بگرام مہم جوئی مہنگی پڑے گی

09:20 AM, 22 Sep, 2025

امریکی سیاسی قیادت میں بولنے سے قبل تولنے کا رواج کم ہی رہا ہے۔ ہنری کسنجر نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں کبھی سوچئے بھی نہ ورنہ نشانِ عبرت بنا دیں گے۔ چھوٹے بش نے جنرل مشرف کو بذریعہ فوجی جنرل فون پر دھمکایا کہ ہمارا ساتھ نہ دیا تو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔ اب موجودہ امریکہ نے خطے کے ہر ملک کی ہر قیادت کو دھمکیاں دینا اپنی قومی پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے۔ امریکیوں کی یادداشت اور کینہ پروری مشہور ہے۔ وہ ہاتھیوں کی یادداشت اور اونٹ کی طرح کینہ رکھتے ہیں۔ ہاتھی کی یادداشت رکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے، اس کا مثبت استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اونٹ کی طرح کینہ پروری سے اجتناب برت کر انسان اپنے آپ کو ہاتھی اور اونٹ کے خاندان کے فرد کے طور پر نہ منوائے تو بہتر ہے۔
پاکستان نشانِ عبرت نہیں بنا۔ اللہ کے فضل سے ایٹمی قوت بن گیا، اسے پتھر کے زمانے میں بھی نہیں پہنچایا جا سکا بلکہ ایسی سوچ رکھنے والوں کو آج دنیا کے کونے کونے سے پتھروں کی برسات کا سامنا ہے۔ وہ غزہ میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں ظالم کے ساتھ کھڑے ہونے کا معاملہ ہو یا اچھے خاصے نظام کو ٹیرف جنگ میں دھکیلنے کی حماقت ہو، دونوں کا نقصان بہرحال امریکہ کو بھی ہو گا۔ یہ نقصان ہونا شروع ہو چکا ہے، جس کا اندازہ نہیں کیا جا رہا۔ بگرام کے اڈے پر قبضے کی خواہش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طویل جنگ اور بدامنی کے بعد افغانستان میں افغانیوں کی مرضی سے ایک حکومت قائم ہوئی ہے جو اب تباہ حال افغانستان اور افغانوں کی حالت پر توجہ دے رہی ہے۔ ایسے میں ایک نئی آگ لگانا دانشمندی قرار نہیں پائے گی۔ اس سوچ کا اظہار کرنے سے قبل افغانستان سے بھاگنے والوں کو اپنے فرار کے منظر کی ویڈیو رکھ لینی چاہئیں۔ امریکی اپنا اسلحہ گولہ بارودو دیگر سازوسامان چھوڑ کر بھاگتے دوڑتے چلے آرہے تھے اور جہاز میں سوار ہو کر فرار ہونے کے لئے بے چین تھے۔ افغانوں کا بہت جم غفیر تھا جو ان کا پیچھا کرتا ائیرپورٹ پہنچ چکا تھا۔ امریکی فوجیوں کو افغانستان سے نکالنے والے فوجی طیارے نے ٹیکسی کرنا شروع کیا تو افغانوں کے جتھے جہاز کے پیچھے لپکے لیکن جہاز کسی نہ کسی طرح ٹیک آف کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
افغانستان سے امریکیوں کے انخلا میں پاکستان نے ان کی بھرپور مدد کی۔ اس مدد کی پاکستان سے درخواست کی گئی تھی۔ جوبائیڈن حکومت نے پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا لیکن بعدازاں اس زمانے کی امریکی اپوزیشن نے جوبائیڈن حکومت پر تنقید کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی تنقید جاری رکھی۔ امریکیوں کی طرف سے دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کی روایت بھی پرانی ہے۔ وہ اپنا کام نکل جانے کے بعد اکثر ایسا ہی کرتے ہیں۔ اب بھارت کی طرف پاکستان پر حملے اور پاک ائیرفورس کی طرف سے کمر توڑ جواب کے بعد شاید کہیں سوچ تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ یہ سوچ کب بدل جائے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
