احتجاج سے نقصان زیادہ یا حکومتی فیصلوں سے؟

09:26 AM, 23 Sep, 2026

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں خبردار کیا کہ احتجاج، مارچ، ہڑتالوں اور دھرنوں سے معیشت کو یومیہ 120 ارب روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے اور ترقی کا سفر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس دعوے سے اختلاف مشکل ہے۔ سڑکیں بند ہوں تو معیشت رکتی ہے اور یہ حقیقت ہے۔ مگر ایک سوال حکومت سے بھی بنتا ہے۔ کیا معاشی سرگرمی میں رکاوٹ صرف سڑکیں بند ہونے سے آتی ہے؟ اگر احتجاج کی وجہ سے ایک دکان بند ہوجائے تو یہ معاشی نقصان ہے لیکن اگر انتظامی حکم کے تحت وہی دکان وقت سے پہلے بند کر دی جائے تو کیا اس نقصان کی نوعیت بدل جاتی ہے؟ اگر سیاسی سرگرمی کے باعث سپلائی کا ٹرک منزل تک نہ پہنچ سکے تو معیشت متاثر ہوتی ہے لیکن اگر کسی انتظامی فیصلے کے نتیجے میں دکان، مارکیٹ، فیکٹری یا گودام کئی دن بند رہے تو کیا اس دوران ہونے والا معاشی نقصان ختم ہوجاتا ہے؟ اور اگر کسی متوقع سیاسی یا سرکاری سرگرمی کے باعث سڑکیں کئی دن پہلے ہی بند کر دی جائیں تو ان دنوں کاروبار نہ ہونے کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟
یہ سوال کسی ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کا نہیں، طرزِ حکمرانی اور معاشی پالیسی کے بنیادی اصول کا سوال ہے۔اس وقت پاکستانی معیشت کی دو تصویریں ہیں۔ ایک وہ جو حکومت کو نظر آتی ہے۔ وہ میکرو اکنامک اعشاریے جو آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے نتیجے میں نسبتاً مستحکم دکھائی دیتے ہیں۔ جس کا کریڈٹ حکومت خود لیتی ہے۔ دوسری تصویر وہ ہے جو عوام کے سامنے ہے۔ پٹرول اور بجلی سمیت بنیادی اشیا کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں، قوتِ خرید کم ہو رہی ہے، روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں اور غربت بڑھ رہی ہے۔ سوال سادہ ہے۔ اگر معاشی ترقی ہو رہی ہے تو عوام کی زندگیوں میں بہتری کیوں نہیں آرہی؟ بقول حکومت اگر مہنگائی کم ہو رہی ہے تو غربت کیوں بڑھ رہی ہے؟ اگر سرمایہ کاری بہتر ہوئی ہے تو روزگار کیوں نہیں بڑھ رہا؟
یہاں حکومتی بیانیے کو خود عالمی ادارے بے نقاب کرتے ہیں۔ عالمی بینک کی تازہ ترین ''پاورٹی، ایکویٹی اینڈ ریزیلینس اسیسمنٹ'' کے مطابق پاکستان کی قومی غربت کی شرح، جو2018-19 میں 21.9 فیصد تک گر چکی تھی، 2023-24 میں دوبارہ بڑھ کر 25.3 فیصد پر پہنچ گئی۔ یعنی دو دہائیوں کی مسلسل کمی الٹ گئی۔ یہی نہیں، عالمی بینک کے مارچ 2026 کے تازہ جائزے میں پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور افغانستان کو دنیا کا ایسا خطہ قرار دیا گیا جہاں انتہائی غربت کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ باقی دنیا میں یہ کم ہو رہی ہے۔ دوسری طرف عالمی بینک کی ''بزنس ریڈی'' رپورٹ میں پاکستان کاروباری ماحول کے اعتبار سے نچلے درجے یعنی چوتھے کوئنٹائل میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکس نظام، تنازعات کے حل، مارکیٹ مسابقت اور کاروباری دیوالیہ پن جیسے شعبوں میں کارکردگی خاصی کمزور ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں افراطِ زر رواں مالی سال 2026-27 میں بڑھ کر 8.4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو حکومت کے اپنے 8.2 فیصد کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔ یعنی جن اداروں کے اعداد و شمار پر حکومت ''استحکام'' کا دعویٰ کھڑا کرتی ہے، وہی ادارے عوام کی حقیقی حالت اور کاروبار کی مشکلات کا ثبوت بھی دے رہے ہیں۔ استحکام کاغذ پر ہے، گھر کے چولہے اور دکان کے شٹر پر نظرنہیں آرہا۔
