دھوپ چھاؤں کی طرح سچ اور جھوٹ کی کشمکش صدیوں پرانی ہے، لیکن جب کوئی قوم سچ کے راستے پر چل نکلے تو دنیا کے ہر جھوٹے بیانیے کو شکست ہونا اس کی تقدیر بن جاتی ہے۔ آج یہی راستہ پاکستان نے چنا ہے، اور اسی سچائی کی ایک روشن مثال ہے۔ پکتیکا کا وہ فضائی حملہ، جسے پراپیگنڈے کی گرد میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان ایک پُرامن ریاست ہے، اس کی دھرتی محبت، قربانی، وفا اور امن کے رنگوں سے سجی ہوئی ہے۔ ہماری تاریخ شہادتوں، قربانیوں اور مسلسل جدوجہد سے بھری پڑی ہے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف وہ جنگ لڑی ہے جس کی نظیر دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ ہم نے اپنے بچے، اپنے سپاہی، اپنے استاد، اپنے نمازی، اپنے مزدور سب کھو دئیے، لیکن ہار نہ مانی، پیچھے نہ ہٹے، ڈگمگائے نہیں اور اس خاک سے اٹھنے والی ہر سانس امن کی پیامبر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دشمن، دہشت گردی کے خونی پنجے لے کر دوبارہ ہماری سرزمین کی طرف بڑھے، تو پاکستان نے خاموش رہنے کی بجائے، سچائی، حکمت اور جرأت کا ہتھیار تھاما۔
افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں ہونے والی پاکستانی فضائی کارروائی کوئی جارحیت نہ تھی، نہ ہی اقتدار کی ہوس اور نہ ہی زمین کی للک۔ یہ ایک محدود، درست اور خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی کارروائی تھی، جس کا واحد مقصد ان دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنانا تھا جو بارہا پاکستانی سرزمین کو لہو لہو کر چکے تھے۔ وہ دشمن جو ہمارے بچوں کے سکولوں کو نشانہ بناتے ہیں، جو ہماری مساجد میں بم بچھاتے ہیں، جو ہمارے شہروں کو چیخوں سے بھر دیتے ہیں ، وہ دشمن جو چہرے تو مسلمان رکھتے ہیں، مگر عمل خوارج کا کرتے ہیں۔ یہی وہ گروہ تھا حافظ گل بہادر گروپ، جو حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا تھا۔ ان عناصر نے افغان سرزمین کو اپنی پناہ گاہ بنا رکھا تھا، جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ جب ان کے خلاف کارروائی کی گئی تو نہ کوئی شہری زخمی ہوا، نہ کوئی کھلاڑی ہدف بنا، نہ ہی کوئی کھیل کا میدان بلکہ ہدف صرف ایک تھا اور وہ ہدف دنیا کے سامنے واضح تھا، دہشت گردی کا قلع قمع کرنا۔
پھر اچانک ایک جھوٹ جنم لیتا ہے۔ دنیا کے سب سے محبوب کھیل کرکٹ کا نام لے کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان نے ایک کرکٹ ٹیم کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ الزام اتنا بے بنیاد، اتنا غیر منطقی اور اتنا جذباتی تھا کہ سننے والے لمحہ بھر کو سچ اور جھوٹ میں فرق نہ کر پائیں۔ یہی تو پراپیگنڈے کا مقصد ہوتا ہے سچ کی چادر کو جھوٹ کے دھوئیں سے ڈھانپ دینا۔ لیکن یاد رکھئے، سچ کا سورج کبھی زیادہ دیر چھپ نہیں سکتا۔ زمینی حقائق، آزاد ذرائع اور انٹیلی جنس رپورٹس چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہیں کہ وہاں کوئی کرکٹ میچ ہو رہا تھا نہ ہی کوئی ٹیم موجود تھی۔ یہ افسانہ اس لیے گھڑا گیا تاکہ دہشت گردوں کو انسانی ڈھال بنا کر پیش کیا جا سکے اور پاکستان کے قانونی دفاعی اقدامات کو ایک غیر انسانی عمل ظاہر کیا جا سکے۔
یہاں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت، جو خود کو ’’اسلامی امارت‘‘ کہتی ہے، وہ ان دہشت گردوں کو کیوں پناہ دے رہی ہے؟ کیوں وہ عناصر جو اسلام کے نام پر ظلم کر رہے ہیں، جو پاکستانی عوام اور سکیورٹی فورسز کے دشمن ہیں، انہیں افغان سرزمین استعمال کرنے دی جا رہی ہے؟ کیا خوارج کو اسلامی حکومت میں جگہ دی جا سکتی ہے؟ کیا وہ لوگ جو معصوم جانوں کے قاتل ہیں، ان کے لیے نرم گوشہ رکھا جا سکتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے، خارجی کبھی امتِ مسلمہ کے خیرخواہ نہیں رہے۔ ان کا مقصد صرف فساد، قتل و غارت، اور تفرقہ ہے۔ اگر آج افغان حکومت ان کے خلاف کھڑی نہیں ہوتی تو کل وہ خود اسی تلوار کی زد میں ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ادارے اس جنگ کو صرف بارود سے نہیں، حکمت، تدبر اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے لڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پکتیکا کی کارروائی ایک اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر تھی، جس میں شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے ہر ممکن احتیاط برتی گئی۔
یہ حملہ ایک واضح پیغام تھا، ان دہشت گردوں اور ان کے پشت پناہوں کے لیے، کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ چاہے دشمن کہیں بھی چھپا ہو، اس تک پہنچا جائے گا۔ نہ کوئی سرحد آڑے آئے گی اور نہ کوئی بیانیہ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی سرزمین پر جو جنگ لڑی ہے، اس کی قیمت ہزاروں جانوں میں چکائی ہے۔ ہمارے فوجی جوانوں کی قربانیاں، ہمارے بچوں کی مسکراہٹوں کی واپسی، ہماری قوم کی خاموش آنکھوں میں چمکتا ہوا یقین، یہ سب اس بات کی گواہی ہے کہ ہم نے امن کی قیمت چکائی ہے، اور اب اس امن کو بچانے کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے۔
دنیا کو جان لینا چاہیے کہ جھوٹ کی عمر کبھی لمبی نہیں ہوتی۔ کرکٹ ٹیم کی کہانی، کھیل کے میدان کا افسانہ اور معصومیت کی اوٹ میں دہشت گردوں کی حمایت، یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ لیکن پاکستان اب ایک نئے عزم، نئی قوت اور نئے شعور کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں کیا بچانا ہے، اور ہمیں کس سے بچنا ہے۔ پکتیکا کا حملہ صرف ایک کارروائی نہیں، یہ پیغام ہے سچائی، بہادری اور اصولوں کا۔ اور یہ پیغام پاکستان کی سرزمین سے اٹھ کر پوری دنیا میں گونج رہا ہے کہ ہم امن کے سپاہی ہیں، لیکن جب بات ہمارے بچوں، ہمارے شہروں اور ہمارے خوابوں کی ہو، تو ہم سچ کا نشانہ لے کر دشمن کے سینے پر ٹھیک نشانہ لگاتے ہیں۔
پکتیکا حملہ۔ سچ کے سپاہی اور جھوٹ کا محاذ
09:25 AM, 22 Oct, 2025