دفاعی معاہدہ، پختونستان کی سازش، نئے الیکشن

09:19 AM, 22 Sep, 2025

18 ستمبر تاریخ ساز دن، کچھ بڑا بلکہ بہت بڑا ہوگیا، پاکستان اور سعودی عرب اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے میں بندھ گئے۔ ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور ہوگا، 8 دہائیوں میں برادرانہ تعلقات کا نیا باب، امن کے حصول کا مشترکہ عزم، اسٹرٹیجک شراکت داری کی مضبوط بنیاد، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم شہباز شریف نے معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدہ گیم چینجر، پاک سعودی دفاعی معاہدے کے پیچھے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا ٹیم ورک، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل مرکز نگاہ بنے رہے، محترم انصار عباسی کہتے ہیں کہ ’’سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اعتماد اور باہمی یقین کی سطح پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملی‘‘ اللہ جسے عزت دے وزیر اعظم شہباز شریف کا فقید المثال استقبال، وہم و گمان میں بھی نہ تھا، وزیر اعظم کا طیارہ جونہی سعودی فضائوں میں داخل ہوا، سعودی ایئر فورس کے ایف 15 طیاروں نے اپنے حصار میں لے لیا۔ وزیر اعظم نے کاک پٹ سے عربی زبان میں ولی عہد اور دیگر سعودی حکام کا پوری پاکستانی قوم کی جانب سے شکریہ ادا کیا، طیارے سے اترتے ہی 21 توپوں کی سلامی، سعودی حکام چشم براہ، ریڈ کارپٹ کی بجائے پرپل کارپٹ پروٹوکول، گارڈ آف آنر، پرپل کارپٹ پروٹوکول اس سے پہلے صرف امریکا اور روس کے صدر کو دیا گیا، پاکستانی وفد ولی عہد کے ذاتی محل قصر یمامہ پہنچا تو محمد بن سلمان نے وزیر اعظم کو گلے لگا لیا۔ فیلڈ مارشل کے سیلوٹ کے جواب میں پر خلوص مصافحہ، یوں لگا ولی عہد دل کی گہرائیوں سے اظہار تشکر کر رہے ہیں، بات چیت کا مختصر دور اور پھر تاریخی معاہدے پر دستخط۔ اس کے بعد طویل معانقہ، تاریخ رقم ہوگئی، دونوں ملکوں کے تین کردار ولی عہد، وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل تاریخ میں امر ہوگئے۔  ہماری جانیں قربان اللہ رب العزت نے ہمیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کی ذمہ داری سونپ دی، سعودی عرب اور اسلام آباد میں چراغاں، آتشبازی، ریاض کی سڑکوں پر سعودی اور پاکستانی پرچم لہرانے لگے۔ عربی نغمے ’’یہ معاہدہ کبھی نہ ٹوٹے گا ہمیشہ قائم رہے گا‘‘پاک بھارت جنگ نے دنیا بھر میں پاکستان کو عزت و وقار دیا۔ بہادر پاک فوج نے کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دیے۔
اچانک کیا ہوا؟ 10 مئی کی مختصر ترین جنگ میں مودی دھول چاٹنے پر مجبور، ٹرمپ نے 30 بار 
پاکستان کی فتح کا اعلان کر کے اسے دنیا بھر میں مضبوط عالمی ایٹمی طاقت کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ مودی کی سالگرہ پر پاکستانیوں نے ’’در فٹے منہ تیرے جنم دن پر‘‘ وائرل کر کے ’’ہدیہ تبریک‘‘ پیش کیا۔ ٹرمپ نے چاہ بہار کی پورٹ سے بھارت کی تجارت کا استثنیٰ ختم کردیا۔ اسی دوران اسرائیل کے پاگل اور فاشسٹ وزیر اعظم نیتن یاہو نے قطر پر میزائل داغ دیے، قطر امریکا کا سب سے بڑا اتحادی، فلسطین تنازع میں ثالثی کردار ادا کرنے والا ملک، عرب ملکوں میں سب سے بڑا امریکی اڈہ دس ہزار امریکی فوجی مقیم لیکن اس کے ساتھ بد ترین منافقت کا مظاہرہ، اسرائیلی حملہ 8 بجے ہوا، امریکا نے 8 بج کر 51 منٹ پر اطلاع دی، عرب ملک اس حملہ سے جاگ گئے۔ عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کہ قطر کے بعد کس کی باری۔ گریٹر اسرائیل کے نقشہ میں مکہ مدینہ بھی شامل، دوسرے دن ہی ولی عہد نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سمیت دونوں کو ریاض آنے کی دعوت دی اور دفاعی معاہدہ کرلیا۔ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ابتدائی طور پر 22 سو کلو میٹر رینج کے جدید ترین ابابیل میزائل نصب کرے گا، پاک فوج مقدس سر زمین کی حفاظت کرے گی۔ اسی طرح سعودی عرب پاکستان پر افغانستان بھارت یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی حملہ پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قطر، کویت اور دیگر عرب اور اسلامی ممالک بھی واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔ مودی کی میا مر گئی، اسرائیل کو سانپ سونگھ گیا۔ قرآنی حکم، ہم نے کافروں کے دلوں میں تمہاری دھاک بٹھا دی، چین، روس، ایران، ترکی، سعودی عرب، پاکستان سب ایک پلیٹ فارم پر متحد، امریکا کیا نیا پینترا بدلے گا۔ فی الحال علاقہ میں اپنی موجودگی کے لیے اس نے افغان طالبان سے بگرام ائر بیس کا مطالبہ 
کردیا تاکہ ارد گرد کے ممالک اور چین کی تنصیبات پر نظر رکھ سکے، پوری قوم دفاعی معاہدے پر خوش، صرف بانی پی ٹی آئی اور قوم یوتھ مایوس۔ سوشل میڈیا پر مفرور اشتہاریوں کی جانب سے معاہدے پر تنقید۔ خان جی کو پختونستان کی فکر کھائے جاتی ہے۔ یادش بخیر خان غفار خان اٹک کے پل تک پشتونوں، پختونوں اور دری زبان بولنے والے افغانوں کے لیے گریٹر پختونستان کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔ بھارت کے دورے کیے سرحدی گاندھی کے نام سے یاد کیے جاتے تھے۔ انتقال کے بعد وصیت کے مطابق انہیں پاکستان کے بجائے جلال آباد میں دفن کیا گیا۔ تحریک دب گئی۔ چالیس سال بعد خان نے اس تحریک کو پھر زندہ کردیا۔ گنڈا پور کو خیبرپختونخوا میں فوجی آپریشن روکنے کا حکم، دراز زلف کے انکار کے بعد اظہار برہمی، فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کے دہشتگردوں کے مسلسل حملے، خود کش دھماکے، 14 سے 18 ستمبر تک پاک فوج نے 66 خارجیوں کو جہنم واصل کردیا۔ 800 خارجی بنوں اور دیگر علاقوں میں موجود، مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے وزراء اور ارکان ان کے سہولت کار۔ کے پی کابینہ کے ایک سابق وزیر شاہ محمد وزیر نے اپنا حجرہ خارجیوں کے حوالے کر رکھا تھا۔ جہاں وہ بم بناتے تھے۔ قریبی مسجد بھی ان کے قبضے میں تھی۔ وزراء اور اراکین ریکی میں بھی ملوث، خان کا اصرار ہے کہ اس جنگ کے تین فریق 
ہیں فوج، کے پی کے عوام اور ہمارے مہمان حملہ آور ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں سمیت افغان حکومت، کیا افغانستان خود مختار ملک ہے یا پاکستان کا صوبہ خدا خوفی سے 40 لاکھ افغانوں کو پناہ دینے کا گناہ کر بیٹھے تھے جو پاکستان کو تباہ کرنے کے در پے ہیں۔ خان کو یہ خوف کھائے جا رہا ہے کہ آپریشن کے نتیجے میں ٹی ٹی پی خوارج کے خاتمے اور افغانوں کے انخلاء سے ان کی صوبے میں حکومت غیر مقبول ہوجائے گی۔ اس لیے وہ پختون اور افغان نیشنل ازم کو مربوط کر کے پاک فوج سے بھڑانا چاہتے ہیں، خان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے خان کی کالیں مسترد کردیں لیکن خان اور ان کی اہلیہ کا رویہ دن بدن سخت، خود سر اور پر اسرار ہوتا جا رہا ہے، وکلاء مارپیٹ، سرپھٹول پر اتر آئے ہیں، گرفتاریاں بے کار پندرہ منٹ بعد یا پہلے ضمانتیں بڑوں کی ضمانتوں میں توسیع وکلا تحریک کی تیاریاں اور اسی دوران آئندہ سال 26 جون کو نئے انتخابات کی پھلجھڑی کچھ نہیں ہوگا موجودہ حالات میں آئندہ پانچ سال کی صورتحال بھی واضح ہوگئی، خان صاحب سوئے دار سے بچے تو کوئے یار کی طرف نکلنے کی ڈیل کرنے پر مجبور ہوں گے۔

مزیدخبریں