’ہائے رے سیاست تیری کون سی کل سیدھی‘

09:23 AM, 22 Oct, 2025

 ’’ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی‘‘ پاکستان کے سیاسی حالات وواقعات کو دیکھ کر پہلا خیال یہی ذہن میں ابھرتا ہے۔ پاکستانی سیاست خاص کر مستقبل کے سیاسی منظر نامہ بارے پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہاں لمحہ بہ لمحہ بدلتی ڈرامائی سیاسی صورتحال اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے سیاسی رہنماؤں کے بیانات عام آدمی کو چکرا کر رکھ دیتے ہیں۔ کل کے حریف آج کے حلیف اور آج کے حریف کل کے حلیف بنتے ذرا دیر نہیں لگاتے اور پھر اس کی ایسی توجیہات بیان کرتے ہیں کہ بندہ ہنسنے اور ان کی ’’عقلمندی ‘‘کی داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ آپ نے اکثر اپنی ٹی وی سکرینوں پر ایسے سیاستدانوں کو دیکھا ہو گا جو کل ایک پارٹی کی ترجمانی کرتے ہوئے اس کے فیصلوں کی بھرپور وکالت کررہے تھے اور آج وہ دوسری جماعت کے رہنما کو اوتار بنا کر پیش کر رہے تھے۔ یہاں پر جو کچھ پردۂ سکرین پر نظر آرہا ہوتا ہے دراصل ویسا ہوتا نہیں بلکہ اصل کہانی پردۂ سکرین کے پیچھے چل رہی ہوتی ہے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ یہاں جو ہوتا ہے‘ وہ نظر نہیں آتا اورجو نظر آتا ہے وہ ہوتا نہیں ہے۔
 مجھے جون 2004 ء کی ایک تپتی دوپہر آج تک نہیں بھولی لیکن پہلے اس کا مختصر پس منظر بتانا ضروری ہے۔ 2002ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ق) نے مرکز میں حکومت بنائی اور میر ظفر اللہ خان جمالی ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا اور سیاستدانوں کی اکثریت ان کی مدح سرا تھی۔ 2004ء کے اوائل میں میر ظفراللہ جمالی کے پرویز مشرف سے اختلافات کی خبریں میڈیا کی زینت بننے لگیں جن میں روزبروز شدت آتی گئی۔ انہی خبروں کے درمیان جون کی اس دوپہر حکومتی اتحادی جماعتوں کا ایک وفد میر ظفر اللہ خان جمالی سے ملا۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی رہنمائوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمارے درمیان کوئی اختلافات نہیں اور تمام معاملات طے کر لیے گئے ہیں۔ ابھی ان الفاظ کی باز گشت بھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اسی شام میر ظفراللہ خان جمالی نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔’’ کہنا کچھ کرنا کچھ‘‘ جیسی کئی مثالوں سے ہماری سیاسی تاریخ بھری پڑی ہے۔
 عام آدمی ‘جس کا تذکرہ اورجس کے مسائل اکثر انہی سطور کے ذریعے ارباب اقتدار تک پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں لیکن شاید اب الفاظ کی کوئی قدر اور وقعت نہیں رہی اور سیاسی اشرافیہ سمجھتی ہے کہ عام آدمی کے مسائل اور ان کے کرب بیان کرنے والے لکھ لکھ کر خود ہی خاموش ہو جائیں گے۔ ویسے مہنگائی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے کیونکہ دنیا کے سبھی ممالک میں ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک فطری امر ہے کیونکہ دنیا کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس رفتار سے چیزوں کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا اور یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ جب کسی چیز کی طلب میں اضافہ اور رسد میں کمی ہو تو اس کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مہنگائی نے ہر طبقہ ہائے فکر کے افراد کو متاثر کیا ہے۔ کسی نے خوب لکھا ہے کہ پہلے گھر کا ایک فرد کماتا تو 10 افراد کھا لیتے تھے لیکن اب 10 افراد کما رہے ہیں لیکن گیارہویں فرد کو نہیں کھلا سکتے ۔ان حالات میں موجودہ حکومت قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے جو خوش آئند امر ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنے تئیں کوشش کر رہی ہیں کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کر سکیں تاہم روز بہ روز بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے بنیادی ضروریات زندگی کی ارزاں نرخوں پر فراہمی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ موجودہ مہنگائی کی صورتحال کو منافع خوری‘ بلیک مارکیٹ اور رشوت نے اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ مڈل کلاس طبقہ کے لیے پیٹ بڑھنا اور تن ڈھانپنا مشکل تر ہو رہا ہے ۔گزشتہ دنوں شوگر مافیا نے جس طرح عوام کی جیبوں سے پیسے نکلوائے وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ بڑھتی مہنگائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدحالی کو روکنے کے لیے حکومت کو فوری عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ یوں بھی عوامی حکومت یا جمہوریت اسی وقت اپنے نام کی اہل قرار دی جا سکتی ہیں جب وہ عوام کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔مہنگائی کے خاتمہ کے لیے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کیا جائے ۔ ناجائز منافع خوروں‘ بلیک کرنے والوں ،رشوت خوروں اور بے ایمانوں کو عبرت ناک سزائیں ملنی چاہیے۔ عوام کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسے عناصر کی نشاندہی کریں اور ذخیرہ اندوزوں ،ملاوٹ کرنے والوں اور رشوت لینے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔ 
یہ سب باتیں لکھنے اور سننے میں بڑی دلفریب معلوم ہوتی ہیں لیکن ان پر عمل کرنا آسان نہیں لیکن عزم صمیم سے کچھ بھی ناممکن نہیں رہتا۔ ہمارے ہاں اکثر انقلاب کی باتیں کی جاتی ہیں انقلاب کا لفظ سننے میں بڑا بھلا بھی معلوم ہوتا ہے لیکن یہ لفظ جو قربانی مانگتا ہے وہ پیش کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ویسے بھی اس خطہ کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہاںکے لوگوں کی فطرت میں بحیثیت مجموعی انقلابی پن شامل نہیں ہے۔ عوام کی اکثریت اپنے مفادات کا حصول چاہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں حکومت اور اپوزیشن ہر دو‘ اپنے مفادات کے اسیر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ملک کو در پیش مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو ہاتھ ملانا پڑے گا۔ ’میں نہ مانوں ‘والی پالیسی نے پہلے بھی سیاستدانوں کو نقصان پہنچایا اور اب بھی نقصان پہنچا رہی ہے ۔ سیاست میں انا، ہٹ دھرمی اور ضد نہیں چلتی اور نہ ہی مذاکرات کے دروازے کبھی بند کیے جاتے ہیں کیونکہ مسائل کا حل بہرطور بات چیت سے ہی نکلتا ہے۔ یہ بنیادی بات حکومت اور اپوزیشن دونوں جتنی جلدی سمجھ جائیں ان کا اپنا ہی فائدہ ہے۔

مزیدخبریں