معنی دارد؟ ملحد سمجھتا ہے کہ مذہب انسانی معاشرے میں رائج چند روایتوں اور کہاوتوں پر مبنی کوئی دیومالائی داستان ہے اس کا خیال ہے کہ دنیا میں پھیلے ہوئے تمام مذاہب مولویوں ، پنڈتوں اور راہبوں کی پھیلائی ہوئی کہانیاں ہیں اس کی عقل اسے یہ باور کراتی ہے کہ مذہب پر عمل پیرا لوگ بیوقوف ہوتے ہیں اور مذہب کا انکار کرنے والے ذہین و فطین ہوتے ہیں۔ ملحدانہ افکار کے مطابق یہ کائنات ایک حادثہ ہے مادے اور توانائی کا ایک اتفاقیہ ربط ہے جس سے کسی ارتقائی عمل کے نتیجے میں یہ زندگی برآمد ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اس کی دانست میں اِس زندگی میں انسان کے لیے کوئی مقصد دریافت کرنا ایک کارِ عبث ہے۔ جب کوئی مقصدِ حیات ہی نہیں تو مقصد نام کی کسی چیز کو حاصل کرنے کے لیے خود کو کسی اخلاقی یا روحانی ضابطے کے ماتحت کرنا بھی ایک لایعنی کام ہے۔ دراصل یہ ساری توجیہات قائم کرنے میں تعلیم کا کچھ دوش نہیں۔ بے شمار تعلیم یافتہ لوگ دین کو بہ جان ودل قبول کرتے ہیں، دین کی دی ہوئی ہدایات پرعمر بھر عمل پیرا رہتےہیں اور اس کی نشر و اشاعت میں صبح و شام کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مولوی ، پنڈت ، راہب یا صوفی نہیں ہوتا۔ عجب بات تو یہ ہے کہ ان کی لغت میں یہ قابلِ دشنام مولوی ، پنڈت ، صوفی ، راہب لوگ ہی مذہب کے خالق ہیں۔قابلِ غور بات یہ ہے کہ مولوی ، پنڈت ، راہب قبیل کے سب لوگ مذہب کے شارح ہوتے ہیں، شارع نہیں ۔ اگر کوئی حقیقت موجود ہوگی تو اس کی تشریحات بھی ہوں گی۔ دھواں آگ نہیں بلکہ آگ کے ہونے کا ثبوت ہے۔ ممکن ہے ، تشریحاتِ مذاہب میں اِن لوگوں کا اپنا تخیل بھی کارفرما ہو، لیکن تخیل کے لیے ضروری ہے کہ پہلے کسی چیز کو وجود موجود ہو۔ بادل موجود ہوگا تو بادل کو دیکھ کر لوگ اپنے تخیل سے مختلف تصویریں بنا لیتے ہیں۔ اگر بادل ہی موجود نہ ہو تو بادل کی شکل پر کوئی تصور آرائی بھی ممکن نہیں۔ یہ تو ممکن ہے،کسی مذہب کی کوئی مسخ شدہ شکل کسی کو مذہب سے متنفر کر رہی ہو لیکن یہ بعید از عقل ہے کہ مذہب نام کی کوئی حقیقت تاریخ میں موجود ہی نہ رہی ہو۔
مذہب سے انکار اور فرار کوئی نیا ذہنی رجحان نہیں، یہ دماغی اختراع perversion بہت پرانی ہے۔ پہلے زمانوں میں بھی خدا اور رسولوں کا انکار کرنے والے لوگ موجود تھے۔ پہلے پہل سائینس باضابطہ علم کی شکل میں موجود نہ تھی، تب یہ لوگ فلسفے کا سہارا لے کر مذہب کو رد کیا کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ مادہ ہم پر حاکم ہے اور مادے پر وقت حکمران ہے۔ بس یہ مادے اور وقت کا اتار چڑھا ہے جو زندگی اور موت کی لہریں پیدا کرتا رہتا ہے۔ ملحد atheist کہلوانے کا فیشن نیا نہیں ، کافی پرانا ہے۔ آج کل ایک فیشن خود کو متشکک Agnostic کہلوانے کا بھی خوب چل رہا ہے یعنی ہمیں معلوم نہیں کہ خدا ہے ، یا نہیں سو! ہم غیر جابندار ہیں۔ یہ غیر جانبدار ہونا بھی درپردہ الحاد کا جانب دار ہونا ہے۔ بندہ ِخدا ! اگر معلوم نہیں تو معلوم کرو، اگر معلوم نہیں کر سکتے تو جنہوں نے معلوم کر لیا ہے انہیں تسلیم کرو۔ یہ کیا عقل ہے کہ عقل کو ماف کر کے لاتعلق ہو کر بیٹھ رہے اور تلاش کرنے والوں پر خندہ زن ہو رہے۔ پہلے وقتوں میں ملحد کو دہریہ کہتے تھے۔ دہریہ دہر سے ہے وہ وقت کو خداکہتےتھے۔ خدا کو ایک ذات سمجھنے کی بجائے کوئی سائینسی کلیہ ، مادہ یا وقت تصور کرنا بھی الحاد ہی کہلاتا ہے۔ ذاتِ خدا کا تصور رسول لے کر آتے ہیں۔ پہلے دہریوں کی طرح آج کل بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سبب اور نتیجے کو ایک اٹل حقیقت مانتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ مادے اور توانائی کا تعامل سبب اور نتیجہ پیدا کرتا ہے ہر سبب کا ایک اٹل نتیجہ ہے ، اور ہر نتیجہ کسی سبب کا حاصل ہوتا ہے وہ مادے کو وقت ہی کی طرح ایک اٹل حقیقت سمجھتے ہیں مادہ پرستی اور دہریت یوں ہم آغوش ہو جاتے ہیں یہ لوگ بھی دعا ، شفا اور شفاعت کے تصور سے محروم ہیں۔ قرآن میں اِن کی نشان دہی موجود ہے یہ کہتے ہیں،ہمیں وقت کے سوا کوئی چیز ہلاک نہیں کرتی۔ رسولوں کی تعلیمات کو پرانے زمانے کی کہانیاں کہنے والے پرانے زمانے میں بھی موجود تھے وہ رسولوں کی تعلیمات کو اساطیر الاولین ( اگلے وقتوں کی کہانیاں)کہتے تھے۔ گویا مذہب کو دیومالائی داستانوں کی شکل میں دیکھنے والے لوگ پہلے بھی موجود تھے۔ اسی طرح خود کو عقلمند اور ایمان لانے والوں کو بیوقوف سمجھنے والے لوگ پہلے بھی ایک ٹکے میں دوبکتے تھے: جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لا جس طرح باقی لوگ ایمان لائے ہیں تو یہ کہتے ہیں کیا ہم ان کی طرح ایمان لے آئیں جو بیوقوف ہیں۔ اہلِ مذہب کو جہادی اور فسادی اور خود کو امنِ عالم کے ضامن سمجھنے والے لوگ پہلے بھی ہزاروں میں تھے۔ قرآن میں اِن کی نشان دہی بھی کی گئی ہے: جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ہی تو ہیں اصلاح کرنے والے؛ آگاہ رہو یہی لوگ فسادی ہیں لیکن انہیں اپنے فسادی ہونے کا شعور نہیں۔
کریٹیکل تھنکنگ کے زعم میں دین کا انکار کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ کریٹیکل تھنکر سچ کو جھوٹ سے جدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ کوئی کریٹیکل تھنکر وجودِ خدا پر توقف کیے بغیر نہیں گزر سکتا۔ اگر کوئی تنقیدی سوچ کا حامل ہے تو اسے چاہیے کہ وہ جعلی کو اصل سے جدا کرے۔ اگر مارکیٹ میں نقلی دوا موجود ہے تو یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی اصلی دوا بھی اپنا وجود رکھتی ہے ۔ نقل کسی اصل کے مقابلے ہی میں بیچی جاتی ہے۔ فلسفے کے زعم میں مذہب کا انکار کرنے والے یہ بھول گئے ہیں کہ مذہب کو فلسفے کی ماں کہا جاتا ہے
Religion is the mother of philosophy سائنس کی آڑ میں دین کا انکار کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ ایک اچھا سائنسدان مذہب اور خدا کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیتا۔ اگر کوئی اس سے وجودِ خدا کے بارے میں دریافت کرے تو وہ صاف جواب دیتا ہے کہ ا س کا جواب میرے شعبہِ علم کی بساط سے باہر ہے؛ بہتر ہے کہ اس کے بارے میں اہلِ مذہب سے رجوع کیا جائے۔ سائینس اور فلسفے کو بنیاد بنا کر انکارِ خدا کرنے والے لوگ نہ تو اچھے فلسفی ہیں نہ اچھے سائنسدان۔ بنیادی اور منطقی با یہ ہے کہ ہر شعبہ علم اپنے ہی domain میں بات کرتا ہے۔ خدا کے متعلق بات کرنا اہلِ مذہب کے دائرہِ کار میں آتا ہے۔ کیا کسی میڈیسن کے بارے میں کوئی انجینئر فیصلہ دے سکتا ہے؟ کیا سڑکوں اور پلوں کے بارے میں کسی وکیل کی رائے قابلِ توجہ ہو سکتی ہے؟
دراصل انکارِ خدا پر جمے ہوئے لوگ کوے کی طرح سیانے ہوتے ہیں یہ جانتے ہیں کہ اقرارِ خدا اِن پر کیا کیا پابندیاں لے کر آئے گا۔ اگر وہ کسی خالق ذات کو مان لیں تو اس کائنات کی ترتیب اور حسنِ ترتیب دیکھ کر اس خالق کو قادر اور علیم بھی ماننا پڑے گا اور ایک علیم ذات کے بارے میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس کی تخلیق بے مقصد نہیں ہوسکتی ہے۔ کائنات کے مقصد کے ساتھ ہی مقصدِ تخلیقِ انسان بھی تلاش کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی ربط اور رابطہ بھی ماننا پڑے گا اور یوں اس کے فرستادہ پیغمبروں کو بھی ماننا پڑے گا، اور پیغمبروں کو ماننے کے ساتھ ہی ان پیغمبروں کی لائی ہوئی شریعت یعنی قانونِ خدا کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا پھر زندگی اپنی مرضی کی بجائے خالق کی مرضی کے مطابق بسر کرنے کا مرحلہ درپیش ہوگا سو! اس ساری مشکل سےبچنے کے لیے اِن شتر بے مہار لوگوں کے لیے آسان ترین راستہ یہی رہ ہے کہ وہ وجودِ خدا کا انکار کر دیں۔ خدا کا ثبوت مانگنے والے خدا کے نہ ہونے کا کوئی ثبوت نہ دے سکے۔ بہرحال ہمارا دین تو یہی کہتا ہے: تمہارے لیے تمہارا دین اور ہمارے لیے ہمارا دین !
الحاد، انکار اور اخلاق
09:28 AM, 23 Sep, 2026