امن، خطے کے استحکام و ترقی کا ضامن

09:23 AM, 22 Oct, 2025

ڈیورنڈ لائن کی سنگلاخ وادیاں ایک بار پھر لہو لہان ہو چکی ہیں جہاں دو برادر ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بے اعتمادی کی ایک نئی لہر نے خونی جھڑپوں کا روپ دھار لیا ہے حالیہ کشیدگی محض سرحدی نوک جھونک نہیں بلکہ ایک گہرا زخم ہے جو دہائیوں پرانی تاریخی بد اعتمادی اور دہشت گردی کے خطرات کے مشترکہ چیلنج سے پھوٹا ہے جب گولہ باری کی گونج بلند ہوتی ہے تو سرحد کے دونوں اطراف کے دیہات میں رہنے والے بے گناہ شہریوں کے دل لرز اٹھتے ہیں وہ جن کے دکھ درد اور ثقافت یکساں ہیں مگر جن کی قسمت سیاسی اور نظریاتی تقسیم کی بھینٹ چڑھ رہی ہے ایک جانب اسلام آباد اپنی سرزمین پر حملوں کے لیے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا ہے تو دوسری جانب کابل اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی اور فضائی حملوں کا الزام عائد کرتا ہے یہ تناؤ صرف دو حکومتوں کا نہیں بلکہ ان لاکھوں پناہ گزینوں کا بھی مقدر ہے جو اپنے وطن کی جانب دیکھنے کے منتظر ہیں ضروری ہے کہ یہ جنگ بندی صرف ایک عارضی خاموشی نہ ہو بلکہ دونوں ممالک کے حکام تحمل تدبر اور برادرانہ تعلقات کی روشنی میں بیٹھ کر ایک پائیدار حل تلاش کریں تاکہ اس خطے میں دیرپا امن کی شمع روشن ہو سکے۔
ریاست پاکستان نے بارہا افغان حکومت کو کہا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی کو روکیں لیکن جب افغانستان دہشت گردی بڑھتی ہوئی وارداتوں کو روکنے کے لیے کوئی ساتھ نہیں دے رہا تھا تو افواج پاکستان کا جوابی اقدام ایک غیر معمولی شدت اور فیصلہ کن عزم کا آئینہ دار تھا جس نے سرحد پار سے ہونے والے بلا اشتعال حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جب سرحدوں پر ناپاک عزائم کے سائے منڈلائے تو پاکستان نے نہ صرف دفاع کے حق کو استعمال کیا بلکہ فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اپنی تمام تر فوجی صلاحیت بروئے کار لائی اس جوابی اقدام میں توپ خانے اور جدید ڈرون حملوں کی گونج سنائی دی جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے اور تربیتی کیمپ خاکستر کر دیئے گئے اور دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا پاکستانی فورسز نے افغانستان کی طرف موجود کلیدی چوکیوں پر بھی قبضہ جما کر یہ واضح کر دیا کہ ملکی خودمختاری کے دفاع میں کسی بھی جارحیت کو پوری طاقت اور شدت کے ساتھ کچل دیا جائے گا یہ ایک ایسا سخت جواب تھا جس نے نہ صرف حملوں کا سلسلہ روکا بلکہ خطے کے اس نازک موڑ پر اسلام آباد کا دوٹوک مؤقف بھی دنیا کے سامنے رکھ دیا کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ڈیورنڈ لائن کے پہاڑی سلسلوں پر چھائی حالیہ کشیدگی کی سیاہی میں اسلام آباد کی جانب سے یہ گہرا خدشہ بار بار ابھر رہا ہے کہ افغانستان اب صرف اندرونی شورش کا شکار نہیں رہا بلکہ پڑوسی ملک ہندوستان کی حمایت اور پشت پناہی سے ایک نئی چال چل رہا ہے پاکستان کا ماننا ہے کہ کابل کی نئی سرگرمیوں کے پیچھے ہندوستان کا وہ دیرینہ حربہ کارفرما ہے جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کے میدان کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب پاک افغان سرحد آگ و آہن کا منظر پیش کر رہی تھی تو افغانستان کے وزیرِ خارجہ کا ہندوستان کا دورہ اور وہاں سے جاری ہونے والے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اگرچہ ہندوستان خود کو افغانستان کا ایک بڑا ترقیاتی شراکت دار اور خیر خواہ قرار دیتا ہے مگر پاکستان اسے اپنی خودمختاری اور استحکام کے خلاف ایک گہری سازش سمجھتا ہے جس میں بھارت ایک 'نیو نارمل' کے تحت دہشت گردی کو فروغ دینے والے عناصر کو پناہ دینے کے افغان فیصلے کو ہوا دے رہا ہے یوں افغانستان اپنے تاریخی اتحادی سے دور ہوتے ہوئے ایک ایسی قوت کی آغوش میں جا رہا ہے جو اس خطے کے امن کو ایک نیا اور خطرناک رخ دے سکتی ہے اور یہ تعلقات کی نزاکت کو ایک غیر متوقع موڑ پر لے آیا ہے۔
پاکستان برادرانہ تعلقات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افغانستان کے لیے اپنی تمام زمینی راہیں یکسر مسدود کر دیتا ہے تو کابل کی قسمت ایک خوفناک معاشی تنگی اور قحط زدگی کی جانب مائل ہو جائے گی افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے جس کا بیشتر انحصار اپنی ضروریاتِ زندگی تجارتی سامان اور عالمی امداد کی ترسیل کے لیے پاکستان کے بندرگاہی راستوں (خصوصاً کراچی اور گوادر) پر ہے راہداری کی اس بندش کا سب سے شدید نقصان خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی اشیاء کی فراہمی پر پڑے گا جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہو جائے گا افغانستان کی سرد اور سنگلاخ زمینیں جہاں کھیتیاں پہلے ہی محدود ہیں اس راستے کے منقطع ہوتے ہی عالمی تجارت کے بڑے دھارے سے کٹ جائیں گی یوں یہ اقدام نہ صرف افغان معیشت کی بنیادی ساخت کو پاش پاش کر دے گا بلکہ یہ ایک ایسا تالا ہو گا جو لاکھوں افغانوں کو انسانی ضروریات کی زنجیروں میں جکڑ دے گا اور یہ ثابت کرے گا کہ جغرافیائی مجبوری کبھی کبھی تباہی کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوتی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے ایسے میں جنگ کے سائے ہٹانے اور دیرپا امن کی بنیاد رکھنے کے لیے علاقائی اور عالمی طاقتوں کا فعال کردار ناگزیر ہے چین اور روس کو ایک غیر جانبدارانہ اور سٹرٹیجک سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات اس نازک موڑ پر خطے میں امن کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں ان کوششوں کا مرکزی نقطہ سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ اور باہمی اعتماد کی بحالی ہے جو دونوں پڑوسی ممالک کے استحکام کی ضمانت ہے پائیدار امن کی یہ جستجو نہ صرف علاقائی تجارت اور معیشت کو فروغ دے گی بلکہ جنوبی ایشیا کے مجموعی مستقبل کو ایک محفوظ اور خوشحال سمت دے سکتی ہے تاہم ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دیرینہ تحفظات کو پس پشت ڈال کر خلوصِ نیت کے ساتھ عملی اقدامات پر ہو گا تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کی خلیج کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔

مزیدخبریں