دنیا ایک بار پھر اس خطرناک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے، جہاں توانائی کی عالمی رگ، آبنائے ہرمز، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی زد میں ہے۔ حالیہ اعداد و شمار اس صورتحال کی سنگینی کو واضح طور پر عیاں کرتے ہیں، جہاں جنگ سے پہلے روزانہ اوسطاً 125 بڑے تجارتی جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرا کرتے تھے، وہاں اب صرف دو دنوں میں 12 جہازوں کا گزرنا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کس قدر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکی ہے۔ آبنائے ہرمز محض ایک آبی راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی رسد اسی تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔ جب یہ راستہ متاثر ہوتا ہے، تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ ٹوکیو سے لے کر نیویارک تک اور برلن سے لے کر نئی دہلی تک، ہر بڑی معیشت اس کی زد میں آ جاتی ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ، سپلائی چین میں تعطل، عالمی افراطِ زر پر دباو¿ یہ سب وہ نتائج ہیں، جو اس بحران کے پھیلاو¿ کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباو¿ کا شکار ہیں، اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں براہِ راست ان کی معیشتوں پر بوجھ ڈالتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈیاں اس خطے کی ہر خبر پر کان دھرے بیٹھی ہیں۔ جہاز رانی کمپنیاں محتاط ہو چکی ہیں، بعض جہاز اپنی شناخت چھپانے کے لیے خودکار شناختی نظام بند کر کے سفر کر رہے ہیں، جبکہ کچھ عمانی ساحل کے قریب متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ یہ رویہ خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی تجارتی برادری اس بحران کو کس قدر سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ بیمہ کمپنیوں نے بھی اس خطے میں سفر کرنے والے جہازوں کے لیے پریمیم میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس سے نقل و حمل کی لاگت مزید بڑھ گئی ہے۔
اس بحران کے دو مرکزی کردار امریکہ اور ایران اپنے اپنے بیانیوں پر قائم ہیں۔ ایک طرف امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ اس نے تہران پر عائد ناکہ بندی کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے 109 تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل کیا ہے۔ دوسری طرف ایران اپنی سرزمین کے دفاع میں جاسوس ڈرون مار گرانے اور امریکی اڈوں پر جوابی حملوں کی دھمکیوں کے ذریعے اپنی طاقت کا اظہار کر رہا ہے۔ دونوں فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، کسی بھی جانب سے پسپائی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
عسکری ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ ہر فریق دوسرے پر برتری ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔عالمی برادری، خاص طور پر یورپی یونین، چین اور روس جیسے بڑے کھلاڑی، اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے وابستہ ہے۔ چین جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اس بحران کے بڑھنے کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی حلقوں میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا بڑی طاقتیں اس تنازع کو مزید بھڑکنے سے روکنے کے لیے کوئی مو¿ثر کردار ادا کر سکتی ہیں یا نہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
اس بحران نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کی ہے کہ عالمی معیشت کا ایک بڑا حصہ اب بھی چند تنگ آبی گزرگاہوں پر انحصار کرتا ہے ،چاہے وہ آبنائے ہرمز ہو، باب المندب ہو یا آبنائے ملاکا۔ یہ انحصار عالمی توانائی کی سلامتی کو ایک بنیادی کمزوری بناتا ہے۔ کئی ممالک اب متبادل توانائی ذرائع، پائپ لائنوں کے متبادل راستوں اور اسٹریٹیجک ذخائر بڑھانے کی جانب توجہ دے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے اثرات کو محدود کیا جا سکے۔ تاہم یہ منصوبے وقت طلب ہیں، موجودہ بحران اس بات کی یاددہانی ہے کہ عالمی توانائی کا ڈھانچہ اب بھی کس قدر نازک ہے۔ خلیجی ممالک جو خود بھی اس آبنائے پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتحال میں سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ کسی بھی فریق کی ناراضگی مول لیے بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔فی الحال دنیا سانس روکے اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ آیا سفارت کاری کوئی راستہ نکالے گی یا حالات مزید بگڑیں گے۔ دنیا کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ایسے علاقائی تنازعات کے عالمی اثرات ہوتے ہیں،ان کے حل کے لیے مقامی سطح کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
آبنائے ہرمز: عالمی معیشت پر منڈلاتا ایک نیا خطرہ
09:27 AM, 23 Sep, 2026