امریکی صدر کی طرف سے بگرام کے فوجی اڈے کے حصول کی خواہش کا اظہار۔ امریکہ میں بیٹھ کر کیا جاتا تو بات دیگر تھی۔ انہوں نے یہ بات اپنے دورہ برطانیہ کے موقعہ پر برطانوی وزیراعظم کے ساتھ بیٹھ کر کی تو برطانوی وزیراعظم حیرت سے ان کی شکل دیکھنے لگے۔ برطانیہ نیٹو میں ہونے کے ناطے امریکہ کے ہر منفی کام میں ساتھ دیتا نظر آتا ہے لیکن برطانوی وزیراعظم کے بری طرح چونکنے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے لئے یہ اطلاع غیر متوقع تھی۔ امریکی صدر کی طرف سے اس خواہش کے اظہار نے برطانیہ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ برطانیہ میں حکومت اور اپوزیشن اس مرحلے پر افغانستان میں کوئی ایسا کھیل رچانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں جس میں برطانیہ کو بھی اپنا حصہ ڈالنا پڑے۔ برطانیہ دنیا کے مختلف ممالک سے جاری کی گئی امریکی جنگوں کاروباری الجھنوں پر توجہ دیئے ہوئے ہے اور ان کے اثرات سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد برطانوی وزیراعظم نے تشویش بھرے لہجے میں برطانوی شہریوں کو ایک پیغام جاری کیا کہ وہ دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فوجی حملوں سے بچنے کے لئے بنائے گئے بنکرز کو ایک مرتبہ پھر رہائش اور اپنی حفاظت کے لئے تیار کر لیں۔ خشک خوراک اور پانی کا ذخیرہ رکھیں کیونکہ کسی بھی وقت انہیں کسی بھی بیرونی حملے کے نتیجے میں ان چیزوں کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ افغانستان میں جاری جنگ کے زمانے میں بنائی گئی بگرام ائیربیس شاید بڑی طاقتوں کی دوسرے ممالک میں بنائی گئی بڑی اور محفوظ ترین وسیع بیس ہے۔ زمانہ جنگ میں امریکی صدر جارج بش نے اس فوجی اڈے کا دو مرتبہ دورہ کیا۔ ان کے ایک دورے کی خبر خفیہ نہ رہ سکی اور طالبان تک پہنچ گئی جنہوں نے عین اس وقت وہاں ایک بھرپور حملہ کیا، جس کی امریکی حکام کو توقع نہ تھی۔ بگرام کا ہوائی اور فوجی اڈہ بنیادی طور پر روس نے اپنی آمد کے موقع پر بنایا تھا اور کافی عرصہ تک ان کے زیراستعمال رہا بعدازاں روس وہاں سے پسپا ہوا اور امریکی وہاں پہنچے تو انہوں نے اسے اپنی ضرورت کے مطابق مزید محفوظ اور آراستہ کیا لیکن دنیا نے دیکھا امریکی بھی یہاں سے پسپا ہوئے۔ دو بڑی طاقتوں کو اس فوجی اڈے کے درودیوار نے رسوا ہوتے دیکھا۔ عین ممکن ہے وہ اب تیسری مرتبہ امریکیوں کی رسوائی کا منظر دیکھیں۔ اسے خالی کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
امریکی صدر کی طرف سے بگرام کی محبت بیدار ہونے کے بعد افغان حکومت نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے سخت مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے ایک فوجی پریڈ کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں کلمہ طیبہ کا پرچم لہراتے افغان ایک متاثرکن پریڈ کرتے نظر آتے ہیں۔ فوجی طاقت کا اصل امتحان تو میدان جنگ میں ہوتا ہے لیکن اس قسم کی پریڈ سے فوج کے عزم کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر میں افواج پاکستان اور چین کی فوجی پریڈ شاندار قرار دی جاتی ہے۔ اب افغانستان کی فوجی پریڈ بھی اس صف میں شامل ہوتی نظر آتی ہے۔ افغانوں سے آپ لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن انہوں نے مسلسل پچاس برس دو عالمی طاقتوں کو شکست فاش دی ہے جو ایٹمی طاقتیں ہونے کے ساتھ وسائل سے مالامال تھیں۔ انہوں نے روس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور امریکی فوج کی پشت پر نیٹو ممالک کی ناک بھی کاٹ ڈالی۔ اس پس منظر کے بعد اب امریکہ کو افغانستان میں کسی بھی نئی مہم جوئی کا خیال دل سے ہمیشہ کے لئے نکال دینا چاہئے کیونکہ اس مرتبہ افغان تنہا نہیں ہوں گے بلکہ چین کی مکمل مدد و تعاون حاصل ہو گا جبکہ نیٹو ممالک شاید اس دلجمعی سے امریکہ کے ساتھ نہ ہوں۔ افغان جنگ میں ہر نیٹو ممبر ملک میں سینکڑوں لاشیں گئی ہیں جن پر کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے پردہ ڈالا گیا لیکن سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے شاید اب ممکن نہ ہو۔ بگرام مہم جوئی مہنگی پڑے گی، امریکہ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

مزیدخبریں