یہ تضاد صرف بیانیے میں ہی نہیں، پالیسیوں میں بھی نظر آتا ہے۔ حکومت خود معاشی استحکام، سرمایہ کاری، برآمدات، ٹیکس وصولی اور نجی شعبے میں ترقی پر زور دیتی ہے۔ ایسے میں کاروبار کے لیے اصول واضح ہونا چاہیے: آسانی پیدا کی جائے، اسے پھلنے پھولنے دیا جائے۔ دنیا بھر میں قانون کا مقصد کاروبار ختم کرنا نہیں، اسے دائرے میں لانا ہوتا ہے۔ خلاف ورزی پر کارروائی ہونی چاہیے، مگر اصل سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے والوں کو ہی سب سے زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ مسئلہ صرف کاروباری افراد کا نہیں۔ ایک دکان بند ہوتی ہے تو اس کے ساتھ کئی معاشی پہیے سست پڑ جاتے ہیں۔ مزدور کی اجرت رکتی ہے، سپلائر کا آرڈر رک جاتا ہے، ٹرانسپورٹر کی گاڑی کھڑی ہوتی ہے، خام مال کی طلب کم ہوتی ہے، ڈسٹری بیوٹر کی سرگرمی متاثر ہوتی ہے، ریٹیل تک رسائی میں رکاوٹ آتی ہے اور بالآخر حکومت کی اپنی ٹیکس وصولی بھی متاثر ہوتی ہے۔ کاروبار کا شٹر صرف ایک دکان کا شٹر نہیں ہوتا، اس کے پیچھے پوری ویلیو چین کھڑی ہوتی ہے۔ یہی وہ پوشیدہ معاشی قیمت ہے جو ہر بندش کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، مگر سرکاری فیصلوں میں اکثر اس کا حساب نظر نہیں آتا۔چین سٹور ایسوسی ایشن آف پاکستان کے محتاط تخمینے کے مطابق، موجودہ پابندیوں کے باعث ہر ہفتے ریٹیل سرگرمی کو تقریباً 45 سے 75 ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ قومی خزانے کو ٹیکس آمدن کی مد میں تقریباً 10 ارب روپے فی ہفتہ کا نقصان ہو رہا ہے اور یہ عمل تقریباً ساڑھے پانچ ماہ سے جاری ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح پیغام دیتے ہیں انتظامی فیصلہ کرتے وقت شدید احتیاط لازم ہے۔ یہ کاروبار کو قانون سے بالاتر کرنے کی بات نہیں۔ یہ قانون کے نفاذ کو زیادہ م¶ثر بنانے کی بات ہے۔ 
معاشی استحکام بڑی محنت سے حاصل ہوتا ہے، مگر اسے نقصان پہنچانے کے لیے ہمیشہ بڑا بحران درکار نہیں ہوتا۔ چھوٹے چھوٹے تعطل، غیر ضروری بندشیں، کاروباری اوقات کی پابندیاں اور سڑکوں کی بلاجواز بندش یہ سب مل کر معیشت کو بھاری نقصان پہنچاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ایسی پالیسی کا معاشی اثر بھی ناپا جائے جو کاروباری سرگرمی کو محدود کرتی ہے۔ جب حکومت احتجاج کے نقصان کا تخمینہ پیش کرے، تو انتظامی فیصلوں سے ہونے والے نقصان کا حساب بھی سامنے لائے۔ یہی پالیسی سازی کو شفاف اور م¶ثر بنائے گا۔ریاست کو قانون چاہیے، مگر کاروبار بھی چاہیے۔ معیشت کا پہیہ بھی چلنا چاہیے۔ ٹیکس چاہیے، مگر ٹیکس دینے والا کاروبار بھی زندہ رہنا چاہیے۔ روزگار چاہیے، مگر روزگار دینے والی صنعت اور تجارت بھی فعال رہنی چاہیے۔ جو اصول احتجاج، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش پر لاگو کیا جا رہا ہے، وہی اصول انتظامی فیصلوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ پاکستان کو ایسی حکمرانی چاہیے جس کا مقصد کاروبار کو بند کرنا نہیں، بلکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اسے جینے دینا ہو کیونکہ کاروبار صرف کاروباری شخص کی ملکیت نہیں، معیشت کا ایک پہیہ ہے۔ اور پہیے کو بار بار روک کر یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ معیشت اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہے گی۔

مزیدخبریں