تمدن کی تاریخ دراصل انسان کی اس جدوجہد کا نام ہے جس میں وہ اپنی اصل کو پہچاننے اور اپنی قدرو قیمت متعین کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب انسان نے اپنے وجود کو عقل ، علم اور انصاف کے سانچوں میں ڈھالا تو معاشرے روشن ہوئے۔ لیکن جب اس نے اپنی زندگی کو وہم ، رسم اور دکھاوے کے بوجھ تلے دبایا تو زوال اس کا مقدر ٹھہرا۔ انسانی تاریخ کے اوراق اس حقیقت سے لبریز ہیں کہ قوموں کے زوال کی سب سے بڑی علامت وہ ساعت ہوتی ہے جب وہ انسانی حرمت کو پسِ پشت ڈال کر تصنع ، جمود افکار اور جھوٹی سر بلندی کے بت تراش لیتی ہیں۔ یہ بت بظاہر تو غیر مرئی ہوتے ہیں مگر ان کی گرفت پتھر کی زنجیروں سے بھی زیادہ سفاک ہوتی ہے ۔ان کے سامنے نا عمل کی روشنی کارگر رہتی ہے نہ مذہب کی ہدایت ، آج ہمارے معاشرے نے بھی یہی المیہ اپنا مقدر بنا لیا ہے ۔ ہم نے انسانی جان کو ثانوی حیثیت دے کر لوگ کیا کہیں گے کے تماشے کو اصل قرار دے دیا ہے۔ آج ہم اسی زوال کے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں انسانی جان کی حرمت سے بڑھ کر جھوٹی عزت اور روایت پرستی کے بت پرستے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ عجیب المیہ ہے کہ ایک طرف جدید دنیا انسان کو چاند پر لے جا رہی ہے اور مصنوعی ذہانت اس کے خیالات کو پڑھنے لگی ہے لیکن دوسری طرف ہمارے معاشرے میں انسان کی زندگی اب بھی اسی بات کی نذر ہو جاتی ہے’ کہ لوگ کیا کہیں گے ‘۔جھوٹی عزت کی اس دوڑ نے ہمیں وہیں پہنچا دیا ہے جہاں حیات کی اصل قیمت مٹ کر محض سماجی تاثر باقی رہ گیا ہے ۔ دیکھا جائے تو عزت علم ، کردار ، انصاف اور خدمت کا نام ہے لیکن جب یہی عزت محض دوسروں کی رائے اور دکھاوے سے وابستہ کر دی جائے تو یہ جھوٹی عزت بن جاتی ہے جو حقیقت میں تو انسان کو بلند نہیں کرتی مگر سماجی طور پر برتری کا تاثر قائم کر دیتی ہے ۔ ہمارے سماج میں ہر سطح پر دکھاوا ہی اصل سرمایہ بن چکا ہے ۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں لاکھوں کے قرض لیے جاتے ہیں تاکہ لوگ تعریف کریں یہی قرض پھر برسوں کمر توڑتا ہے ۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہی دکھاوا تعلیم ، کاروبار اور حتیٰ کے عبادت میں بھی سرایت کر چکا ہے ۔ عزت اپنی اصل میں ایک اخلاقی شفافیت ہے ، کردار کی روشنی ہے مگرہم نے اسے محض سماجی تاثر کا دوسرا نام بنا دیا ۔ آج عزت کی پیمائش ضمیر کی پاکیزگی سے نہیں بلکہ برادری کی رائے ، محلے کی زبان اور طبقے کی نگاہ سے ہوتی ہے ۔ یہ ایک ایسا سراب ہے جو پیاسے کو پانی کا دھوکا دیتا ہے مگر ہاتھ میں خاک تھماتا ہے ۔ ہمارا سماج آج ایک ایسی تھیٹر میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں ہر شخص اداکار ہے ۔کوئی خوشی دکھا رہا ہے تو کوئی غم مگر سب دکھاوے کاکھیل ہے ۔ نمودو نمائش ، ماتم میں ریا ، تعلیم میں محض اسناد کا ڈھیر ، سیاست میں وعدوں کی رنگین مگر کھوکھلی قاشیں ۔