پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں۔ قیام پاکستان کے فورا بعد دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہو گئے تھے۔ سعودی عرب سے ہماری محبت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے اس سرزمین پر بیت اللہ اور ہمارے پیارے نبی ؐ کا روضہ مبارک موجود ہے۔ یہ دونوں مقامات پاکستانیوں سمیت ساری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کا مرکز و محور ہیں۔اس محبت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کو سفارتی اور معاشی سہارا دیا ۔ 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔ کشمیر کے معاملے پر اس نے ہمیشہ عالمی پلیٹ فارموں پر پاکستان کی حمایت کی۔1998 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے امریکی دباو کو نظر انداز کرتے ہوئے، ایٹمی دھماکے کئے، تو پاکستان کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مشکل دور میں ہمارا دوست سعودی عرب ہمارے ساتھ تھا۔ سعودی شاہ عبد اللہ کی مہربانی سے پاکستان کو کئی برس تک مفت تیل فراہم ہوتا رہا۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں سعودی عرب نے کئی مرتبہ ہمیں نرم شرائط پر تیل فراہم کیا اور اربوں ڈالر کی فراہمی کو یقینی بنایا۔اس محبت کے جواب میں پاکستان نے بھی سعودی عرب کی آوز پر ہمیشہ لبیک کہا۔ جب بھی سعودی عرب کو دفاع اور سلامتی کے ضمن میں ضرورت پڑی، پاکستان نے اپنے فوجی دستے وہاں بھجوائے۔ پاک فوج نے سعودی افواج کی تربیت میں کردار ادا کیا۔ پاکستانی فوجی افسران سعودی فوج میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ مختصر یہ کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین برسوں سے گہرے سفارتی، اقتصادی، مذہبی اور سماجی تعلقات قائم ہیں۔
17 ستمبر 2025 کو ان تعلقات نے ایک نئی اڑان بھری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک نہایت اہم با ہمی دفاعی معاہدہ (strategic mututal defence agreement) طے پایا ہے۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان نے اس معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ ابلاغیات کی ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے ان خوشگوار مناظر کا ذکر ضروری ہے جو اس موقع پر دنیا بھر کے میڈیا پر نظر آئے۔ دونوں ممالک کے سربراہان کی گرم جوشی، ریاض میں پاکستانی اور سعودی پرچموں کی قطاریں ، وزیر اعظم پاکستان کو ملنے والا شاہی پروٹوکول اور دیگر مناظر کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ اس عزت افزائی سے دنیا میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں تک دفاعی معاہدے کا تعلق ہے، اس کی سب سے نمایاں شق جس کی گونج دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے وہ ہے کہ" کسی ایک ملک کے خلاف ہونے والی جارحیت یا حملے کو دونوں ملکوں پر جارحیت یا حملہ سمجھا جائے گا۔ اور اس کا مشترکہ جواب دیا جائے گا"۔ اگرچہ معاہدے کا مکمل متن فی الحال دستیاب نہیں ہے۔ تاہم معاہدے کے جو نکات سامنے آئے ہیں، وہ پاکستان اور سعودی عرب کیساتھ ساتھ خطے کیلئے تزویراتی اہمیت کے حامل ہیں۔ بجا طور پر کہا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں طاقت کے تواز ن پر اثر انداز ہو گا۔
اگرچہ داخلی طور پر پاکستان بے شمار مسائل کا شکار ہے ۔ تاہم پاکستان کی دفاعی اور عسکری اہمیت مسلمہ ہے۔ پاکستان اللہ کے فضل سے ایٹمی طاقت کا حامل ہے۔ ہماری افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ حال ہی میں ہماری ائیر فورس نے بھارت کے خلاف دفاعی طاقت کا مظاہرہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ اس معاہدے کی شکل میں سعودی عرب کو ایک مضبوط اور طاقت ور دفاعی حلیف میسر آیا ہے۔ دفاع کے تناظر میں سعودی عرب برسوں سے امریکہ پر انحصار کرتا رہا ہے۔ لیکن اسرائیلی جارحیت کے جواب میں امریکی کردار کی بے یقینی نے سعودی عرب کو ایک متبادل اور قابل بھروسہ دفاعی حلیف تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں دیگر خلیجی ریاستیں بھی متبادل پارٹنر تلاش کرنے کی طرف مائل ہو جائیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان سے بھی اس امکان کو تقویت ملتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کسی کے لئے دروازے بند نہیں ہیں۔ آنے والے وقت میں دیگر عرب ممالک بھی اس دفاعی حکمت عملی کا حصہ بن سکتے ہیں ۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر یہ قیاس بھی ہو رہا ہے کہ معاہدے کے نکات میں جوہری شراکت کا پہلو بھی شامل ہے۔ تاہم اس نکتے کی ابھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اقوام عالم کے لئے اس معاہدے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔اس پر امریکہ کے کان بھی لامحالہ کھڑے ہوئے ہوں گے۔اسرائیل بھی اس صورتحال پر باریک بینی سے غور کرئے گا۔ بھارت میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسے اپنی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمت عملی کا ازسر نو جائزہ لینا پڑے گا ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ایران نے اس معاہدے کو طاقت کے تواز ن کے خلاف قدم اور خطرے کی ایک گھنٹی قرار دے دیا ہے۔ جو بھی ہے، اس وقت پاکستان ایک اہم ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اگرچہ یہ ایک دفاعی معاہدہ ہے ، لیکن اس کے معاشی اور سیاسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ معاہدے کے بعد سعودی عرب کی طرف سے سرمایہ کاری، تیل کی فراہمی اور تعاون کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔ یقینا سعودی عرب چاہے گا کہ پاکستان میں معاشی کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام بھی ہو ۔ داخلی سطح پر بھی معایدے کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ معاہدے کی اطلاع کے بعداسٹاک ایکس چینج میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستانی تاجر اور سرمایہ کاراس معاہدے کو سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کی نئی نوید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس معاہدے کے کچھ پہلووں پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔ ایک گروہ تو محض حکومت یا فوج کے بغض میں تنقید کر رہا ہے۔ اس پر تو خیر بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم کچھ ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کو کسی اور کے مفاد کیلئے خطرے میں ڈال دیا ہے؟۔ اگرچہ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور براہ راست کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔ اس خدشے کا اظہار بھی ہو رہا ہے کہ معاہدے کے بعد پاکستان کسی بلاک کا حصہ نہ بن جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کو ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں تواز ن قائم رکھنا ہو گا۔ خارجہ اور دفاعی پالیسی کو پارلیمان میں لائے بغیر طے کرنے پر بھی سوال ہو رہا ہے۔یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر جوہری صلاحیت کی شراکت کا راستہ کھلتا ہے تو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں یا اصولوں کی خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان کو عالمی دبا و کا سامنا کرنا پڑ سکتا ۔ امید ہے کہ معاہدے کے منظر عام پر آنے کے بعد بہت سے سوالات کے جواب مل جائیں گے۔ان سوالوں سے قطع نظر، فی الحال ہم اس بات پر خوش ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک نئے اور خوشگوار باب کا اضافہ ہوا ہے۔
پاک سعودی دفاعی معاہدہ۔۔ ایک نئے دور کا آغاز!!
09:24 AM, 22 Sep, 2025