یہ سب اس اجتماعی ریاکاری کی ہی صورتیں ہیں اور جب کسی قوم کی رگوں میںتصنع اور ریا سچائی سے زیادہ طاقتور ہو جائے تو وہاں انسانیت کا جوہر تحلیل ہونے لگتا ہے اوروہ معاشرہ اندر ہی اندر کھوکھلا ہوجاتا ہے ۔ روایت اگر عقل و تجربے کی روشنی سے جڑی ہو تو چراغ ہے مگر جب وہ سوال اٹھائے، سوچنے اور نئے راستے تلاش کرنے کی راہیں مسدود کر دے تو پھر وہ اندھیروں کی زنجیر ہے۔ہمارے ہاں روایت جمودِ افکار میں ڈھل چکی ہے، سوال کرنا اب یہاں گستاخی ، نئی راہ اختیار کرنا بغاوت اور آزادانہ فیصلہ لینا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں خواب ، تمنائیں اور دعائیں سب روایت کی دیواروں سے ٹکڑا کر بکھر جاتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا پہرے دار آج یہی جملہ ہے کہ لوگ کیا کہیں گے ؟یہ وہ سوال ہے جو ہر دل پر بوجھ ڈال دیتا ہے ۔طلبہ کے خواب چرا لیتا ہے ، عورتوں کی مسکراہٹ چھین لیتا ہے ، مزدور کے پسینے کو بے قدر کر دیتا ہے ۔ ہم نے اپنی زندگیاں رائے عامہ کے شکنجے میں دے دیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم زندہ تو ہیں مگر آزاد نہیں ہیں ، سانس تو لیتے ہیں مگر جیتے نہیں ہیں ۔ ہر آسمانی صحیفہ ، ہر فلسفیا نہ مکتب اور ہر ضمیر اس بات پر متفق ہے کہ انسانی جان کی حرمت سب سے مقدم ہے ۔ قرآن کریم نے اسے یوں بیان کیا کہ : ۔ جس نے ایک جان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا ۔ مگر ہم نے اس آفاقی سچائی کو پسِ پشت ڈال کر جھوٹی عزت اور مردہ روایت کے بتوں کو مرکزِ حیات بنا لیا یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے ہاں خون ارزاں ہے اور تاثر قیمتی ۔ اندلس جب اپنے عروج پر تھا تو وہاں علم و فن کی قدر تھی مگر جب وہاں کے لوگوں نے علم کو چھوڑ کر محض دکھاوے اور جاہ و حشم کو اہمیت دی تو زوال ان کا مقدر بن گیا ۔ روم کے زوال میں بھی یہی حقیقت کارفرما تھی ۔ وہاں طاقت کے ساتھ ساتھ روایت پرستی نے سوچ کو مفلوج کیا اور انسانی جان محض ہجوم کے کھیل میں ارزاں ہو گئی ۔
وقت کی ریت کبھی کسی پر ترس نہیں کھاتی ، جو قومیں انسانیت کو قربان کر کے جھوٹی عزت اور ریاکاری کے بتوں کو سجدہ کرتی ہیں وہ تاریخ کے ملبے میں دفن ہو جاتی ہیں ۔ اگر ہم نے تصنع ، جمود ، افکار اور جھوٹی سربلندی کے یہ بت نہ گرائے تو ہمارا انجام بھی وہی ہو گا جو ان قوموں کا ہوا جن کی داستانیں آج کتب خانوں کے گرد آلود اوراق میں دفن ہیں ۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو روشنی ورثے میں دیتے ہیں یا پھر اندھیروں کی میراث ۔ اس سب سے نجات صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم ان بتوں کو توڑ ڈالیں ۔ عزت کو ضمیر کی روشنی اور کردار کی شفافیت سے پرکھیں ، روایت کو حکمت و بصیرت کی کسوٹی پر تولنا ہو گا اور تصنع کی اسٹیج کو زمین بوس کرنا ہو گا ۔ انسان کو مرکزِ کائنات ماننا ہو گا ۔ اس کی جان ، اس کے خواب اور اس کی آرزوکو سب سے قیمتی قرار دینا ہو گا ۔
جب زندگی ارزاں ہو اور تاثر قیمتی
09:21 AM, 22 Sep, 2025